جنوبی ایشیا میں باہمی تعاون اور وسائل کے اشتراک کے لئے پرامن کا ماحول ہونا انتہائی ضروری ہے،جلیل عباس جیلانی

اسلام آبا د(آن لائن)نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں باہمی تعاون اور وسائل کے اشتراک کے لئے پرامن کا ماحول ہونا انتہائی ضروری ہے،سارک نے فوڈ سیکورٹی بینک کا قیام، کلائمٹ ڈیٹا شئیرنگ جیسے اقدامات لئے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ہی باہمی ترقی کی راہ ہموار کرسکتا ہے،فوڈ سیکورٹی، پینے کا صاف پانی، آبی وسائل کی کمی موسمیاتی تبدیلی سے جڑیں ہیں،حال ہی میں شدید دھند نے پروازوں کا نظام متاثر کیا یہ بھی موسمیاتی تبدیلی سے منسلک ہے،جنوبی ایشیا میں باہمی تعاون اور وسائل کے اشتراک کے لئے پرامن کا ماحول ہونا انتہائی ضروری ہے،سارک نے فوڈ سیکورٹی بینک کا قیام، کلائمٹ ڈیٹا شئیرنگ جیسے اقدامات لئے ہیں،روزمرہ کی تمام چیزیں کہیں نہ کہیں موسمیاتی تبدیلی سے ہی جڑی ہیں،انڈس واٹر ٹریٹی کی بھارت نے خلاف ورزیاں کی ہیں،بھارت نے جس قسم کے منصوبے شروع کئے اسکا ڈیٹا بھی پاکستان سے مکمل شئیر نہیں کیا گیا،جنوبی ایشیا ممالک کو ایسے چیلنجز نے نمٹنے کے لئے ایک مربوط میکنزم مرتب کرنا ہوگا،جب تک ہم اپنے وسائل کے ساتھ مشترکہ تعاون نہیں کریں گے کچھ حاصل نہیں ہوگا،سوچنا ہوگا کہ پرامن بقائے باہمی کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے،ماحولیاتی مسائل کا تدارک بھی باہمی تعاون سے ممکن ہے،پائیدار امن کے لئے ان ممالک کے لیڈران کو دانشمندانہ فیصلہ کرنا ہوں گے،موسمیاتی تبدیلی بہت بڑا خطرہ ہے مگر ابھی وقت ہے کہ اس پر غور کیا جائے،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازعہ میں ہمارے پاس دو آپشن تھے،ایک آپشن تنازعہ کو بڑھانا تھا دوسرا امن کا راستہ تھا،دونوں ممالک نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور 48 گھنٹوں میں تعلقات معمول پر آگئے،موسمیاتی تبدیلیوں پر کاپ 26، 27 اور کاپ 28 نے کافی تجاویز مرتب کی ہیں،امید ہے ان تجاویز کی روشنی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی،درجہ حرارت میں اضافہ، سیلابوں کا آنا یہ تمام ایشوز موسمیاتی تبدیلی سے ہی منسلک ہیں۔۔

Comments are closed.