پیمرا ترمیمی بل واپس لینے پر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پارلیمنٹ ہائوس کا احتجاج:قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آئوٹ
اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت کی طرف سے پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں ایک متنازعہ شق کو بنیاد بناکر پورا بل واپس لینے کے اقدام پر پارلیمنٹ میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے احتجاج کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور اس سلسلے میں ہر سطح پر سخت احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز کے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آوٹ کے فالو اپ میں آج پی آر اے وفد نے صدر پی آر اے صدیق ساجد کی قیادت میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ہنگامی ملاقات کی ملاقات میں سابق صدر پی آر اے بہزاد سلیمی ،سابق سیکرٹری پی آر اے ایم بی سومرو ،سابق سیکرٹری اطلاعات پی آر اے علی شیر اور سینئر ممبر پی آر اے عثمان خان شریک تھے پی آر اے کی موجودہ اور سابقہ باڈی نے چیئرمین سینیٹ پر واضح کیا کہ پی آر اے اپنے حقوق کے لئے متحد ہے اور کسی کو قانون سازی میں کارکنان صحافیوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنے کی اجازت نہیں دے گی ۔
پی آر اے وفد نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو بتایا کہ گزشتہ روز پی آر اے نے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آوٹ کیا تو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ پیمرا ترمیمی بل 2023سے متنازعہ شق واپس لیکر باقی بل منظور کرانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی پی آر اے وفد نے چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا چونکہ رولز کے مطابق کوئی بھی بل کسی قائمہ کمیٹی کو مزید غور کے لئے بھیجا جاتا ہے مگر بل کی حتمی منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار ایوان کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
اس لئے سینیٹ ایوان کارکن صحافیوں کو روزگار کے تحفظ اور تنخواہ بروقت دلانے کے لئے تئیس سال میں پہلی مرتبہ متوقع طورپر ملنے والے قانونی حق کو فراہم کرانے کے لئے اپنا اختیار استعمال کرے اور مس انفارمشن و ڈس انفارمشن کی متنازعہ شق واپس لیکر باقی بل کو منظور کرے مس انفارمشن اور ڈس انفارمشن کی تعریف پر اتفاق رائے پیدا کرکے اگلی حکومت نئی ترمیم لاسکتی ہے۔
پی آراے نے اعلان کیا ہے کہ آج پانچ بجے قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آوٹ کرکے پارلیمنٹ ہاوس کے گیٹ نمبر ایک پرامن احتجاج کیا جائے گا کل سینیٹ اجلاس کے دوران پریس گیلری سے واک آوٹ کیا جائے گا اورصحافی بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر پارلیمانی کوریج اور احتجاج کریں گے
Comments are closed.