افواج پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کا میجر طفیل محمد شہیدکو 65ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت
راولپنڈی( آن لائن)افواج پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے میجر طفیل محمد شہید (نشان حیدر) کو ان کے 65ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میجر طفیل محمد شہید کی شہادت ہمیں وطن عزیز کے دفاع کے لیے دی گئیں پاک فوج کی غیر معمولی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت نے کہا کہ آئیں ان شہدا کو یاد کریں جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے۔ قوم کو اپنے ان بہادر سپوتوں پر فخر ہے۔میجر طفیل محمد شہید، نشان حیدر کا اعزاز پانے والے دوسرے شہید ہیں۔ انہوں نے 1958 میں مشرقی پاکستان کے لکشمی پور سیکٹر میں جرت اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔واضح رہے کہ میجر طفیل محمد شہید نشان حیدر – پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے بہادر سپوت ہیں۔
لہو سے سرزمین وطن کی آبیاری کرتے ہوئے، ازلی دشمن بھارت کی فوج پراپنی شجاعت و بہادری کی دھاک بٹھانے والے میجر طفیل محمد شہید نے یہ ثابت کر دیا کہ بہادر مشکلات میں گھبرایا نہیں کرتااور ملک کے دفا ع کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔پاکستانی افواج نے دنیا بھر میں اپنی شجاعت کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔پاک افواج میں شہادت کا ایک ایسا جذبہ موجود ہے جس نے بڑی بڑی داستانیں رقم کی ہیں۔یہ ایک ایسے بہادر سپوت کی داستان ہے جس نے لکشمی پور مشرقی پاکستان میں دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے اور وطن کی عظمت اور حفاظت کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔بروقت قوتِ فیصلہ، بھرپور جوابی وار اور اللہ پر ایمان نے میجر طفیل محمد شہید کو یہ اعزاز بخشا کہ دشمن کو نہ صرف آگے بڑھنے سے روکا بلکہ واپس لوٹنے پر بھی مجبور کر دیا۔آپ نے لکشمی پور مشرقی پاکستان میں جرات و بہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کا صفایا کیا اور گھمسان کی لڑائی کے دوران ملک کی آن، شان اور حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔میجر طفیل محمد شہید کے والد کا نام چودھری موج الدین تھا۔ آپ کا خاندان موضع کھرکاں ضلع ہوشیار پور (بھارت) کا رہائشی تھے۔ 1913 میں ہوشیار پور سے ضلع جالندھر کے ایک گاں میں منتقل ہو گئے۔
جہاں پر 22 جولائی 1914 کو طفیل محمد نے جنم لیا۔طفیل محمد نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج جالندھر میں داخلہ لے لیااوراسی کالج سے ایف اے کا امتحان بھی پاس کیا۔1943 میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اور 1947 میں جب آپ میجر کے عہدے تک پہنچ چکے تھے۔مسلح فورسز میں ایک امتیازی کیرئیر کے بعد 1958 میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان تعینات ہوئے۔جون 1958 میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958 کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانی اسمگلرز کا کاروبار بند کرنے اور چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔میجر طفیل محمد اپنے دستے کے ساتھ وہاں پہنچے اور8 اگست کو بھارتی چوکی کو گھیرے میں لے لیا۔اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے،دشمن سے 15 گز کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ جب مورچہ بند دشمنوں نے مشین گن سے فائر شروع کئے تو میجر طفیل اپنے ساتھیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے۔برستی گولیوں میں،بے تحاشہ بہتے خون کی حالت میں انہوں نے ایک گرینیڈ دشمنوں کی طرف پھینکا جو سیدھا دشمن کے گن مین کو لگا۔شدید زخمی ہونے کے باوجود بھی آپ اپنے ساتھیوں کی قیادت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔دوبدو کی اس لڑای میں میجر طفیل نے دیکھا کہ ایک دشمن دبے پاں ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا کہ میجر صاحب خود شدید زخمی تھے۔
لیکن اس کی پرواہ کئے بغیر رینگتے ہوئے دشمن اور جوان کے درمیان پہنچ گئے میجر طفیل نے اپنے ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگانا شروع کر دیں۔اس لڑائی میں بھارتی اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑکر فرار ہو گئے۔صبح کے سورج نے اس چوکی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔مادر وطن کی خاطر بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ لڑنے والے میجر طفیل محمد شہید آج دہشت گردوں اور اندرونی چیلنجز سے نبرد آزما پاک فوج کے جری سپوتوں کے لئے بہادری کی روشن مثال ہیں۔آج پوری قوم ان کی بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔نشانِ حیدرسب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو ایسے افسروں اور جوانوں کو ملتا ہے جنہوں نے بہادری و شجاعت کے غیر معمولی کارنامے سرانجام دئیے ہوں
Comments are closed.