الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیرمین عمران خان،فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلا ف توہین الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت 6دسمبر تک ملتوی کردی
اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی چیرمین عمران خان،فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلا ف توہین الیکشن کمیشن کیسز کی سماعت 6دسمبر تک ملتوی کردی،سیکرٹری داخلہ نے چیرمین پی ٹی آئی کو کمیشن کے سامنے پیش نہ کرنے کے حوالے سے تحریری رپورٹ پیش کردی۔سوموار کے روز ممبر نثار درانی کی سربراہی میں کمیشن کے چار رکنی بنچ نے پی ٹی آئی چیرمین عمران خان،اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت کی اس موقع پر سیکریٹری داخلہ آفتاب درانی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ چئیرمین پی ٹی آئی کے معاون وکیل بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، کیس التوا کی درخواست کر تے ہیں یا پھرتھوڑی دیر کے لئے سماعت رکھوا لیں جس پر ممبر کمیشن نے کہاکہ اگر وکیل نے آنا ہے تو ٹھیک ہے کیونکہ ہم نے پھر حلقہ بندیوں کی بھی سماعت کرنی ہے اس موقع پر ممبر کمیشن نے کہاکہ اگرسیکورٹی خدشات ہیں تو جیل میں سماعت نوٹیفائی کرسکتے ہیں تو سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ اگر آپ جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں ہم اجازت دیتے ہیں کہ جیل میں سماعت کرلیں اس موقع پر چئیرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات کے باعث الیکشن کمیشن میں پیش نہ کرنے سے متعلق سیکریٹری داخلہ نے الیکشن کمیشن میں رپورٹ پیش کر دی ممبر کمیشن نے کہا کہ کیا جیل میں سماعت نوٹی فائی کر سکتے ہیں اور قانون اس کی اجازت دیتاہے
جس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اگر آپ جیل میں سماعت کرنا چاہتے ہیں تو ہم نوٹی فائی کر دیتے ہیں اس حوالے سے وزارت قانون سے رائے لے لیتے ہیں بعدازاں پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے انہوں نے بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی ہے اورملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ کمیشن معاملے پر مناسب آرڈر جاری کرے اس موقع پر ممبر کمیشن نثار درانی نے کہاکہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں اورجب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی اس موقع پر وکیل نے کہاکہ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں دی جارہی لیول پلینگ فیلڈ دیں انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے کمیشن کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیا ہے فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے معاملے پر ممبر کمیشن نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر فواد چوہدری کے وکیل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اسد عمر کے وکیل پیش نہ ہوئے جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر لاء نے کمیشن کو بتایا کہ اسد عمر کے وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست آئی ہے اس موقع پر فواد چوہدری کے وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ فواد چودھری جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں جس پر ممبر کمیشن نے استفسار کیا کہ فواد چودھری کس جیل میں ہیں وکیل نے بتایا کہ فواد چودھری اڈیالہ جیل میں قید ہیں
جس پر کمیشن نے کیس کی سماعت 6دسمبر تک ملتوی کردی بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی جس پر سیکریٹری داخلہ نے ایک حکم نامہ بھیجا تھا کہ سماعت جیل میں ہوگی انہوں نے کہاکہ اگر ہماری سیکورٹی ایجنسیز ایک شخص کو پروٹیکٹ نہیں کرسکتیں تو 25 کروڑ عوام کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں انہوں نے کہاکہ جب ہم کہتے تھے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ایف ایٹ ڈسٹرکٹ کورٹ میں سیکورٹی تھریٹس ہیں تو نہیں مانا گیا پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے علاوٴہ تمام سیاسی جماعتوں کو جلسوں کی کھلی اجازت ہے مگر پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی جارہی انہوں نے کہاکہ آج ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اگر کسی نے لوکی لنگڑی حکومت بنانے کی کوشش کی تو نقصان ہماری ریاست اور جمہوریت کو ہوگا انہوں نے کہاکہ اگر کوئی لولی لنگڑی حکومت بنائی گئی تو وہ چھ ماہ سے زیادہ نہیں چل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.