عمران خان ،بشری بی بی غیر شرعی کیس :آخری گواہ لطیف نے بیان عدالت میں ریکارڈ کرادیا
اسلام آباد(آن لائن)سابق چیئرمین تحریک انصاف ا ور بشری بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کے چوتھے اور آخری گواہ کا بیان سامنے آگیا،گواہ محمد لطیف نے عدالت کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ خاور فرید مانیکا کے ساتھ گزشتہ 35 سال سے گھریلو ملازم ہوں، پرانا ملازم ہوں اس لئے ان کا مجھ سے کسی قسم کا پردہ نہیں ہے،ان کے بچے بھی میرے ہاتھوں میں پلے ہیں اور میں ان کے گھر کے فرد کی طرح ہوں،خاور مانیکا کے پاکپتن شریف، لاہور اور اسلام آباد بنی گالہ میں گھر ہیں،
خاور مانیکا کسٹم میں ملازم تھے اور مختلف جگہوں پر ان کی پوسٹنگ، تبادلے ہوتے رہتے تھے، خاور مانیکا کی فیملی لاہور یا اسلام آباد میں رہتی تھی، انہوں نے مزید بتایا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے مانیکا کے بنی گالہ گھر 2015 میں آنا جانا شروع کیا،2015 میں کبھی کبھار، 2016، 17 میں خاور مانیکا کے گھر آنا جانا زیادہ ہو گیا،عمران خان ہمیشہ خاور مانیکا کی غیر موجودگی میں ان کے گھر آتے تھے،خاور مانیکا نے جب بشری بی بی سے بات کرنی ہوتی تو ان کے فون پر کال کرتے، جب بشریٰ بی بی کا فون بند ہوتا تو میرے نمبر پر کال کرتے اور میں ان کی بات کرواتا،اس سلسلے میں جب ایک دن اندر گیا تو سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی ڈرائینگ روم میں نہیں تھے، دونوں ایک کمرے میں موجود تھے، کمرے کے اندر گیا تو دیکھا سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی قابل اعتراض حالت میں تھے، دونوں کو 3، 4 دفعہ قابل اعتراض حالت میں دیکھا ،پہلی مرتبہ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تو میری پاوٴں کے نیچے سے زمین نکل گئی، خاور مانیکا کو اطلاع دی،ان واقعات کے بعد خاور مانیکا کی اور بشری بی بی کی آپس میں لڑائیاں شروع ہوگئیں، 2017 کے آخر میں خاور مانیکا نے بشری بی بی کو طلاق دے دی،میں نے کئی دفعہ عمران خان صاحب کو خاور مانیکا کے فون آنے پر اور ان کے کہنے پر گھر سے بھی نکالا،کئی دفعہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو بشری بی بی کے ساتھ ڈرائینگ روم میں نازیبا حرکتیں کرتے بھی دیکھا تھا، جب خاور مانیکا کی بات کروانے بشری بی بی کے پاس اندر جاتا تو کئی مرتبہ مجھے ڈانٹ بھی پڑتی تھی،انہوں نے کہا کہ اگر خاور مانیکا نہ ہوتے تو شاہد مجھے بشری بی بی نوکری سے بھی نکال دیتیں
Comments are closed.