گھریلو ملازمہ تشدد کیس: قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کی طرف سے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے حوالے سے تمام تفصیلات پیش کر دی گئیں ، کمیٹی کی چیئرپرسن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے واقعہ کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ،کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ کے کیس میں کمزور ایف آئی آر پر بھی تحفظات کا اظہار کر دیا ،جبکہ سیکرٹری قانون کی اجلاس میں عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سمن جاری کر دیئے ۔مہرین رزاق بھٹو کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کا معاملہ زیر غور آیا،وزارت قانون اور پولیس حکام کی عدم شرکت پر کمیٹی ارکان کا اظہار برہمی کیا ہے۔چیئرپرسن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ رضوانہ تشدد کیس کے حوالے سے وزارت قانون اور پولیس کا موقف جاننا ضروری تھا،لگتا ہے وزارت قانون اور پولیس سنجیدہ نہیں ہے ،رضوانہ تشدد کے حوالے سے میڈیا سوشل میڈیا پر ردعمل آیا،وزارت انسانی حقوق نے اس حوالے خاموشی اختیار کی ،وزارت انسانی حقوق نے ہمیں صرف نیوز کٹنگ بھیجوائی ہے، پاکستان میں 33لاکھ چائلڈ لیبر ہیں ،وزارت کو ابھی تک لڑکی کی صحیح عمر معلوم نہیں،کہیں پر چودہ سال کہیں پر 17کہیں پر 13سال عمر لکھی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ سول جج صاحب کہتے ہیں میری بیوی کو نفسیاتی معاملہ ہے،کیا ججز کا کوڈ آف کنڈیٹ نہیں ہے،کیا اس معاملے پر ازخود نوٹس نہیں بنتا،
سول جج کے گھر میں بچی پر تشدد کا واقعہ ہواہے،چیئر پرسن نیشنل کمیشن برائے تحفظ اطفال عائشہ رضا نے بتایا کہ 24تاریخ کو واقعہ ہوا ہم نے کیس کو فالو کیا،پولیس نے بہت کمزور ایف آئی آر کاٹی ،ہم نے ایف آئی آر میرٹ پر کٹوائی بچی کو دیکھا پورے جسم پر تشدد تھا ،بچی کے سر پر زخم کی وجہ سے کیڑے پڑ چکے تھے ،ہم نے پولیس کو لکھا اور کوشش ملزمہ کی ضمانت نہ ہو ،ہم نے اس ایف آئی آر میں اقدام قتل کی دفعات شامل کرائیں ،متاثرہ فیملی پر دباو ڈالا جارہا تھا ،رضوانہ کی فیملی نے بچی سے چھ ماہ میں ایک مرتبہ رابطہ کیا ،رضوانہ کی والدہ نے بتایا انکے دس بچے ہیں غربت کی وجہ سے بچی کو نوکری پر بھیجا۔ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس محمد شہزاد نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ مختار نامی شخص نے بچی کو جج کے گھر ملازمت پر رکھوایا ،چھ ماہ پہلے دس ہزار میں بچی کو ملازم رکھاگیا ،معلوم ہوا بچی کو اکیلے گھر پر چھوڑ کر گلگت گئے تھے ،بچی کو جس گھر میں رکھا تھا وہاں لوگوں سے ملنا بہت کم تھا ،کوشش ہے کیس میرٹ کے مطابق آگے بڑھے ملزمان کو سزا ملے،اس واقعے کا علم میں میڈیا سے ہوا،فیملی پانچ دن کے لئے گلگت گئی تو بچی کوگھر پر اکیلا چھوڑ گئی تھی، بچی کے ساتھ روایتی ذیادتی ہوتی رہی، ہم نے ایف آئی درج کی اور واقعات کے حساب سے شقیں اضافہ کرتے رہے۔اس موقع پر چیئرپرسن کمیٹی مہرین رزاق نے کہا کہ اس کیس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے تھا،
Comments are closed.