نواز شریف سی پیک کے بانی نہیں سی پیک کے چور ہیں ، بلاول بھٹو زرداری
ملتان ( آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف سی پیک کے بانی نہیں سی پیک کے چور ہیں ، بٹن دبانے سے کوئی ایٹمی پروگرام کا بانی نہیں بن جاتا ، ایٹمی پروگرام قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا ، آج ملک شدید بحرانوں کا شکار ہے ،دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے مگر پیپلز پارٹی آٹھ فروری کو منتخب ہوکر عوام کی طاقت سے ان تمام مسائل پر قابو پالے گی اور خوشحال پاکستان بنائے گی جہاں عوام بھی خوشحال ہونگے ،عوام سے کہتا ہوں آؤ مل کر شیر کا شکار کرتے ہیں اس کو چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دینگے ،محترمہ شہید کے بیٹے کا وعدہ ہے منتخب ہوکر اپنے دس نکاتی منشور پر عمل کرونگا ۔
ملتان میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج اتنی سخت سرد ی میں ملتان کے عوام کی یہاں موجودگی ثابت کرتی ہے کہ ملتان کی عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں آپ نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا انشاء اللہ آٹھ فروری کو اچھے وقت کا آغاز ہوگا مشکل وقت ختم ہوگا آج کل پاکستان بہت مشکل میں ہے خطرناک صورتحال ہمارے سامنے ہے ایک طرف ہمارا تاریخی معاشی بحران ہے جہاں غربت مہنگائی اور بے روزگاری تاریخی سطح پرپہنچ چکی ہے دوسری طرف وہ دہشتگرد جنہیں پاکستان کی فوج اور عوام نے قربانیاں دے کر ان کو شکست دی تھی وہ ایک بار پھر اپنا سر اٹھا رہے ہیں اور دوسری طرف جمہوری بحران ہمارے پورے معاشرے میں بحران پھیلا ہوا ہے یہ پرانے پرانے سیاستدان جو پرانی سیاست کررہے ہیں جنہوں نے سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا ہے انہوں نے پورے معاشرے میں تقسیم کردیا ہے بحران پیدا کردیا ہے ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی سے لڑوا رہے ہیں بھائی کو بھائی سے لڑوا رہے ہیں میں پاکستانی عوام سے اپیل کرتا ہوں ملتان والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں تاکہ ہم ہمیشہ کیلئے ان نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کردینگے ہم انشاء اللہ ہم پورے پاکستان کو ایک ہوکر ان مسائل کا خاتمہ کرینگے ہم مل کر اس معاشی بحران کا مقابلہ کرینگے مہنگائی غربت اوربے روزگاری کامقابلہ کرینگے ہم مل کر ان دہشتگردوں کا مقابلہ کرینگے ہم مل کر ہمارے جمہوری بحران کا مقابلہ کرکے ایک طاقت ور پاکستان بنائینگے ایک خوشحال ترقی یافتہ پاکستان بنائینگے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھیوں میں وہ واحد سیاستدان ہوں جو مہینوں سے پورا ملک کا دورہ کررہا ہوں
پختونخوا ، سندھ میں دورے کرچکا ہوں بلوچستان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرکے آیا ہوں پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو عوام کی طرف دیکھ رہی ہے طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتی ہے ہم یہ الیکشن آپ کی طاقت سے جیت کر حکومت بنائینگے جو باقی سیاستدان ہیں ان کو احساس ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کس مشکل سے گزر رہے ہیں ان کو فکر ہے کہ تو صرف اس چیز کی کہ کس طرح اسی کرسی پر چوتھی باربیٹھ جائیں میں یہ الیکشن تشدد کے زور پر نہیں لڑ رہا میں یہ الیکشن نفرت اور تقسیم کو پھیلا کر نہیں لڑ رہا میں خود اپنے ہاتھوں سے یہ عوامی معاشی معاہدہ تیار کیا ہے یہ دس نکاتی ایجنڈا ہے میں پاکستان کے عوام کے مسائل سامنے رکھ کر یہ منشور تیار کیا ہے ایک بے روزگاری ، مہنگائی اور غربت اگر ہم نے ان مسائل کا سامنا کیا ہے تو دس نکاتی منشور پر عمل کرنا ہوگا ۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم قائد ذوالفقار علی بھٹو کے نظریہ کے مطابق حکومت بنا کر اشرافیہ سے امیروں سے وسائل لے کر ہم اپنے غریب عوام پر خرچ کرینگے میں نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ جو سترہ وزارتیں وفاق میں ہیں ان کو اٹھارہویں ترمیم کے مطابق ختم کرنا چاہیے تھا مگر کسی نے اس کو ختم نہیں کیا میاں صاحب نے بھی توجہ نہیں دی اور سالانہ ساڑھے تین سو ارب ان پر خرچ کیا جاتا تھا میں یہ وعدہ کرتا ہوں منتخب ہوکر یہ وزارتیں ختم کرکے ساری رقم عوام پرملتان پر خرچ کرونگا ۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کو آپ کے ٹیکس سے سبسڈی دی جاتی ہے ایک ہزار پانچ سو ارب روپے سالانہ سبسڈی کی صورت میں اشرافیہ کو دیا جاتا ہے میں نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ یہ جو اشرافیہ اور امیروں کی سبسڈی ہے ان کو ختم کرکے یہ ساری رقم عوام پر اپنے نوجوانوں اپنی بہنوں ، اپنی کسانوں اور اپنے مزدوروں پر خرچ کرینگے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے دس نکاتی ایجنڈے میں پاکستان کی عوام کی آمدنی دوگنا کرنا ، سولر بجلی کے ذریعے تین سو یونٹ فری کرنا ، پاکستان کے غریب عوام کو تیس لاکھ گھر بنا کر دونگا ، مزدور کارڈ کے ذریعے مزدوروں کو مالی مدد کرینگے ، کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دینگے
، صحت کارڈ سے سندھ کی طرح پورے پاکستان اور ملتان میں بھی مفت طبی سہولیات فراہم کی جائینگی ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کرکے غریب بہن بھائیوں کی بھرپور مدد کی جائے گی ، نوجوانوں کیلئے بے نظیر روز گار کارڈ کے ذریعے اس وقت تک مدد کی جائے گی جب تک وہ برسر روزگار نہیں ہوجاتے ، ہریونین سطح پر بھوک مٹاؤ پروگرام کے ذریعے کوئی بھوکا نہ سوئے کے پروگرام کے ذریعے بھوک مٹاؤ پروگرام شروع کرینگے تاکہ کوئی بھی بچہ کوئی بھی بندہ ہمارے ملک میں بھوکا نہ سوئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو وعدے ہیں یہ پیپلز پارٹی کے وعدے ہیں ہم نے ثابت کیا کہ جس دور میں یہ وعدہ پیپلز پارٹی نے کئے چاہے وہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کئے ہوں یا محترمہ شہید نے کئے ہوں تمام وعدوں پر عمل کیا شہید محترمہ کے بیٹے کا بھی وعدہ ہے منتخب ہوکر دس نکاتی منشورپر عمل کرونگا میں جنوبی پنجاب کے عوام سے کہنا چاہتا ہو کہ اس بار میں الیکشن لاہور سے بھی لڑ رہا ہوں میں یہ پیغام رائیونڈ کو سنا رہا ہوں کہ میں خود لاہور کے حلقے سے جہاں سے الیکشن لڑ رہا ہوں وہاں دیکھ کر آیا ہوں کہ لاہور میں دودھ اورشہد کی نہریں بہا دی گئی ہیں اورنج ٹرین میٹرو ٹرین چلا دی گئی ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لاہور میں بھی بے روزگاری ہے غربت ہے نوجوان بہنیں رشتوں کی وجہ سے پریشان ہیں انشاء اللہ آٹھ فروری کو ہم حکومت بنائینگے اور اس صوبے کے کسانوں اور غریب اور پسماندہ طبقے کے نمائندے بن کر ان کی بلاتفریق خدمت کرینگے انشاء اللہ عوامی حکومت بنے گی تو عوام کے مسائل حل ہونگے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے جوجنوبی صوبہ کے لئے کام کیا تھا اس کی جدوجہد جاری رکھیں گئے میں آپ کے ساتھ مل کر آپ کے تمام مطالبات کوپورا کرونگا آپ نے آٹھ فروری کو نکلنا ہے اور تیر پر مہر لگانا ہے اپنی ترقی پر مہر لگانا ہے اپنے بچوں کے مستقبل پر مہر لگاناہے شیر کا راستہ روکنے کیلئے مہر لگانا ہے میں آپ کے ساتھ مل کر جو چوتھی بار وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ان کے خواب چکنا چور کردینگے اور آٹھ فروری کو ایک جمہوری حکومت بنے گی جو حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میری کسی بہن نے اپنے جلسے میں کہا نواز شریف عوام کا لاڈلا ہے کسی اور کا لاڈلا نہیں ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب وہ کہتے تھے کہ گلی گلی میں شور ہے تو میں نے سجھا کہ یہ نعرہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے موٹرویز بناکر کمیشن بنا کر ایون فیلڈ کے اپارٹمنٹ کھڑے کرینگے بلکہ یہ اس لئے بھی تھا کہ یہ پانامہ لیکس کو بچانے کیلئے تھا یہ کہتے تھے کہ ایٹمی بم کا تحفہ نواز شریف نے دیا تو میں کہتا ہوں کہ بٹن دبانے سے ایٹم بم نہیں چلتے یہ ایٹم بم کا پروگرام قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا اس لئے تو گلی گلی میں شور ہے کہ نعرہ لگا اور پورا ٹبر چور ہے کا نعرہ لگا میں حکومت میں تھا تو مجھے ہنسی آتی تھی تو یہ نعرہ کیوں لگتا ہے گلی گلی میں شور ہے یہ کہتے ہیں کہ سی پیک کا بانی نواز شریف میں یہ کہتا ہوں کہ سی پیک کا چور نواز شریف ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بانی بھی یہ نواز شریف کو کہتے ہیں اس سے بڑی دلیل کون سی ہوگی کہ گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے بھائی یہ پروگرام کس نے شروع کیا اور یہ دنیا بھر کے عوام او رہنما اس کو مان رہے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بانی نواز شریف ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ تھرپارکر کا جو منصوبہ جو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے شروع کیا جس کا میں نے اور آصف علی زرداری نے عملدرآمد شروع کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ نواز شریف نے شروع کیا اس کا بانی نواز شریف ہے اب یہ عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے اب عوام جان چکے ہیں کیوں گلی گلی میں شور ہے ساتھیوں ہم ساتھ نہیں چل سکتے میں نہیں چل سکتا اب پاکستان کے عوام پر یہ فیصلہ چھوڑتے ہیں یہ رائیونڈ والے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے میچ فکس کرلیا ہے گھر سے نکلتے بھی نہیں خود بخود الیکشن جیت جائینگے مگر پاکستان کے عوام یہ فیصلہ کریں سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں عوام یہ طے کرلیں کہ چوتھی بار وزیراعظم نہیں بننے دینا تو ایک ہی طریقہ ہے نہ آزاد نہ شیر نہ کوئی اور صرف تیر پر مہر لگائیں ہم مل کر اس شیر کا شکار کرتے ہیں ملتان کے عوام شیر کے شکار کیلئے تیار رہنا ۔
Comments are closed.