عائشہ منزل پر فرنیچر کی دکانوں میں آتشزدگی، 3 افراد جاں بحق

کراچی (آن لائن )کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر فرنیچر کی دکانوں میں آگ لگ گئی، جس نے رہائشی عمارت کو بھی لپیٹ میں لے لیا، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا، کولنگ کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت میں آگ لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک زخمی ہے۔عینی شاہد کا کہنا ہے کہ آگ درزی کی دکان میں رکھے سلنڈر سے لگی، پہلے سلنڈر لیک ہوا، پھر آگ بھڑک اٹھی، پہلے سلنڈر لیک ہوا، پھر آگ بھڑک اٹھی، جس دکان میں آگ لگی سب سے پہلے وہی دکاندار جھلس گیا، جتنی دیر میں ایک واٹر کولر میں پانی بھر کر لائے، آگ پھیل چکی تھی۔ایک اور ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ عمارت میں 250 سے زائد دکانیں اور تقریباً 450 رہائشی فلیٹ ہیں۔ آگ مارکیٹ کی پہلی گلی میں لگی، جہاں کپڑے کی دکان ہے۔ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 300 سے زائد افراد کو نکالا گیا ہے، خدشہ ہے کہ متاثرہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔دکاندار کا کہنا ہے کہ سلینڈر لیک ہوا اس میں آگ لگ گئی پھر دھماکے سے پھٹ گیا، عمارت کے باہر کھڑی گاڑیاں بھی جل چکی ہیں۔ تمام فلیٹس سے لوگوں کو نکال دیا گیا ہے۔متاثرہ عمارت کی رہائشی خاتون الماس کا کہنا ہے کہ میں عمارت کی چوتھی منزل پر رہائش پذیر ہوں، ہم تمام لوگ محفوظ ہیں، ہمیں بروقت باہر نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی، جس کے بعد تمام لوگ اپنے بچوں سمیت عمارت سے باہر اگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چوکیداروں کی مدد سے بلڈنگ سے نکل آئے،جو بھی ہاتھ میں آیا فلیٹ سے نکلا، قریبی عمارتوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔الماس کے ساتھ ایک اسپیشل بچہ بھی موجود تھا جسے با حفاظت باہر نکال لیا گیا ہے، خاتون کا کہنا ہے کہ میں 20 سال سے اس بلڈنگ میں رہائش پذیر ہوں، اگ لگنے کے بعد ہم قریبی ہوٹل پر بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں سب لوگ خیریت سے ہیں۔متاثرہ عمارت میں موجود ایک دکاندار وحید کا کہنا ہے کہ ان کی میز نائن فلور پر دکان ہے، اگ لمحوں میں پھیل گئی، مارکیٹ میں دھواں پھیلتا دیکھ کر میں بھی فوراً اپنی دکان سے واپس اگیا، لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد سے تمام افراد کو باہر نکالا، جس کی وجہ سے کسی جانی نقصان کے نہ ہونے کی اطلاع ہے، اوپر عمارت کے رہائشیوں کو بھی باہر نکال لیا گیا ہے۔اس حوالے سے فائر افیسر ہمایوں خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 6 فائر ٹینڈر اگ بجھانے میں مصروف ہیں، اسنارکل کو بھی طلب کرلیا گیا ہے، اگ عمارت کی چوتھی منزل تک پہنچ چکی ہے۔ترجمان واٹرکارپوریشن کا کہنا ہے کہ نیپا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔چیف ایگزیکیٹو ا?فیسر (سی ای او) واٹر کارپوریشن صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ متاثرہ مقام پر متعدد ٹینکرز روانہ کردیے ہیں، انچارج ہائیڈرنٹس سیل فائر بریگیڈ حکام سے مکمل رابطے میں ہے، آگ پر مکمل قابو پانے تک فائر بریگیڈ کو پانی کے ٹینکرز دیں گے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ اف پولیس (ایس ایس پی) ضلع وسطی کا کہنا ہے کہ عمارت سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت میں لوگ موجود ہیں، انہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، فائر بریگیڈ کی مزید گاڑیوں کو طلب کیا جا رہا ہے۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے عائشہ منزل پر فرنیچر کی دکان اور بلڈنگ میں آگ لگنیکا نوٹس لے لیا ہے۔گورنر سندھ نے بلڈنگ کے اندر موجود افراد کے بحفاظت انخلاء یقینی بنانیکی ہدایت کی ہے۔گورنر سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئیکار لائے جائیں۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ اگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کا عملہ موجود ہے، عمارت میں اس وقت کتنے لوگ ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، فائر سیفٹی کیلئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری کوشش ہے کہ اگ کو مزید پھیلنے سے روکیں۔

Comments are closed.