اللہ نے نوسر باز سے ہماری جان چھڑا دی: خواجہ آصف

سیالکوٹ (آن لائن) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نواز شریف کے دور میں ہنستا بستا ملک تھا جسے ایک شخص نے تباہ کردیا،اللہ نے نوسر باز سے ہماری جان چھڑا دی،نواز شریف 8 فروری کو پھراقتدار میں آئے گا اور ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا، پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں شکست نظر آ رہی ہے ،وہ فتح کی صورت میں الیکشن قبول کرنے کی عادی ہے، یہ بند گلی میں آ چکے ہیں اور اب انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں والی بال گراوٴنڈ میں خواتین ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔خواجہ آصف نے کہا کہ میں چاہتا ہوں خواتین اسی طرح نواز شریف کے لیے کام کرتی رہیں، سردی کی وجہ سے انتخابی مہم سست روی کا شکار تھی، آج خواتین نے رونق لگائی تو دھوپ بھی نکل آئی۔ انکا کہنا تھا نواز شریف کے دور میں ایک ہنستا بستا ملک تھا، پھر ایک ایسے شخص کو ملک کی باگ دوڑ تھما دی گئی جس نے تباہی مچادی، نواز شریف 8 فروری کو پھراقتدار میں آئے گا

اور ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں رکا تھا۔ از شریف کے دور میں بجلی کی قیمت 7 سے 8 روپے فی یونٹ تھی، ان کے دورمیں ملک میں ترقیاتی کام جاری تھے لیکن ایک ایسے شخص کو مسلط کیا گیا جس نے ملک کو تباہ کر دیا، 5 سال قوم اپنے حق سے محروم رہی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں 16 ماہ کی حکومت ملی، اس میں بھی شہر کی سڑکیں بنائیں، پچھلی حکومت نے ایک اینٹ تک نہ لگائی، اللہ نے اس نوسر باز سے ہماری جان چھڑا دی، آپ لوگوں کا اور ہم سب کا جینا مرنا اس وطن کیساتھ ہے، مجھے انہوں نے چھ ماہ کے لیے قید کرایا، خود پکڑے گئے تو ٹی وی پر آکے اپنے لیڈر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ان نوسربازوں سے عوام کی جان چھوٹ چکی ہے۔ ہماری تربیت ہے کہ ماوٴں بہنوں کی عزتیں سانجھی ہوتی ہیں، ان لوگوں نے ٹی وی پہ باتیں کیں کہ الیکشن نہیں لڑوں گا، اب ماں کو چوک پر لے آئے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ عزت دار لوگ اپنی ماوٴں بہنوں سے ایسا نہیں کرتے، ہماری مائیں بہنیں باشعور ہیں،ہم نے عزت آبرو کیساتھ جیلیں کاٹیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری گھر کی خواتین پر مقدمات چلائے گئے،کہیں لے جائیں مجھے روزہ رسول پہ لے جا ئیں میرا کسی واقعہ سیکوئی تعلق نہیں۔، واقعہ ہوا ہی نہیں یہ صرف ہمدردی کیلیے پلانٹ کیا گیا ہے، ان کے لیڈر پر سارے چوری کے مقدمات ہیں۔۔

Comments are closed.