پیپلز پارٹی پرانی سیاست کو دفن کر دیگی ، بلاول بھٹو زرداری

گڑھی خدا بخش( آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پرانی سیاست کو دفن کر دے گی ، ہم ان میں سے نہیں جو الیکشن کی تاریخ آگے بڑھاتے ہیں اور کاغذات نامزدگی چھین کر بھاگتے ہیں اس بار بھی ہم ڈٹ کر لڑیں گے اور جیتیں گے، کچھ قوتوں نے سوچا کہ بے نظیر کو ختم کرکے پیپلز پارٹی کو ختم کردیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوسکا اور پیپلز پارٹی آج بھی قائم ہے ،ہمارا ہی مطالبہ تھا کہ الیکشن کراؤ ، ہم چاہتے ہیں الیکشن ہوں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی سولہویں برسی کے موقع پر منعقد ہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی کے دس نکاتی انتخابی منشور کا بھی اعلان کیا اور کہا اگر اقتدا ر میں آئے تو تنخواہوں میں دوگنا اضافہ ، نوجوانوں کیلئے یوتھ کارڈ پروگرام، کسانوں کیلئے کسان کارڈ اور غربت کے خاتمے کیلئے غربت مکاؤکارڈ جاری کرینگے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں وسعت د ی جائیگی ، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے سولر انرجی سکیم ، پورے ملک میں فری تعلیم کی رسائی، کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق، بے گھر افراد کیلئے ہاؤسنگ سکیم دینگے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ہم شہید بے نظیر بھٹو کی 16ویں یوم شہادت منا رہے ہیں اور آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے گڑھی خدا بخش میں جمع ہوکر پوری دنیا کو پورے پاکستان کو ایک ہی پیغام بھیجتے ہیں کہ زندہ ہے بی بی بی زندہ ہے ۔سولہ سال پہلے کچھ قوتوں نے سوچا کے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کرکے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کردینگے جمہوریت کی آواز کو دبا دینگے وہ کسان کا مظلوم کا جوانوں کا ماؤں بہنوں کی آواز دبا دینگے مگر سولہ سال بعد بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ آپ ہمارے قائدین کو شہید کرسکتے ہیں مگر آپ بھٹو کے نظریے کو نہیں مار سکتا اور آج بھی بھٹو کے جیالے ان قوتوں کو لکارتے ہیں کہ ہم اپنے شہداء سے وفا کرتے ہیں قربانیاں دیتے ہیں او ردیتے رہیں گئے مجھے آپ پر فخر ہے ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت ہے جو اس ملک کو بچا سکتی ہے تو وہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ہے ساتھیوں ہم نے شہید بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی کافی کامیابیاں حاصل کی جو بے نظیر بھٹو کی تیس سالہ جدوہد تھی اس میں اٹھارہویں ترمیم کی بحالی وہ بے نظیر بھٹو اور قائد عوام کا خواب تھا اور غریب عوام کو طاقت ور بنانا ہے اور این ایف سی ایوارڈ سے وہ بھی کروادیا ، روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا تو صدر آصف علی زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کرکے وہ بھی پورا کردیا ۔ہم نے کہا تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے تو وہ مشرف آمر کونکال کر جمہوریت بحال کی اور اپنا انتقام جمہوریت سے ہی لیا یہ ہماری کامیابیاں ہمارے شہداء کی بدولت ہیں آج پاکستان جس مشکل میں ہے عوام جس مشکل میں ہے دکھ میں ہیں اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں ایک بار پھر اس ملک میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت بنانی ہے تاکہ ہم عوامی راج قائم کریں مزدوروں کا راج ہو کسانوں راج ہو اور اس مشکل سے صرف پیپلز پارٹی ہی نکال سکتی ہے

انہوں نے کہا کہ اس وقت بے روزگاری مہنگائی عروج پر ہے ان تمام مسائل کا حل صرف قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا دیا ہوا منشور ہے میں آج بھی کہتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سیاستدان سے نہیں ہمارا مقابلہ مہنگائی ، غربت ، بے روزگاری سے ہے اور انشاء اللہ اللہ نے ہمیں موقع دیا تو ہم ان تمام مسائل کا مقابلہ کرکے ان کو حل کردینگے ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی جو شہداء کی جماعت ہے انشاء اللہ تمام صوبوں کو انقلابی منشور دینگے الیکشن لڑینگے ہم الیکشن کو مقابلہ سمجھتے ہیں ڈرتے نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں اور انشاء اللہ اس سال بھی ہم ڈٹ کر مقابلہ کرینگے اور جیتیں گئے ہم ان میں سے نہیں جو الیکشن سے بھاگتے ہیں جو اپنے مخالفین کے کاغذات نامزدگی چھینتے ہیں ہم نے اس وقت بھی الیکشن لڑا جب اپنے قائدین کو دفن کررہے تھے آج بھی تیار ہیں ہمارا یہی مطالبہ تھا کہ الیکشن کراؤ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو ڈرامہ چل رہا ہے پاکستان کے عوام تیز پر مہر لگا کر ان کو منہ توڑ جواب دینگے اور اپنے حقوق بچائینگے ۔باقی تمام سیاسی جماعتوں کیلئے ہمارا پیغام ہے کہ آؤ الیکشن لڑو کسی کے کندھوں پرچڑھنے کی کوشش نہ کرو ماضی میں بھی تم ایسا کرتے رہو ہو ہمیں قائد عوام نے بتایا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں صرف عوامی راج سے ہی ملک ترقی کرسکے گا باقی جماعتیں پرانی ہوچکی ہیں سیاستدان بوڑھے ہوگئے ہیں ماضی کے سیاست دان ہیں مستقبل آج آپ کا ہے نوجوانوں کا ہے پیپلز پارٹی تقسیم اور نفرت کی سیاست ختم کرکے اس ملک کی قسمت کو بدل دیگی ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے سولہ سال پہلے یہ صرف شروع کیا تھا جب میں انیس سال کا تھا تو محترمہ کو شہید کیا گیا تو آپ نے مجھے ہی کہا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنا اور آپ کی خواہش پر یہ عہدہ سنبھالا ہر مشکل وقت میں جدوجہد کی اگر ہم جمہوریت کی بحالی کیلئے عمرانی حکومت کا اس لئے مقابلہ کیا کہ ہم نے دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا تھاپاکستان کو بچانا تھا جمہوریت بچانی تھی مگر اٹھارہ مہینے ہم نے ان کے ساتھ حکومت تو کی مگر جہاں تک معیشت اور دہشتگردی کا مسئلہ ہو جمہوریت کا مسئلہ ہو ہمارے اتحادیوں کی کوئی دلچسپی نہیں تھی انہیں اپنی پڑی تھی ہم نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے کہ پیپلز پارٹی کا راستہ الگ ہے تیر کے نشان پر لڑینگے اور تمام سیاسی جماعتوں کا مقابلہ کرے گی ہم اپنے نظریے اپنے کارکنوں کے نظیرے کے مطابق عوام دوست حکومت ضرور بنائینگے ۔ آج جس مشکل میں پاکستان کے عوام ہیں آج بھی ان کا مقابلہ کرنے کیلئے یکجہتی کی ضرورت ہے ریاست میں جمہوریت اور نظام میں یکجہتی کی ضرورت ہے غربت کا مقابلہ کرنے کیلئے دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اختلافات ختم کرکے عوام کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی جو ہمارے مخالفین ہیں جو پرانی جماعتوں کے پرانے پرانے سیاستدان ہیں وہ تقسیم کی سیاست کررہے ہیں ایک جیل سے نکلنا چاہتا ہے دوسرا جیل سے بچنا چاہتے ہیں عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں عوام کو مہنگائی سے بچنا ہے بے روزگاری سے بچنا ہے اور انشاء اللہ پاکستان کے عوام صرف اس جماعت کو ووٹ دینگے جو ان کے ساتھ سنجیدہ ہے وہ جماعت صرف پیپلزپارٹی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے ہمیں حکومت دی تو تقریباً دس ایسے کام ہیں جو میں کرنا چاہتا ہوں جو ہماری ترجیح ہوگی ان پر عملدرآمد ہوتا ہے تو انشاء اللہ پاکستان کے تمام مسائل حل کردینگے سب سے پہلے ہم اپنے عوام کی تنخواہوں میں ڈبل کردیں تاکہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کرسکے اور یہ کام پیپلز پارٹی کرکے دکھائی گی دوسرا کام جہاں بجلی کی بات ہے تو آج لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوتی اور بل عوام کی نیندیں اڑا دیتی ہے میرا آپ سے وعدہ ہے کہ ہماری حکومت آئی گی تو ہم غریب ترین عوام کیلئے تین سو یونٹ کا سولر بجلی حکومت لگا کر دے گی اور ساتھ ہر ضلع میں گرین انرجی کے نام سے فارم کھولیں گئے وہ تمام سولر انرجی دے کر کم قیمت پر بجلی دینگے ،تیسرا جو قائد عوام اور بے نظیر کا وعدہ تھا کہ تعلیم سب کیلئے ہم اپنے نوجوانوں کیلئے تعلیمی اداروں کو نہ صرف فعال کرنا ہے بلکہ ایسے منصوبے لائینگے جس سے ہمارے بچوں نوجوانوں کو جدید تعلیم مل سکے ،ہم ہسپتال بنائنیگے جہاں مفت علاج ہونگے پرائیویٹ سیکٹر سے مل کر غریب عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کرینگے ملک کے کونے کونے میں مفت طبی سہولیات فراہم کرینگے ، اگر قائد عوام نے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا تو وہ صرف نعرہ نہیں تھا انہوں نے اس پر عمل بھی کیا پانچ مرحلہ سکیم میں گھر بھی دیئے شہید بے نظیر بھٹو نے سات مرحلہ سکیم شروع کی غریب عوام کو مکان دلائے میں نے سیلاب متاثرین سے وعدہ کیا کہ میں بیس لاکھ مکان بنا رہا ہوں اپنی زمین اپنے گھر سکیم کے نام سے جہاں ان کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دیئے جائینگے ،

صدر زرداری نے جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تو ہمارے مخالف اس کا مذاق اڑاتے تھے اور آج تمام دنیا اور ہمارے مخالف مانتے ہیں کہ یہ انقلابی پروگرام ہے ہم بے نظیر بھٹو انکم سکیم میں معاوضے میں اضافہ کرینگے اور اس میں وسیلہ حق وسیلہ روزگار بھی شامل کرکے غربت کا مقابلہ کرینگے ، ہم کسان اپنے ہاریوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ہمیشہ نعرہ رہا کسان خوشحال ملک خوشحال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح کسان کارڈ شروع کرینگے چھوٹے زمینداروں اور ہماریوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دینگے ایسے ہی ہم اپنے مزدوروں اور محنت کشوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ جیسے قائد عوام نے حقوق دیئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے حقوق دیئے صدر زرداری نے حقوق دیئے ایسے ہی ہم تمام مزدوروں کو بے نظیر مزدور کارڈ میں رجسٹرڈ کرائینگے جو گھروں میں کام کرتے ہیں فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں ان کو سوشل سییکیوٹی دینگے صحت اور تعلیم کیلئے ان کے بچوں کیلئے بے نظیر کارڈ مہیا کرینگے ،ہم نے ساتھ ساتھ اپنے نوجوانوں سے وعدہ کیا ہے کہ ہم کسانوں اور مزدوروں کو مالی مدد دے سکتے ہیں تو ستر فیصد آبادی والے نوجوان بھائیوں او ربہنوں سے وعدہ ہے کہ ہم انشاء ہم یوتھ کارڈ سے ان کی مدد کرینگے روزگار میں معاونت کرینگے ایک سال کیلئے ان کو مالی معاونت دینگے ہماری خواہش ہے کہ ہر ضلع میں نوجوانوں کیلئے یوتھ سنٹر بنائیں تاکہ نوجوان وہاں جا کر پڑھائی کرسکیں انٹرنیٹ کی مفت سہولت میسر کرسکیں ووکیشنل سکیل بھی سکھائے جائینگے آئی ٹی کی تعلیم بھی دینگے روزگار کے مواقعوں کیلئے بھی ٹریننگ دی جائے گی اور آخر میں جو ہمارا وعدہ ہے ہمارا خواب ہے تو اس کیلئے ہم نے بھوک مٹاؤ پروگرام شروع کرینگے جس سے غربت اور بھوک کا مقابلہ کرینگے اور غربت کا خاتمہ کرینگے اس کے لئے آپ نے آٹھ فروری کو تیر پر مہر لگا کر پیپلز پارٹی کو فتح دینا میں سندھ خاص کر کراچی کے عوام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہر بار ہمارے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا بلدیاتی انتخابات ہو یا وفاق کے یا صوبائی سندھ کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور ہمارے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دیا ۔

Comments are closed.