اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں کئی سو گنا اضافہ قطعی منظور نہیں ، اجمل بلوچ

اسلام آباد(آن لائن) آل پاکستان انجمن تاجراں اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ۔ سیکرٹری و کنوینیئر ٹریڈرز کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری۔ جی ٹین مرکز کے صدر اخلاق عباسی – آئی نائن مرکز کے صدر صفدر عباسی ، جنرل سیکرٹری ولید خالد – بہارہ کہو مرکزی صدر راجہ زاہد دھنیال – میلوڈی مارکیٹ کے صدر اظہر اقبال – آب پارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری اختر عباسی – ستارہ مارکیٹ کے صدر سید الطاف حسین شاہ – ایف ٹین مرکز کے صدر احمد خان – جی ایٹ مرکز کے جنرل سیکرٹری وسیم عباسی – سپر مارکیٹ کے صدر شہزاد عباسی – جناح سپر کے صدر اسد عزیز ، بلیو ایریا کے صدر راجہ حسن اختر – جی الیون کے صدر نعیم اختر اعوان -سٹیل مارکیٹ کے صدر عرفان چوہدری- جی ٹین فور کے صدر چوہدری ظفر اقبال گجر اور آئی ایٹ مرکز کے صدر کے راجہ فیاض گل نے کہا ہے کہ 2019 میں سی ڈی اے/ایم سی آئی نے پراپرٹی ٹیکس میں تین سو فی صد تک اضافہ کر دیا تھا جس کے خلاف اسلام آباد چیمبر آف کامرس نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

اور جسٹس محسن کیانی نے پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ کو غیر قانونی قرار دیا۔ سی ڈی اے / ایم سی آئی نے فیصلہ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی اور ابھی تک زیر سماعت ہے جبکہ اگلی سماعت 20 دسمبر کو مقرر ہے لیکن اسی دوران ایم سی آئی نے پراپرٹی ٹیکس واٹر چارجز اور سینیٹیشن چارجز میں کئی گنا اضافہ کے لئے اوپن سماعت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ 2019 کا اضافہ پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے اب اس میں بھی کئی گنا اضافہ تجویز کیا گیا ہے جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ھے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق پراپرٹی ٹیکس کا سی ڈی اے سے کوئی تعلق نہ ہے جبکہ پراپرٹی ٹیکس سی ڈی اے کے نام پر جمع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ اضافہ جولائی 2024 سے قابل عمل ہو گا جبکہ پاکستان میں جنرل الیکشن آٹھ فروری ہونگے اور اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن مارچ میں تجویز کئے گئے ہیں وقت کافی زیادہ ہے پھر جلد بازی میں کیوں فیصلے کئے جارہے ہیں۔ فیصلے کرنے والے سی ڈی اے بورڈ کے ممبران –

ریونیو ڈیپارٹمنٹ۔ ایم سی آئی کے افسران اور آئی سی ٹی کے تمام افسران کا تعلق وفاقی دارالحکومت سے نہ ہے۔ یہ لوگ اسلام آباد کے بارے میں فیصلے کرنے کے مجاز نہیں صرف منتخب بلدیاتی نمائندے ہی ٹیکس میں اضافہ کرنے کے مجاز ہونگے- انہوں نے مزید کہا کہ امپورٹڈ افسران کے مجوزہ ٹیکسوں میں کئی سو گنا اضافہ سے اسلام آباد دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں شامل ہو جائے گا اور غریب اور متوسط طبقہ کے لئے اسلام آباد میں رہائش رکھنا نہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی – چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر سے اپیل کی کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کئی سو گنا مقامی ٹیکسوں میں مجوزہ ظالمانہ اضافہ روکنے کے احکامات جاری کریں اور کوئی بھی فیصلے ہوں تو نئی منتخب حکومت اور بلدیاتی نمائندوں کے الیکشن تک موخر کئے جائیں۔ اسلام آباد کے تاجر اور شہری سخت احتجاج کریں گے.

Comments are closed.