جھوٹے و بے بنیاد مقدمات میں بری ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے سرخرو کیا ،نوازشریف
اسلام آباد :مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں بری ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے سرخرو کیا ،سچی خوشی تب ملے گی جب عوام خوشحال ہونگی ،نواز شریف جو کہتا ہے اللہ پر پختہ ایمان رکھ کر کہتا ہے اور کرکے دکھاتا ہے ،مجھ سے دشمنی کی گئی مگر میرا سوال ہے کہ میری عوام سے کیوں دشمنی کی گئی ان کو کس چیز کی سزا دی گئی ،آج جھوٹ ، فریب کی قلعی کھل گئی ،میں ہر بار پاکستان کو بہتر حالت میں چھوڑ کر گیا مگر ہمارے بعد ملک اور عوام کو اندھیروں اور مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ،عوام کی دعاؤں نے ہمیشہ مجھے سہارا دیا ،مجھے جھوٹی سزا دینے والے تمام جھوٹے کردار آج بے نقاب ہوچکے ہیں ،میرے ہم وطنوں آپ خود جج ہیں کسی عدالت نہیں جانا کسی کو درخواست نہیں دینی آپ خود مصنف ہیں آپ آٹھ فروری کو ایک خوشحال پاکستان ترقی یافتہ پاکستان اور اپنی بریت کا فیصلہ خود کرینگے۔ اپنے عوام سے خصوصی خطاب میں میاں نوا ز شریف کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی مشکلات میں میرے ساتھ رہے اور ایک لمحے کیلئے بھی جھوٹے پروپیگنڈے کا ساتھ نہیں دیا
آپ کے ساتھ اور دعاؤں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا آپ کا بہت بہت شکریہ آپ سب سے بھی مبارکباد کے مستحق ہیں میری جماعت کا ہر رکن اور رہنما مبارکباد کا مستحق ہے اپنے ساتھ زیادتی کی کہانی بیان کروں تو وقت کم پڑھ جائے گا یہ سلسلہ 2014ء کے دھرنوں سے شروع ہوا پھر مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کردیاگیا تاحیات پابندی لگادی گئی کس طرح ایک جے آئی ٹی کیلئے تین رکنی بینچ بنایا گیا کس طرح ایک جھوٹی پٹیشن پر کارروائی شروع کردی گئی مجھے سسیلین مافیا کہا گیا اور کس طرح سپریم کورٹ کا ایک جج جس نے مجھے سزا دی تھی احتساب عدالت پر خود بیٹھ گیا کس طرح مطلوبہ فیصلے کرنے کیلئے سینئر ججز کے ذریعے دھمکیاں دی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بزرگوں بہنوں بھائیوں سب باتیں ریکارڈ پر آچکے سارے چہرے بے نقاب ہوچکے حق اور سچ کی گواہیاں سامنے آگئیں جو ہمارے وہم گمان میں بھی نہیں تھیں میں زندگی کے ہر لمحے میں اپنی اہلیہ کے پاس آخری وقت نہیں تھی اپنی والدہ کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکا اللہ ہمیں یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی توفیق دے آخر کار میری بے گناہی ثابت ہوگئی یہ کھلی ناانصافی کا ازالہ ہے جس کا مجھے نشانہ بنایا گیا میں نہ اپنے آپ کو کئی سال پیچھے لے جاسکتا ہوں نہ اپنے پیاروں کو واپس لاسکتا ہوں ۔ نواز شریف نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ جھوٹ کی قلعی کھل گئی اور سچ سامنے آگیا میرے وطن کے باسیوں میں سوچتا رہا مجھ سے دشمنی کرنے والے کا میرے وطن سے کیا دشمنی تھی میرے عوام سے کیا دشمنی تھی اگر مجھے جھوٹے مقدمات میں سزا دلوانا ضروری تھا تو پاکستان اور عوام کو کس چیز کی سزا دی گئی ترقی کا راستہ کیوں روک دیا گیا اس پاکستان کو کیوں سزا دی گئی جہاں اندھیروں کا خاتمہ ہوگیا تھا ہم نے آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ دیا تھا اس پاکستان کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا جہاں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کردیاگیا
ہم نے ذمہ داری پوری کی آپ کی خاطر آپ کے بچوں کی خاطر آج سی پیک کا پروجیکٹ دینے کے باوجود سرمایہ کاری کیوں رک گئی اس پاکستان کو پھر دہشتگردی کا گڑھ بنا دیاگیا جہاں سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا ہم نے روپے کی قدر کو کیوں مٹی میں ملا دی گئی جو خطے میں سب سے زیاد ہ مستحکم تھی اس پاکستان کو کیوں تنہا کردیا گیا جو خطے اور دیگرممالک کا سرگرم رکن تھا میں سوچتا ہوں روتا ہوں کہ آپ کا کیا قصور تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ سنگین آپ کو سزائیں دی گئیں مہنگائی کا لقمہ بنا دیاگیا اور تین اور چار فیصد کی مہنگائی کو چالیس فیصد تک پہنچا دیا گیا جو روٹی پانچ روپے میں ملتی تھی وہ بیس اور پچیس تک کس نے پہنچا دی ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ مجھے سزا دینی تھی دے دی گئی مگر آپ کا آٹا آپ کی دالیں آپ کی دوائیں کس نے چھین لی نوجوانوں کو روزگار سے کیوں نکال دیا گیا مجھے تو جیل میں ڈال دیا مگر آپ کو کیوں سزا دی گئی آپ کے گھروں کے چولہے کیوں بجھا دیئے گئے آپ کو صحت کی سہولتوں سے کیوں محروم کردیاگیا اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے مجھے سرخرو کیا میرے خلاف تمام مقدمات جعلی اور فیک نکلے مجھے اصل خوشی تب ہوگی جب آپ کو خوشی ملے گی جب میری ماؤں ، میرے بچوں میرے بزرگوں میرے نوجوانوں کی سزائیں ختم ہوگیں روزگار ملے گا ، مہنگائی ختم ہوگی بلوں کے عذات سے نجات ملے گی قرضوں سے نجات ملے گی ہمارے دور میں علاج اور دوائیں مفت ملتی تھیں میں جو کہتا ہوں اللہ پر پختہ ایمان سے کہتا ہوں اور میں جو کہتا ہوں اللہ کے فضل سے کرکے دکھاتا ہوں 1990ء اور 2013ء میں جب پاکستان کا اقتدار سنبھالا تو ملک کی حالت ٹھیک نہیں تھی مگر اللہ نے میرا ساتھ دیا اور میں سرخرو ہوا ۔ نواز شریف نے کہا کہ میرے ہم وطنوں آپ خود جج ہیں کسی عدالت نہیں جانا کسی کو درخواست نہیں دینی آپ خود مصنف ہیں آپ آٹھ فروری کو ایک خوشحال پاکستان ترقی یافتہ پاکستان اور اپنی بریت کا فیصلہ خود کرینگے خود ہی آپ نے اپنی سزاؤں کا خاتمہ کرنا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آپ اپنی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں
Comments are closed.