ملک کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اقدامات اٹھانے ہوں گے،شہزاد وسیم
اسلام آباد(آن لائن ) اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اقدامات اٹھانے ہونگے اور اس مقصد کیلئے ہر قسم کے اختلافات کو بلا کر صرف اور صرف ملک کی بہتری کیلئے سوچنا ہوگا۔
منگل کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران نکتہ اعراض پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزا د وسیم نے کہاکہ نئے سال کی شروعات کے موقع پر ہمیں سابقہ غلطبیوں کو نہ دہرانے کا عہد کرنا چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت انتخابات کا وقت ہورہا ہے اور بدقسمتی سے ملک میں انتخابات کا عمل ہمیشہ سے تنازعات کا شکار رہا ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات مقابلے کا نام ہے اور اس میں سب سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع ملنے چاہیے انہوں نے کہاکہ ہمیں کچھ معاملات پر جماعتی وابستگیوں سے اوپر ہو کر بات کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر دہشت گرد وں کا حملہ ہوا ہے اس وقت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر آئی ہوئی ہے اس ملک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت انتخابات کے دور میں ہوئی اسی طرح اے این پی نے انتخابات کے دوران بہت نقصان اٹھایا ہے انہوں نے کہاکہ اسیا نہ ہوکہ ایک جانب جنازعے اٹھائے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب انتخابات ہوتے ہیں ہم نے سیاست کو اس ملک میں ایک ماحول بنانے کیلئے رکھنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا اگر ہم دوسروں کی غلطبیوں کو یاد کریں گے تو دائروں کا سفر کبھی ختم نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ انتخابات میں مقابلہ جنگ نہیں بلکہ ایک مسابقت ہے اس کو دشمنی کی سطح تک نہیں لے جانا چاہیے انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے اپنا منشور پیش کریں اگر انتخابات اصل روح کے مطابق نہ ہوں تو آنے والے انتخابات بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے انہوں نے کہاکہ ہمیں مستقبل کیلئے راہیں متعین کرنی ہونگی انہوں نے کہاکہ اسیاسی میدان بڑا پیچیدہ میدان ہوتا ہے اس میں کبھی گالیاں اور کبھی تالیاں ہوتی ہیں
انہوں نے کہاکہ انتخابات کا براہ راست اثر پاکستان کے عوام پر ہوتا ہے ہر سیاسی جماعت اقتدار چاہتی ہے مگر اپنے منشور اور پروگرام کی بات کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں کرتی ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات کے بعد جو بھی حکومتیں آتی ہیں ہمیں مستقبل میں اپنی غلطبیوں کی تلافی کرنی ہوگی انہوں نے کہاکجہ جو حکومت 5سال کیلئے آتی ہے اس کی ترجیحات اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانا اور 5سال پورے کرنا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر 3سال بعد ہم لڑنا شروع کردیتے ہیں انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو سر جوڑ کر ان مسائل کیلئے بیٹھنا ہوگا اور یہ ناممکن بات نہیں ہے یہ اس ملک میں ہوچکا ہے ہمیں وقت کے تقاضوں کے مطابق نئی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا اگر ہمیں ملک اور عوام کو دیکھنا ہے تو پہلی ترجیح معاشی استحکام ہونا چاہیے اور قومی ترجیحات کا تعین انتخابات سے بالا تر ہوکر کرنا پڑے گا تب ہی ہم اس ملک کو آگے لیکر جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔اعجاز خان
Comments are closed.