اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدت میں نکاح کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی
اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے عدت میں نکاح کیس کے ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
خاور مانیکا کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔ خاور مانیکا کے وکیل نے کہا عدت کے دورانِ نکاح محض بیقاعدگی نہیں بلکہ باطل ہے، اگر یکم جنوری والا نکاح درست سمجھتے ہیں تو فروری میں دوبارہ نکاح کیوں کیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدت میں نکاح کیس کیخلاف بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ پٹیشنر کے وکیل سلمان اکرم راجہ وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ شعیب شاہین ایڈووکیٹ بھی کمرہ عدسلت میں موجود تھے۔ عدالتی نوٹس پر خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ عدت میں نکاح کی ایک کمپلینٹ کیخلاف اسی نوعیت کی درخواست بینچ ون میں پہلے سے زیر التوا ہے۔ یہ درخواست بھی ادھر بھجوا دیں۔ شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے کہا جس پہلی کمپلینٹ کی یہ بات کر رہے ہیں وہ تو واپس ہو گئی تھی اس لیے اس کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی غیر موثر ہو گئی۔
خاور مانیکا کے وکیل نے کہا جب ایک کمپلینٹ ہی واپس ہو گئی تو یہ اس کے خلاف دائر درخواست بھی واپس لے لیتے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ یکم جنوری کے نکاح کے وقت عدت پوری ہو گئی تھی۔ نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ انہوں نے فروری میں دوبارہ نکاح پڑھایا۔ اگر یکم جنوری والا نکاح درست سمجھتے ہیں تو دوبارہ نکاح کیوں کیا؟ عدت میں نکاح نہیں ہوا تو دوسرا نکاح کیوں پڑھایا گیا تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ عدت کے دورانِ نکاح محض بیقاعدگی نہیں بلکہ باطل ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے ٹرائل پر اسٹے آرڈر جاری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کل کیس کو شہادت کے لیے رکھا ہوا ہے، روزانہ جی بنیاد پر سماعتیں کی جا رہی ہیں۔ راجہ رضوان عباسی نے کہا کبھی ٹرائل پر بھی سٹے دیا جاتا ہے؟ عدالت نے کہا آپ پھر انڈرٹیکنگ دے دیں کہ کل گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کرائیں گے۔ خاور مانیکا کے وکیل کی انڈرٹیکنگ کے بعد عدالت نے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
Comments are closed.