صدر عارف علوی کی زیر صدارت انسداد ہراسیت سیکرٹریٹ میں اجلاس

اسلام آباد(آن لائن)صدر عارف علوی نے ملک میں خواتین کا مقام بہتر بنانے، روزگار فراہم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت بڑھانے کیلئے مقامِ کار پر سازگار ماحول دینا ہوگا، ہمارے مذہب اسلام نے خواتین کو جائیداد کے حقوق دیئے ، خواتین کو جائز حصہ دینا ، محفوظ معاشرہ تشکیل دینا ہماری ذمہ داری ہے ۔منگل کے روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت سیکرٹریٹ کے ہیڈ آفس میں اہم اجلاس کی صدارت کی ،فوزیہ وقار، سیکرٹری عارف کریم، محتسب کے عہدیداران کی اجلاس میں شرکت کی ،انسدادِ ہراسیت محتسب فوزیہ وقار نے تحفظ ِحقوق ِنسواں میں محتسب کے کردار پر روشنی ڈالی ۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ انسدادِ ہراسیت محتسب مقامِ کارپر ہراسیت، خواتین کے جائیداد کے کیسز میں تیزتر انصاف فراہم کر رہا ہے ،2023 ء میں محتسب کے پاس ہراسگی کے 725 مقدمات درج ہوئے ، 517 کا فیصلہ کیا گیا،آگاہی کی وجہ سے ہراسگی ، خواتین کی جائیداد کے مقدمات کے اندراج میں اضافہ دیکھنے میں آیا ، خواتین کی ہراسگی ، جائیداد کے حقوق سے محرومی پاکستان میں عام مسائل ہیں، محتسب کے فیصلوں کے خلاف اب تک 208 اپیلیں صدر کو دائر کی گئیں،صرف 10 اپیلوں پر ایوان ِصدر میں کارروائی جاری ہے ، باقی نمٹا دی گئیں،فوزیہ وقار نے صدر عارف علوی کی محتسب کیلئے مسلسل حمایت کو سراہا۔صدر مملکت کا ملک میں خواتین کا مقام بہتر بنانے، روزگار فراہم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی معاشی شمولیت بڑھانے کیلئے مقامِ کار پر سازگار ماحول دینا ہوگا، ہمارے مذہب اسلام نے خواتین کو جائیداد کے حقوق دیے ، خواتین کو جائز حصہ دینا ، محفوظ معاشرہ تشکیل دینا ہماری ذمہ داری ہے ،صدر کا مزید کہنا تھا کہ دباوٴ کے باعث خواتین کی جانب سے خاندان کے افراد کو جائیداد کی منتقلی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ، انصاف کا عمل تیز کرنے کیلئے محتسب کے مقدمات کی ذاتی سماعت کررہا ہوں،خواتین کی ہراسیت ، جائیداد سے متعلق اہم فیصلوں کو میڈیا پر اجاگر کرنے سے محتسب کے کردار بارے آگاہی بڑھانے میں مدد ملے گی

،مقامی پولیس کو جائیداد کے معاملات میں خواتین کی شکایات پر اپنا ردعمل بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پولیس اہلکاروں کو خواتین کے ملکیتی حقوق کے نفاذ کے ایکٹ کی دفعات بارے آگاہی دی جانی چاہیے، محتسب خواتین دہلیز پر فوری انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی رسائی اور کارکردگی مزید بڑھائے، محتسب تجاویز حاصل کرنے کیلئے پاکستان میں غیرسرکاری اور حقوق ِنسواں کی تنظیموں کے ساتھ روابط بڑھائے ، خواتین کو سرکاری اور نجی شعبوں میں ہراسگی سے پاک اور سازگار ماحول فراہم کرنا معاشی و سماجی خودمختاری کیلئے ضروری ہے، خواتین کو روزگار کی فراہمی ، انسدادِ ہراسیت ایکٹ بارے آگاہی بڑھانے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا، صدر مملکت نے خواتین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کیلئے وفاقی وصوبائی سطح پر مناسب قانون سازی پر زور دیا اورخواتین کو تیز تر انصاف فراہم کرنے میں انسدادِ ہراسیت کے کردار کو سراہا،خواتین کی زیرِ قیادت انسدادِ ہراسیت جیسے ادارے مقامِ کار پر خواتین کو درپیش مشکلات سے نمٹنے ، ملکیتی حقوق کے حصول کیلئے اہم ہیں۔

Comments are closed.