سینیٹ اجلاس میں سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کرانے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف قرارداد پر سینٹ میں گرما گرم بحث
اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ اجلاس میں سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کرانے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف قرارداد پر سینٹ میں گرما گرم بحث ،سینیٹر دلاور خان اور رضا ربانی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔سینیٹر دلاور نے کہا کہ جس دن قرارد منظور ہوئی اس دن کیارضا ربانی سورہے تھے?سینیٹر دلاور خان نے طنزیہ شعر پڑھا ،
دو رنگی خوب نہیں یک رنگ ہو جا
سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینٹ اجلاس میں قرارداد پر بحث کے دوران رضا ربانی کے قرارداد کے خلاف اعتراض پر کہا جس دن قرارد منظور ہوئی اس دن کیارضا ربانی سورہے تھے؟ اگر کورم پورا نہیں تھا تو نشاندہی کیوں نہیں کی؟ سینیٹر دلاور خان نے شعر پڑھا دو رنگی خوب نہیں یک رنگ ہو جا سراپا موم ہو یا سنگ ہو جا،سینیٹر دلاور خان کے طنزیہ انداز میں شعرجب میں قرارداد پڑھ رہا تھا تو میرے پر ممبرز آوازیں کس رہے تھے،سینیٹر دلاورخان نے کہا کہ یہ ایوان سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر مشتاق کی مرضی سے نہیں چل سکتا،سینیٹر دلاورخان نے کہا کہ ایک لکڑی جیسے منہ والا اینکر میری انگریزی کا مذاق اڑا رہا تھا،ہم پٹھان ہیں ہماری اردو اور انگریزی ایسی ہی ہوتی ہے،سینیٹر رضا ربانی نے وضاحت کہا گیا کہ میں نے بل کو ووٹ دیاجو اس وقت درست تھا اب قرارداد کی مخالفت کررہا ہوں،سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ پارٹی کے ڈسپلن کا پابند ہوں اس لئے حمایت میں ووٹ دیا،سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ آئینی ترمیم کو ووٹ دینے کے اقدام پر اس وقت بھی شرمندہ تھااج بھی اس پر شرمسار ہوں،پاکستان کے عوام کے آئین میں حقوق ہیں،سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا آئین کی روح کے خلاف ہے،انفرادی رائے کے بجائے جو اکثریت کہے گی وہ اس ہاوٴس کی رائے ہوگی،سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کا معاملہ اب زیر بحث ہے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف منظور قرارداد کے موور سینیٹر دلاور خان اور سینیٹر رضا ربانی آمنے سامنے آگئے۔ ?رضا ربانی نے کہا کہ ماضی میں پارٹی لائنز کے مطابق فوجی عدالتوں کی حمایت کی، فوجی عدالتوں کی حمایت پر اس وقت بھی اور اب بھی شرمندہ ہوں۔چئیرمین سینٹ نے کہا کہ معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا اس پر اب مذید بحث نہیں ہو سکتی اس لیے اس معاملے پر ابھی بحث نہ کی جائے۔
Comments are closed.