پاک ترک ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پروگرام میں اہم پیشرفت

اسلام آباد (ٓآن لائن)پاک ترک ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پروگرام میں اہم پیشرفت، دفاٰعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک ترک ٹی ایف ایکس فائٹر جیٹ کی آئندہ ماہ پہلی پرواز کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، ترک ایرو اسپیس انڈسٹری میں شیڈول کے مطابق ٹی ایف ایکس فائٹر جیٹ کی آئندہ ماہ پہلی پرواز طے ہے۔

کسی بھی طیارے کی پہلی پرواز پروڈکشن فیز میں بڑی ہی اہمیت کی حامل اور ٹھوس پیشرفت کی جانب اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے، پاکستان اور ترکی کا ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پراجیکٹ ٹی ایف ایکس طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، دفاٰعی ذرائع کے مطابق دسمبر 2023 میں شیڈول کے مطابق ٹی ایف ایکس کی پہلی پرواز 2030 میں طیارے کو آپریشنل کرنے کی جانب اہم قدم ہوگی۔پاکستان ترک ایرو اسپیس انڈسٹری کے "ٹی ایف ایکس” طیارے کے پروگرام کا باضابطہ حصہ بن چکا ہے۔”ٹی ایف ایکس” طیارے نے رواں برس اپنی پہلی ٹیکسی کی تھی۔ٹی ایف ایکس اسٹیلتھ طیارےمیں امریکی ساختہ جنرل الیکٹرک ایف ون ٹین انجن استعمال کئے جائیں گے۔

امریکہ کے اعتراض کی صورت میں پاکستان کے پاس برطانوی ساختہ رولز رائس انجن کا آپشن بھی موجود ہے، ذرائع کے مطابق پاک ترک ففتھ جنریشن طیارہ 21 میٹر طویل اور اس کے پروں کا پھیلائو 14 میٹر تک ہو گا،طیارے کا ٹیک آف وزن 27 ہزار 215 کلو گرام، زیادہ سے زیادہ رفتار ماک 1.8 جبکہ کومبیٹ رینج 1100 کلومیٹر ہو گی، ہ ٹی ایف ایکس طیارے کی سروس سیلنگ 55 ہزار فٹ تک ہو گی۔طیارے پر فضا سے فضا میں مار کرنے والے بی وی آر میزائلز کے ساتھ فضا سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل بھی نصب کئے جائیں گے،جدید AESA ریڈار کے ساتھ ایڈوانسڈ کاک پٹ جدید حربی تقاضوں کے مطابق دشمن کو پچھاڑنے کی صلاحیت دے گا۔

پاکستان اس وقت ترکی کے ساتھ نہ صرف ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر جیٹ بلکہ بغیر پائلٹ کے فضائی پلیٹ فارمز کی بھی مشترکہ پیداوار پر کام کر رہا ہے۔ترک نائب وزیر دفاع کے مطابق 200 کے قریب پاکستانی ماہرین پہلے ہی ٹی ایف ایکس پراجیکٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔پاکستان اور ترکی دہائی کے آخر میں اپنے ایف سکسٹینز کو بتدیج فیز آئوٹ کرنے کے بعد ٹی ایف ایکس فائٹر کو اپنی فضائِی افواج کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔پاک فضائیہ کا نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک ٹی ایف ایکس پراجیکٹ میں متحرک کردار ادا کرے گا۔

Comments are closed.