مسلم لیگ (ن) الزامات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ،نواز شریف جلد منشور عوام کے سامنے پیش کرینگے ، مریم نواز
لاہور( آن لائن ) نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) الزامات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ،نواز شریف نے وہاں بھی ترقیاتی کام کروائے جہاں مینڈیٹ نہیں ملا،نواز شریف جلد منشور عوام کے سامنے پیش کرینگے ،ووٹ آپ کا اور آپ کے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا ، آٹھ فروری کو چاہیے کوئی حریف نہ ہو آپ نے نکلنا ہے اور ووٹ ڈالنا ہے ، این اے 119سے آج سے میرا نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہوگیا ہے ۔ لاہور میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ علاقے کے عوام کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یہاں سے الیکشن لڑنے کی سعادت بخشی ،میرے پر الزام لگایا گیا کہ اپنے باپ کے ساتھ چٹان بن کر کیوں کھڑی ہوئی ہو،مجھے جیل جانا منظور تھا مگر میں اپنے والد سے قدم سے قدم ملا کر چلی اور آج پھر آپ کے درمیان موجود ہوں ، آج میں اپنے گھر والوں سے بات کرنے آئی ہوں یہ حلقہ میرا گھر ہے
،ووٹ کی پرچی صرف ایک پرچی نہیں ہوتی وہ آپ کے اور آپ کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے ان بچیوں اور بچوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کا ایک ہی کام رہا کہ تنقید کرو الزام لگاؤ اور کام کچھ نہ کرو صرف ایک جماعت مسلم لیگ (ن) ہے جس نے الزام تراشی کی بجائے ترقی کو ترجیح دی اور 2017 تک ملک سے نواز شریف نے اندھیروں اور دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا روزگار ہی روزگار تھا مگر پھر سازش کے تحت 2018ء میں نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کردیاگیا اور ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا کچھ جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے پندرہ سال پنجاب میں حکومت کی مگر پندرہ منصوبے نہیں دے سکے پنجاب میں آکر نواز شریف پر تنقید کرتے ہیں مگر نواز شریف کو کبھی دو سال کبھی تین سال کبھی چار سال حکومت سے باہر کردیاگیا مگر ان سات آٹھ سالوں میں بھی نواز شریف کے پندرہ سو منصوبے گنوا سکتی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص پنجاب میں آکر کہتا ہے کہ نواز شریف نے منشور نہیں دیا نواز شریف چند دنوں میں منشور دے گا مگر بتانا چاہتی ہوں کہ نواز شریف کا منشور آج پنجاب میں ہر طرف نظر آرہا ہے آج بھی نواز شریف صبح سے یہی کام کررہا تھا کہ اگر اللہ نے ہمیں منتخب کیا تو ہم نے آپ کی بجلی اور گیس کے بل کیسے کم کرنے ہیں مہنگائی کیسے کم کرنی ہے بے روزگاری کیسے کم کرنی ہے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جب نواز شریف یہ نہیں سوچتا کہ عوام کے دکھ کیسے کم کرنے ہیں ۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور کا دل بہت بڑا ہے جس صوبے نے نواز شریف کو مینڈیٹ دیا وہاں کام تو کیا مگر جس صوبے میں مینڈیٹ نہیں ملا وہاں بھی نواز شریف نے ریکارڈ ترقی کام کروائے میں اپنے حلقے کے نوجوانوں اور خواتین سے مخاطب ہو کہ مریم نواز کا یہ پہلا الیکشن ہے میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں میں اس والد کی بیٹی ہوں اس چچا کی بھتیجی ہوں جس نے نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی آپ کی خدمت کی میں آپ کی خدمت کرونگی میں وہ امیدوار ہوں گھر جا کر پتہ کرے گی کہ اس حلقے کے کیا مسائل ہیں پرچی پر مسائل نہیں سنوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یہ کہناچاہتی ہوں کہ مجھے معلوم ہے یہاں گیس کا مسئلہ ہے ، سیوریج کے مسائل ہیں سڑکیں ٹوٹی ہے کیونکہ پچھلے پانچ سال یہاں کچھ نہیں ہوا میرا بس چلے تو میں این اے 119کے ہر گھر کا دروازے پر جاؤں اور پوچھوں کہ کیا میں اس حلقے سے الیکشن لڑنے کی اہل ہوں کیا میں آپ کی خدمت کرسکتی ہوں لیکن میری ٹیم اس پر کام کررہی ہے میں نے آپ کی جماعت اور آپ کے لیڈر کیلئے پورے ملک میں کمپین کرنی ہے میں نے اپنی ٹیم کو کہا ہے جس دروازے پر جاؤ کہنا مجھے آپ کی بیٹی مریم نواز نے بھیجا ہے
میں ان سے ویڈیو مانگتی ہوں کہ بتاؤ ان محلوں ، علاقوں اور گلیوں کے مسائل کیا ہیں میں یہ وعدہ کرنا چاہتی ہوں کہ اگر آپ نے مجھے منتخب کیا اور یہاں سے شیر کو جتوایا تو یہاں دفتر بناؤ ں گی جہاں مریم نواز خود آپ سے ملاقات کرکے مسائل حل کرے گی ۔ مریم نواز نے کہا کہ میں پورے پاکستان کو یہ کہنا چاہتی ہوں جو ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں یہ ووٹ امانت ہے اس مٹی کی اس دھرتی کی اس نوجوانوں بچوں اور بچیوں کی اللہ کا واسطہ ہے سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالنا کیونکہ اس ووٹ نے ہماری نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے اس ووٹ نے آپ کی نسلوں کا فیصلہ کرنا ہے ہم نے یہ ملک چھوڑ کر نہیں جانا میرے بچے سارے اور میں یہی رہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ آج این اے 119کے پہلے دورے پر آپ نے جو محبت دی اس سے میرا آپ سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ بن گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آٹھ فروری کو ہر طرف سے ایک ہی آواز آئے گی کہ شیر آئے گا ترقی لائے گا ۔بھلے آپ کو اپنے مقابلے میں کوئی حریف نظر نہ آرہا ہو مگر آٹھ فروری کو آپ نے اپنی جماعت اپنے لیڈر کی خاطر نکلنا ہے اور ووٹ ڈالنا ہے اور صرف ووٹ نہیں ڈالنا اپنے گھر اور اپنے محلے اور گھر والوں کو بھی کہنا ہے کہ ووٹ ڈالے ۔
Comments are closed.