سینیٹ اجلاس میں وزراء کی عدم موجودگی :معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت،سوالات موخر
اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین سینیٹ نے وقفہ سوالات میں وفاقی وزرا کی عدم موجودگی کا معاملہ وزیر اعظم کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے سوالات اگلے اجلاس تک موخر کردئیے جبکہ وفاقی دارلحکومت میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت سمیت کئی معاملات متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردئیے ۔منگل کے روز سینیٹ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ ملکی معیشت کی خرابی کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ 25کروڑ لوگوں کا ملک بنیادی مسائل کا شکار ہے حکومت اپنی کوشش کرتی ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات کی جانب جارہے ہیں اور ملک کی معاشی سمت کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتیں اپنی تجاویز پیش کریں سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ خشکی کے راستے جو لوگ جاتے ہیں وہ انسانی سمگلروں کے ہاتھوں چڑھ جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ انسانی سمگلروں کی وجہ سے یونان جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں اس کے سدباب کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں جس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ کرپشن کی وجہ سے یہ مسائل رونما ہوتے ہیں سیاسی جماعتیں اس کا حل تجویز کریں سینیٹر نذہت صادق کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہاکہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے اگاہی مہم چلا تی ہے تاہم جب تک معاشی حالات تبدیل نہیں ہونگے ایسے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں سینیٹر مشتاق احمد کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ ہماری عدلیہ غریب کے ٹاؤر تو گرا دیتی ہے مگر پاکستان کی اشرافیہ کے کلب کیلئے مراعات کئی سالوں سے چلتی ہیں انہوں نے کہاکہ میں اس معاملے کو معلوم کرونگا جس پر چیرمین سینیٹ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا سینیٹر بہرہ مند تنگی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ 21ممالک کے ساتھ پاکستان کی دوہری شہریت کے معاہدے ہیں سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں لاکھوں پاکستانی ہیں ان کے ساتھ پاکستان کا معاہدے سے ملک کو فائدہ ہوگا جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھوں گا سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ دوہری شہریت کے حامل افراد پر انتخابات لڑنے کی پابندی ہے سینیٹر فوزیہ ارشد نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے خلاف اس وقت کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ہے جب یہ سوسائٹیاں این او سی لینے میں ناکام ہوتی ہیں جس پر چیرمین سینیٹ نے معاملے کو اہمیت کے پیش نظر متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا سینیٹر مشتاق احمد خان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ اسلام آباد میں پانی کے شدید بحران کا مسئلہ درپیش ہے اور زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ ایسے علاقوں کیلئے پانی کے انتظامات کرنے پڑیں گے جہاں پر زیر زمین پانی نہیں ہے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ پینے کے صاف پانی کو سروس سٹیشنز پر گاڑیاں دھونے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ یہ مسئلہ سنگین ہے اور ملک کے شرفا زیادہ پانی استعما ل کرتے ہیں اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ اس ملک کی تباہی کی ذمہ دار ملک کی بیوروکریسی ہے اس ملک پر جو اشرافیہ قابض رہی ہے اس کا نام کوئی نہیں لیتا ہے بیوروکریسی پاکستان بننے کے بعد سے ملک پر راج کر رہی ہے یہ ملک بنانے اور چلانے والے سیاستدان تھے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ اس ملک کو درست کرنے کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے اگر سیاستدان ملک کو ٹھیک نہیں کر سکتے ہیں تو اپنی ناکامی کا اعتراف کریں سینیٹر حاجی ہدایت اللہ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ بہارہ کہو فلائی اوور کے حوالے سے انکوائری رپورٹ وزیر اعظم کے پاس جمع کرائی گئی ہے جس پر چیرمین سینیٹ نے انکوائری رپورٹ ایوان میں بھی پیش کرنے کی ہدایت کی سینیٹر شہادت اعوان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران اسلام آباد میں صرف تین فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے ہیں اور صورتحال تسلی بخش نہیں ہے جس پر چیرمین سینیٹ نے معاملہ کمیٹی کے سپرد کردیا وقفہ سوالات کے دوران سوالوں کے جوابات نہ ملنے پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ بیوروکریسی سوالوں کے جوابات دینا نہیں چاہتی ہے جس کی وجہ سے صرف ایک ہی وزیر کو مسائل درپیش ہوتے ہیں جس پر چیرمین سینیٹ نے سوالات اگلے روز تک موخر کرتے ہوئے تمام وفاقی وزرا کو اجلاس میں اپنے سوالوں کے جوابات دینے کی ہدایت کی
Comments are closed.