پاکستان مسلم لیگ (ن)نے“ پاکستان کو سچے منشور سے نواز دو“ کے سلوگن سے ا نتخابی منشور پیش کرد یا
لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن)نے“ پاکستان کو سچے منشور سے نواز دو“ کے سلوگن سے ا نتخابی منشور پیش کرد یا ۔2025 میں مہنگائی کا 10 فیصد خاتمہ،گیس ،بجلی کی قیمتوں میں کمی ،تنخواہوں میں اضافہ، بے روزگاری کا خاتمہ ،مفت صحت کی سہولیات ،معیشت کی مضبوطی کیلئے اقدامات ،نئے ائیر پورٹ ،نئی یونیورسٹیاں ،1500 ہزار میگاواٹ کے نئے منصوبے ،مختلف شہروں میں جدید ٹرانسپورٹ ،آئی ایم ایف سے چھٹکارا،نیب کا خاتمہ اور پارلیمنٹ کی بالادستی ،قانون و انصاف اور عدالتی نظام میں اصلاحات ،5 بڑے شہروں کو آئی ٹی کا درجہ دینے ، فی کس آمدنی 2,000 ڈالر کرنے کا ہدف ،اعلیٰ تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ،ایک کروڑ نوکریاں،بے روز گاری کا خاتمہ،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کیلئے ہیلتھ انشورنس منشور میں شامل ہے جبکہ بھارت سمیت تمام ممالک سے اچھے تعلقات ،مقبوضہ کشمیر سے غیر آئینی اقدام کی واپسی ،افغانستان کے ساتھ موثر سرحد ی نظام اور اسرائیل میں فلسطینیوں کی نسل کشی کامعاملہ عالمی سطحی پر اٹھانا بھی منشور کا حصہ ہوگا۔ لاہور میں انتخابی منشور کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کہا کہ انتخابات 2024 لڑنے کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے، ماضی کی زیادتیوں کو فراموش کر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے آئے ہیں ، منشور پر من و عن عمل کیا جائیگا ۔ 90کے بعد سے جمہوری حکومتوں میں بار بار خلل نہ ڈالا جاتا تو آج ملک ترقی کے عروج پر ہوتا، کے پی کے عوام کو دانشمندی سے اپنے مستقبل کا فیاصلہ کرنا چاہیے ، ملکی عوام کی خدمت کرنے پر کئی بار جیل کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ آنا فانا چھٹی کرا دینا آخر کیوں ہوا یہ سب جس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑا ۔ انہوں نے کہا انتخابات دو ہزار چوبیس لڑنے کی بھرپور تیاری کر کے آئے ہیں ۔ انتقام نہیں ترقی کی سیاست پر توجہ مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا ماضی کی ز یادتیوں کو فراموش کر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا میثاق جمہوریت پر ہم سب نے دستخط کئے تھے تاہم پیپلز پارٹی نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے ۔ ہمارے ان کے ساتھ بہت مسائل تھے ۔ ججز کی بحالی کے وعدے پورے نہیں کر رہے تھے جسکی و جہ سے ہمیں لانگ مارچ کرنا پڑا تھا تا ہم جیسے ہی لانگ مارچ گوجرانوالہ پہنچا ہمارا ججز بحال ہو گئے اور ہم نے اس وقت بغیر کسی تو ڑ پھوڑ کے دھرنا ختم کر دیا تھا ۔ جس کے بعد ہم نے پیپلز پارٹی کو مدت پورا کرنے کا موقع دیا ۔ انہوں نے کہا کہ بنی گالہ بھی گیا تھا لیکن انہوں نے ملک کے بجائے سڑک بنانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ۔ اگر ہمیں تسلسل سے کام کرنے دیا جاتا تو یہ ملک بہت ترقی کر چکا ہوتا ۔ دوہزا رسترہ تک ڈالر، بجلی ، روٹی ، سستی تھی ۔ تاہم صرف چار سال میں ان لوگوں ملک کو مہنگائی غربت اور بیروزگاری میں دھکیلا ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران میں مکمل ڈٹا رہا ، شہباز سے کہا تھا کہ حکومت نہ لو ۔
انہوں نے کہا پہلے بھی جیلیں کاٹیں آنے والے وقت میں بھی ملک کے لئے سب کچھ کریں گے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں آکر کبھی بھی وہ نہیں کریں گے جو انہوں نے کیا ،2023میں مولانا نے اتحادی حکومت بنانے کی پیشکش کی جو یہ کہہ کر میں نے مسترد کر دی کہ ان کی عدد ی اعتبار سے اکثریت ہے اس لئے ہم ایسا نہیں کریں گے تاہم اب سوچتا ہوں کہ انکو نہیں آنے د ینا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا طاہر القادری کا پاکستان کی سیاست سے کوئی واسطہ نہیں وہ ایک مفاد پرست شخص ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے شہباز شریف نے کہاکہ منشور ہر کوئی دیتا ہے اس پر عمل کوئی کوئی کرتا ہے ۔ اب د یکھنا یہ ہے کہ کون اپنے وعدوں پر پوراترتا ہے ۔ نواز شر یف نے کہا تھا بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کروں گا ۔چئمپین شپ کے دعوے کرنے والوں نے اپنے دس سالہ دور میں جو کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔ تعلیمی ادراے تباہ کرد ئیے گئے ۔ کے پی کے میں تعلیم اور ہسپتالوں کا بنیاد ی ڈھانچہ تباہ کر دیا گیا ۔ نواز شریف نے دعوے کم اور کام زیادہ کئے، یہ وہ شخص ہے جو کہ جو بھی وعدہ کرتا ہےاسے عملی جامہ پہناتا ہے ۔ نواز شریف کے منشور کا اہم ستون قوم کو جوڑنا ہے ۔ انہوں نے کہا پانچ سالوں سے معاشرے میں جو زہر گھولا گیا وہ آسانی سے ختم نہیں ہوگا ۔ اس موقع پر ن لیگ کے رہنما عرفان صدیقی نے کہا منشور کے اعلان کے ساتھ ہی دھند کا چھٹنا نیک شگون ہے ۔ نومبر میں قائدین نے منشور کی تیاری کا کہا تھا ۔ مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے منشور کی تیاری میں معاونت کی ۔ انہوں نے کہا اصلا حات اور ترامیم کیوجہ سے منشو ر کی تیاری میں وقت لگا منشور ایک دستاویز ہے ماضہ کی کارکردگی کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا۔ منشور میں کوئی ایسی چیز نہیں رکھی گئی جو ہم اقتدار میں آکر نہ کر سکیں ۔ انہوں نے کہا نواز شریف نے منع کیا تھا کہ منشور میں جھوٹے خواب نہ دکھائے جائیں ۔ قبل ازیں سینیٹر عرفان صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کا منشور پیش کیا ۔منشور کے مطابق ترقی میں حصہ داری ،مہنگائی میں تاریخی کمی ،مالی سال 2025 تک 10 فیصد سے کم ،مہنگائی 4 سے 6 فیصد تک لانا ،4 سالہ ہدف ،1 کروڑ سے زائد نوکریاں ،5 سالہ ہدف ،کرنٹ اکاوٴنٹ خسار? GDP کا 1.5 فیصد ،GDP کے تناسب سے ٹیکس 13.5 فیصد تک بڑھانا 5 سالہ ہدف ،سالانہ بر آمدات 60 ارب ڈالر ،اقتصادی شرح نمو 6 فیصد سے زائد ،افرادی قوت کی سالانہ ترسیلات زر ،عربت میں 25 فیصد کمی ، بیروزگاری میں 5 فیصد کمی ،فی کس آمدنی 2,000 ڈالر ،مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد یا اس سے کم ،GDP سے سرمایہ کاری کا تناسب 18 فیصد ،GDP سے بچت کا تناسب 17 فیصد ،تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ منشورکا حصہ ہے،زراعت کی جدت کان کی خوشحالی ،سود سے پاک مرض ،چھوٹے کسانوں کے لئے سود سے پاک قرضوں کی فراہمی ،مراعات ،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لئے ،مراعات کارپوریٹ کا شتکاری کے لئے ٹیوب ویل ،فصل کی پیداوار میں ڈریپ کا فروغ سپر نکل آبپاشی ،صارفین کے لئے براہ راست ،کسان مارکیٹ ،کھت سے مارکیٹ تک ،سڑکوں کی تعمیر ،لائیو سٹاک میں خود کفالت ،کسانوں کیلئے مراعات ،فصل کے نقصان کو کمی اور ذخیرہ کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ،زراعت میں ترقی کے لئے ڈرون کا استعمال ،زراعت کے لیے صنعت کا درجہ ،چھوٹے کسانوں کے لئے سمارٹ کریڈیٹ گارنٹی ،قیمتوں کے اتار چڑھاوٴ پر قابو پانے کیلئے فوڈا سٹیبلائزیشن فنڈ ز کا قیام ،بین الاقوامی معیار کے مطابق برآمدی معیار یقینی بنانا
،ہائبرڈ سیڈ کے لئے ریسرچ فنڈ ،پائیدار زراعت کے لئے کراپ زونگ ،پاکستانی زراعت میں موسمی مدافعت ،بلوچستان میں کچھی کنال کی تعمیل ،گنے کی منظم کاشت ،کپاس اگانے والے علاقوں میں مخصوص فصلوں پر پابندی ،زیادہ پانی والی فصلوں کی حوصلہ شکنی ،کھا دوں اور کیٹرے مار ادویات کی بروقت دستیابی اور مناسب قیمتیں منشور میں شامل ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ پاکستان کی تعمیر ،،سموگ سے پاک پاکستان حیاتیاتی تنوع، جنگلات اور شجر کاری کے ،ملک بھر میں ہوا کے معیار کی بہتری کے لئے اقدمات ،4RF کا نفاذ موسمیاتی مدافعت ، بحالی اور تعمیر نو کا لائحہ عمل ،پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی ،2022 کے سیلاب سے بحالی ،تباہی اور نقصان کے فنڈ ” کو فعال کریں گے ،پروگرام کو دوبارہ فعال کریں گے ،مینجمنٹ اور منصوبہ بندی ،کی بہتری ،پیشگی وارننگ سسٹم کی بہتری ،کچرے کی مینجمنٹ میں بہتری ،کار بن کریڈٹ پالیسی ،جنگلی حیات کی غیرت نونی تجارت تیاری اور نفاذ اور ناروا سلوک کی روک تھام ،ماحولیاتی خطرات سے دوچار علاقوں کی حفاظت ،وائلڈ لائف بورڈز کو خود مختار بنائیں گے ،فصلوں کی آتشزدگی کو کنٹرول کریں گے ،مرطوب علاقوں کے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ،تمام سرکاری دفتر کو ماحول دوست بھٹوں کی آلودگی کا خاتمہ بنائیں گے ،اینٹوں کے روایتی بھٹوں کو ماحول دوست زیگ زیگ کے بھٹوں میں تبدیل کریں گے ،موسمیاتی تبدیلی سے آگاہی کی قومی مہم چلائیں گے ماحولیاتی سیاحت کا فروغ ،سیاسی تقریبات میں جانوروں کے بطور تفریح استعمال پر پابندی منشور کا حصہ ہے،آئینی متانونی عدالتی اور انتظامی اصلاحات کی منصوبہ بندی ،آئینی اصلاح ،پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا ،پنچایت سسٹم ،تنازعات کے تصفیے کا متبادل نظام ،آرٹیکل 62 اور 63 کو اپنی اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا ،عدالتی، متانونی اور انصاف کے نظام میں اصلاحات ،بروقت اور موثر عدالتی نظام کا نفاذ کیا جائے گا ،یقینی بنایا جائے گا کہ بڑے اور مشکل مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر جبکہ چھوٹے مقدمات کا فیصلہ دوماہ میں سنایا جائے گا ،ضابطہ فوجداری 1898 اور 1906 میں ترامیم ،موثر، منصفانہ اور بروقت ،عدالتی تقرریاں ،نیب کا خاتمہ ،میرٹ اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا ،انسداد بد عنوانی کے اداروں اور ایجنسیوں کو مضبوط کیا جائے گا ،عدالتی کارروائی براہ راست نشر ،شل عدالتیں قائم کی جائیں گی ،ندر پار پاکستانیوں کی عدالتیں ،بہتر اور مضبوط بنائی جائیں گی ،عدلیہ میں ڈیجیٹل نظام ،حاندان اور بچوں کی تحویل کے قوانین میں اصلاحات ،جیل مینوئل کا جائزہ اور بہتری ،ای-کورٹس کا قیام ،آئینی متانونی عدالتی اور انتظامی اصلاحات کی منصوبہ بندی منشور کا حصہ ہے،سرکاری ملازمین کی تربیت گریڈ 17 سے 18 آفیسروں کے لیے آپریشنل کورس اور گریڈ 21 آفیسروں کے لیے سینئر لیڈرشپ کورس شروع کیے جائیں گے ،کار کردگی میں بہتری ،وزیر اعظم آفس اور وزارتوں کے مابین کارکردگی کی بنیاد پر بہتر رابطہ کاری ، مقامی حکومتیں ،مضبوط مالی اور انتظامی اختیارات ،نوجوانوں کی نمائندگی ،بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ فراہم کرنا اور حکومتوں کی تحلیل کے 90 دن میں انتخابات ،مقامی محکموں کو بلدیاتی حکومتوں کے مقامی حکومتوں کی ہر سطح پر نو جوانوں کی نمائندگی یقینی بنائی حوالے کیا جائے گا ،شہری اور ضلعی سطح پر معتامی ،خصوصی لوکل گورنمنٹ سروس کیڈر حکومتوں کو مربوط کیا جائے گا ،تمام متوازی اداروں، کمپنیوں اور حکام کو ضم کیا جائے گا ،صوبائی مالیاتی کمیشنوں کی تشکیل نو کی جائے گی سرمایہ کاری کے نئے طریقے / مواقع بنائے جائیں گے ،مقامی حکومتوں کو محصولات کا کم از کم %30 دیا جائے گا ،میونسپل بانڈ ز اور لینڈ ویلوکسچر کا نظام وضع کیا جائے گا ،مقامی حکومتوں کو مقامی سطح پر آمدنی بڑھانے کے لئے با اختیار بنایا جائے گا ،تعلیم اختیار اور تبدیلی : تعلیمی انقلاب کا آغاز ،اخراجات کے لئے GDP میں %4 اضافہ ،پرائمری اور سیکنڈری ایجو کیشن ،مواقع کا پہیہ پروگرام کا آغاز ،محفوظ اور قابل رسائی ٹرانسپورٹ ،ٹارگٹڈ ایجو کیشن سبسڈیز اور اسکالر شپس ،زیور تعلیم پروگرام، پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ اور پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (PEEF) میں توسیع ،ملک بھر میں ایوننگ سکولز کا قیام ،بھٹہ مزدوروں کے لئے سکولز کا ملک بھر میں قیام ،پنجاب ایجوکیشن فاوٴنڈیشن (PEF) اور پنجاب ایجو کیشن انیشی ایٹو مینجمنٹ اتھارٹی ،(PEIMA) کا ملک بھر میں پھیلاوٴ ،پورے ملک میں مزید دانش سکولز ،دی نیشنل کمیشن آن ایکسیلنس ان ایجو کیشن کا قیام ،Al (مصنوعی ذہانت )، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئر نگ، ریاضی (STEM)، مشین لرنگ تعلیم کا آغاز منشور کا حصہ ہے۔اعلی معیار ابتدائی تعلیم کی عالمگیر رسائی ،نیشنل اسکول نیوٹریشن پروگرام کا آغاز ،ٹیچر انڈکشن پروگرام کا آغاز ،اعلیٰ تعلیم کے لئے GDP میں %0.5 کا اضافہ ،اعلیٰ تعلیم تک رسائی %13 سے بڑھا کر %30 ،سالانہ اندراج %10 فی سال ، اعلیٰ تعلیمی ادارے HEIS کا قیام ،یونیورسٹیز میں انڈوومنٹ فنڈ کا قیام ،یونیورسٹیوں کو ضرورت اور کار کردگی کی بنیاد پر گرانٹس ،فیکلٹی کے لئے مراعات اور ٹیچر ٹریننگ اکیڈمی پاکستانی یونیورسٹیوں کے عالمی کیمپس ،ریسرچ کنسلٹنسی، صنعتی تربیت اور پیٹنٹ کی حوصلہ افزائی ،یونیورسٹی۔ صنعت پروگرام کا آغاز ،صوبائی یار ٹرڈ یونیورسٹیوں کی فنڈنگ منشور کاحصہ ہے۔ضلعی سطح پر میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کا قیام ،تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت ،بین الاقوامی سطح کے تسلیم شدہ تربیتی او ،یکیشن پروگرام ،بین الاقوامی ملازمت کیلئے TVET کی تربیت اور سر میفکیشن ،ٹیکنو کریٹس کی تعیناتی ،سپیشل ایجو کیشن ،تحصیل سطح پر مزید خصوصی سکولز کا قیام ،خصوصی سکولز کیلئے حب مع تعلیمی پالیسی تحقیقی ادارے ،بائیو ٹیکنالوجی اور نینو ٹیکنالوجی میں ہائی ٹیک زونز اور نیشنل سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام ،نئی جدید ترین انجینئر نگ یونیورسٹیز کا قیام ،ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے قومی بجٹ میں اضافہ ،، ٹیکنالوجی اور انوویشن پارکس کا قیام ،اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کیلئے نیشنل انوویشن ایوارڈز کا آغاز بھی منشور کا حصہ ہے،سستی اور زیادہ بجلی ترقی میں تیزی ،بجلی کے بلوں میں 20 تا 30 فیصد کمی ،بجلی کی پیداوار میں 15000 میگاواٹ کا اضافہ ،شمسی توانائی، تھر کول، ہائیڈل، نیوکلیئر اور ونڈ انرجی کے استعمال میں اضافہ ،بھر میں شمسی توانائی سے 10,000 میگاواٹ ،بجلی کی پیداوار دوست افتدام ،کسانوں اور پسماندہ افراد کے لیے سبسڈی ،،دیہات میں بجلی کی فراہمی کے جامع منصوبہ،نیشنل گرڈ میں توسیع منشور میں شامل ہے۔پیداواری لاگت میں کمی ،کم خرچ بجلی، ٹیرف کی بولی اور غیر موثر پلانٹس کی تبدیل ،گردشی قرضوں کا حاتمہ ،ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لئے سرمایہ کاری میں اضافہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے دوران بجلی کے ضیاع اور چوری میں کم ،ڈسٹر یویشن کمپنیوں کی نجکاری نئی پاور پالیسی کا آغ???از مستقبل کے آئی پی پی معاہدے پاکستانی روپے میں ،غیر ملکی زر مبادلہ پر مبنی خود مختار ضمانتوں کا خاتمہ توانائی کے شعبے کی مسابقتی سپلائی مارکیٹ کی جانب منتقلی ،بجلی کو توانائی کا مرکزی ذریعہ بنانے کے لئے اقدامات مقامی گیس کے استعمال سے بجلی کی مستحکم پیداوار منشور کا حصہ ہے،خطے میں تجارت اور توانائی کا فروغ ،خطے کے امن و امان ، معاشی ترقی اور باہمی احترام کی بنیادوں پر بھارت سے تعلقات استوار کئے جائیں گے جس کے لئے ضروری ہے کہ سعودی عرب، متحدہ امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک،اپنی افرادی قوت برآمد کریں گے اور اقتصادی ، تجارتی اور معاشی ،شراکت داری کے ذریعے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط کریں گے ،مقبوضہ جموں کو شمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کے یکطرفہ غیر آئینی فلسطین اور القدس شریف ،اقدام واپس لے تنازعہ جموں وکشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت ، اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی شدید مذمت اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے عالمی سطح کے مطابق حل کیا جائے گا،تجارت، معیشت ، دفاع اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے مثالی برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے ،معیشت، توانائی اور دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے فروغ کے لئے تعلقات مزید بہتر بنائیں گے ،امن کے لئے مل کر کام کریں گے، تجارت و انفراسٹرکچر کے لئے رابطوں میں اضافہ اور موثر سرحدی نظام کو یقینی بنائیں گے۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے امت مسلمہ کی سرکردہ آواز بن کر مسئلہ کشمیر، مسئلہ فلسطین اور اسلاموفوبیا کے خلاف امت مسلمہ کو متحد کریں گے ،پاکستانی خارجہ پالیسی میں اہم حیثیت معیشت ،تجارت ، باہمی مفاد میں امن، اقوام متحدہ میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں کے حل، تجارتی مراعات، انسداد دہشت گردی صحت تعلیم ، آئی ٹی اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر مل کر کام کریں گے ۔توانائی اور تجارت کو یقینی بناتے ہوئے خطے میں امن اور خوشحالی کے لئے طویل شراکت داری کو یقینی بنائیں گے ،سرمایہ کاری کی سہولت ، ہنر مند افرادی قوت کی برآمد، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور SDG کے نفاذ کے لیے اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم کا استعمال کریں گے ،افریقہ اور لاطینی امریکہ مستحکم اقتصادی تعلقات استوار کریں گے ،یورپ اور برطانیہ دیگر کثیر الجہتی فورمز جی ایس پی پلس میکانزم ، ایمیگریشن اور اسلاموفوبیا جیسے مسائل کے حل G-77، ECO SCO اور 8-D میں فعال شمولیت، اور FATF BRICS کی رکنیت حاصل کریں گے کیلئے تعلقات استوار کریں گے ،عوامی فلاح و بہبود کیلئے عامہ کی تشکیل نو ،یونیورسل ہیلتھ کوریج اور انشورنس اوسط بالخصوص کم آمدن طبیعات کے لیے علاج کی مفت سہولیات ،نئے ادارے ،ہر صوبائی دارالحکومت میں میڈیکل سٹی کا قیام ،ہاسپیٹل مینجمنٹ اتھارٹی کا قیام ،ہر صوبے میں کینسر ہسپتال کا قیام ،بنیادی صحت ،2029 تک پولیو وائرس کا خاتمہ،2029 تک %90 بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا عزم ،تمام بنیادی و دیہی صحت مراکز میں 24 گھنٹے اسکریننگ و تشخیص کی سہولت ،علامت کی خون مراکز ،ملک گیر نیٹ ورک کا قیام ،کلینک آن وئیل پسماندہ اور کچی آبادیوں میں آغاز ،صحت کی تمام بنیادی سہولتوں اور دیہی مراکز کی بحالی ،200 ماڈل دیہی صحت مراکز میں 24 گھنٹے سکریننگ اور تشخیص کی سہولیات ،قومی و صوبائی ایمر جنسی رسپانس سینٹرز کا قیام ،ایمبولینس سسٹم میں توسیع منشور کا حصہ ہے،محفوظ حاندانی منصوبہ بندی کی خدمات / سہولیات ،غذائیت میں کمی کے خاتمے کا قومی پروگرام ،لیڈی ہیلتھ ورکرز، کلینک آن و بیل، بنیادی و دیہی صحت مراکز تک رسائی وزیر اعلی پنجاب اسٹنٹنگ ریڈکشن پروگرام کو قومی سطح تک پھیلانا ،غذائیت کی کمی پر متابو پانا ،یونیسف اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمزور بچوں پر ترجیح دی جائے گی ،ثانوی نگہداشت / سیکنڈری ہیلتھ کیر سہولیات میں بہتری سروس کی بہتر فراہمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ،جیل ہسپتال تمام شعبوں میں ترجیحا بہتری لانا ،ٹرشری ہیلتھ کئیر اثر سری نگہداشت ،تمام ٹرشری سپتالوں میں بہتری اور معمل اصلاح آپریشن تھیڑ کی حالت میں بہتری ادویات او پی ڈی ، آئی پی ڈی اور ایمر جنسی میں اعلی کوالٹی ادویات کی مفت فراہمی منشور کاحصہ ہوگا،عوامی فلاح و بہبود کیلئے صحت عامہ کی تشکیل نو ،ایمر جنسی دیکھ بھال ،تر شری سہولیات کے تمام ایمر جنسی بلاکس کو بہتر بنانا ،سنٹرلائزڈ اسٹروک مینجمنٹ ،ٹم متعارف کروانا ،دل کی تنگ شریانوں اور انجی شریانوں اور انجائنا کے علاج کے جدید طریقوں کو متعارف کروانا ،PCI کرنے کے لیے ٹرشری سہولیات کو فعال کرنا ،بستروں کی گنجائش میں اضافہ ،2012 میں شروع کیے گئے منصوبوں کی تکمیل ،اعلی معیار کی تشخیصی خدمات ،سی ٹی سکین ، ایم آر آئی اور کیچھ لیجز کے لیے بے فار پر فارمنس ” ماڈل کی تشکیل ،میڈیکل / طبی ،PKLI یونیورسٹی کا افتتاح،نرسنگ کے لیے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز ،نرسنگ کالجز میں بہتری اور نرسنگ طلباء کی تعداد میں اضافہ ،میڈیکل کالجز کا سینٹر آف ایکسی لینس بین الاقوامی امتحانات کے طور پر قیام گردوں اور جگر کے علاج کیلئے خصوصی فنڈز کا قیام شامل ہے،پاکستان کے تمام میڈیکل گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کی بین الاقوامی مقبولیت اور پہچان ،ہیلتھ پروفیشنلز کے لیے قومی انٹرن شپ پروگرام بھی منشور کا حصہ ہے،انفارمیشن ٹیکنالوجی : ڈیجیٹل ترقی کا آغاز ،20 ارب ڈالر ،،انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات 5 سالوں میں 50 لاکھ طلبا اور فری لانرز ،کو ڈیجیٹل سکن کی تربیت ،وائی فائی ہاٹ سپار ،کی بتدریج مفت فراہمی ،وائی منائی شہر ،اسلام آباد اور صوبائی دار الحکومتوں کو وائی فائی شہر بنایا جائے گا ،آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،مصنوعی ذہانت اور مشین لرنگ سیکھنے اور اپنانے کا فروغ ،خواتین کو بااختیار بنانا ،خواتین کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں شرکت ،پاکستان ٹیکنالوجی فنڈ ،سٹارٹ اپس کے لیے فنڈ قائم کیا جائے گا ،اصلاحات سپیکٹرم ، لائسنسنگ اور مسابقت کے نظام کی بہتری ، 5 آئی ٹی شہر ،5 بڑے شہروں کو آئی ٹی شہر بنایا جائے گا ،آن لائن ادائیگی کا نظام آئن لائن پے منٹ گیٹ وے کمپنیوں کو پاکستان میں لایا جائے گا ،نچر کیپیٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی سرمایہ کاری میں اضافہ ،ڈیجیٹل اینڈ موبائل پیمنٹ ڈیجیٹل اور موبائل کے ذریعے سرکاری ٹرانزیکشن ، تنخواہوں اور پنشن کی ،ادائیگی کا نظام ،ستا براڈ بینڈ ،،انٹرنیٹ میں توسیع کر کے کم قیمت پر فراہمی ،ای کامرس اور ایم کامرس کی حوصلہ افزائی اور فروغ ،پسماندہ اور نیم پسماندہ ،علاقوں میں سیلا سمیٹ کے ذریعے انٹرنیٹ کنیکٹیو یٹی کو یقینی بنایا جائے گا ،بلا سود قرضے، خصوصی سوشل سیفٹی نیٹ اور مالی امداد ماہی گیروں، چھوٹے کسانوں اور ہاکرز کے لئے ڈیجیٹل بینکینگ آپریشنز کے ذریعے ،ISSI اور EOBI کی سہولیات ،نیشنل لیبر ہیلپ لائن کا آغاز ،EOBI کے ذریعے ریٹائر منٹ پلانز ،ماہی گیروں اور ماہی گیری کی صنعت کے لئے سہولیات ،سینئر سٹیزن کارڈ اور سہولیات ،مزارعین اور حصہ دار کان ،EOBI انشورنس ، سفری اخراجات اور ٹیکس میں چھوٹ کسان پیکچ اور زرعی اصلاحات منشور میں شامل ہے،پاکستان کی انفارمیشن فلم ڈرامہ اور میوزک انڈسٹری کے نئے دور کا آغاز ،صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کو توسیع دینا ،صحافیوں کے تحفظ کے لئے نیشنل سیکیورٹی اور سیفٹی کمیشن کا قیام ،میڈیا ورکرز کے لئے لائف انشورنس فنکاروں اور کاریگروں کے لئے میں توسیع دینا ،نئی میڈیا اینڈ مسلم یونیورسٹی کا قیام ،وزیر اعظم ہیلتھ انشورنس ،اسلام آباد میں میڈیا سٹی کا قیام ،پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور شالیمار براڈ کاسٹنگہ چینی کا انضمام ،معاشی خود کفیل بنانے کے لیے پی ٹی وی پارلیمنٹ کو آزاد چینل کی حیثیت سے توسیع دینا پی ٹی وی کی مکمل HD پر منتقلی لی ٹی وی فلکس (FLIX) کی بحالی میڈیا ٹرینگ کے لئے نیشنل سنٹر آف ایکسیلینس کا قیام ،انفارمیشن سروس اکیڈمی ، پی ٹی وی اکیڈمی اور (PBC) پاکستان براڈ کاسٹنگ اکیڈمی برائے اطلاعات کا انضمام ،پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر بچوں کی دلچسپی سے متعلقہ مواد کی نشریات ،پاکستان کی انفارمیشن فلم ڈرامہ اور میوزک انڈسٹری کے نئے دور کا آغاز ،پاکستان فلم انسٹیٹیوٹ، نیشل فلم سٹی اور نیشنل مسلم اکیڈمی کا قیام ،دو ارب کا سالانہ مسلم فنانس فنڈ مسلم کے لئے مالیاتی حوصلہ افزائی جاری رکھنا ،آلات اور CSR فنڈنگ پر ٹیکس کا مکمل خاتمہ ،پاکستان کی پہلی میوزک پالیسی (2023) تے معتامی سینماوٴں کا قیام کا نفاذ ،مسلم لیبز کی حوصلہ افزائی ،ہر سال فلمی میلے، نیشنل ایوارڈ اور نیشنل ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا انعقاد منشور میں شامل ہے،محفوظ پاکستان : خوددار اور خود مختار ،دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ،5TH جنریشن وار فیئر کے لئے مسلح افواج میں جدت ،جدید خطوط پر پولیس کی تنظیم سازی ،انداد دہشت گردی کے محکمے اور فرانزک لیبارٹریز ،تمام صوبوں میں پنجاب ماڈل پر عمل ،سرحدوں پر آمدورفت کا بہترین ،فضائی جنگی صلاحیت میں اضاف ،احلوں کی حفاظت کا جدید نظام ،انتظام ،دفاعی خود انحصاری ،اسلحے کی پیداوار میں خود کفالت ،ذمہ دار جوہری قوت کے طور پر اپنا معاشی محرومی اور عدم مساواں ،معتام برقرار رکھنا کا خاتمہ ،جوہری اثاثوں اور میزائل صلاحیت کی حفاظت ریٹائرمنٹ کے بعد سولجر ویلفئیر ،قومی سلامتی کے لئے معاشی ترقی میں اضافہ ،وڑن 2025 اور 5ES فریم ورک پر عملدرآمد ،نظام انصاف میں اصلاحات کے اقدامات منشورکا حصہ ہیں،مقامی طور پر تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار میں اضافہ زمین اور سمندر میں تیل و گیس کی دریافت ،سعودی عرب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے قیام کے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی ،تیل و گیس کے اثاثوں سے متعلق مسابقتی نیلامی کے عمل کا فروغ بین الا قوامی اشتراک عمل سے جیولوجیکل، سیز تک جامع ڈیٹا کا حصول اور اسکی عالمی سطح پر دستیابی ،پاکستان کی پہلی بین الاقوامی گلوبل انرجی ٹریڈنگ کمپنی کی تشکیل کم ترین قیمت پر تیل اور ایل این جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ،جامع بین الاقوامی انرجی سیکیورٹی معاہدے کئے جائیں گے ،گھروں کو گرم رکھنے، پانی گرم کرنے اور کھانا پکانے کے لئے گیس کے بجائے بجلی کا استعمال بڑھایا جائے گا ،گردشی قرضوں کا مستقل حاتمہ ،گیس کی یکساں قیمت کا اطلاق منشورمیں شامل ہے،پائیدار اور سستی توانائی ،پاکستان کے توانائی ذرائع کا یقینی تحفظ ،ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئلے کو ماحول دوست توانائی میں بدلنے ، کاربن میں کمی اور کوئلے کو گیس میں بدلنے کے منصوبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی خود افزائی کی جائے گی ،ٹائٹ گیس کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو تیز کیا جائے گا ،یقینی بنایا جائے گا کہ مقامی گیس کی قیمت درآمدی آر ایل این جی کی قیمت سے زائد نہ ہو ،پاکستان میں فیل تیل و گیس کی تجارتی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا آرایل این جی ٹرمینلز کے لئے تھرڈ پارٹی رسائی کی سہولت دی جائے گی ،آر ایل این جی ٹرمینلز کی سہولت مقامی صنعتوں خاص طو پر بر آمدات کرنے والی صنعتوں کو دی جائے گی ،گیس کی تقسیم کار کمپنیوں (ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی) کی ڈی ریگولیشن کی جائے گی ،گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی تشکیل نو ،چھوٹے کاروبار کے لئے سمارٹ میٹر کی تنصیب اور نفع نقصان کے موازنے اور احتساب کا نظام وضع کیا جائے گا ،گیس معاہدے کے حوالے سے پاکستان اپنے وعدوں پر عمل کرے گا ستی قدرتی گیس کی فراہمی کے لئے پائپ لائن کی تکمیل ،تیل و گیس کی سرکاری کمپنیوں کو پائیدار قابل تجدید توانائی کی طرف منتقل کیا جائے گا ،پائیدار اور سستی توانائی ،پاکستان کے توانائی ذرائع کا یقینی تحفظ ،گوادر کو خطے میں توانائی کا مرکز بنایا جائے گا ،رین انرجی فنڈ قائم کیا جائے گا ،کار بن کریڈٹس کے ذریعے گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا کے لئے پالیسیوں کا نفاذ ،تیل کی صفائی اور تلاش کے دوران کاربن کی موجودگی کے اثرات کو کم کیا جائے گا ،قدرتی گیس پر چلنے والے بجلی گھروں کی سستی ایل این جی پر منتقلی ،بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ،کان کنی کے لئے مسابقتی بنیادوں پر لیز دی جائے گی ،کان کے لئے ممکنہ مقامات پر جیولوجیکل سروے کرائیں گے اور ہر کان کنی والے علاقہ کے تجارتی بنیادوں پر موزوں ہونے اور اس کی معدنی قد و قیمت کا تخمینہ لگایا جائے گا ،پاکستان کی تعمیر نو ،صوبائی اوور سیز کمیشن کا قیام اوور سیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص وطن واپسی پر مکمل سہولیات ،جائیداد سے متعلق مسائل اور تنازعات کا حل ،تنازعات کے متبادل حل کا طریقہ کار ،زیادہ ترسیلات زر بھیجنے والے ون ونڈو سر مایہ کاری کی سہولیات ،مخصوص امیگریشن کاوٴنٹر ،خصوصی ٹربیونلز اور کمر شل کورٹس کا قیام ،پبلک سیکٹر ہاوٴسنگ سکیموں اوور سیز پاکستانیوں کے لیئے قومی اعزازت ،دستاویزات کی آن لائن تصدیق کی سہولیات ،پورٹ اور نادرا سے متعلق اوور سیز ایڈوائزری کونسلز میں % 10 کوٹہ 5 رعایت پر 5% خصوصی قومی بچت اسکیم ،آن لائن بائیو میٹرک تصدیق ،سٹارٹ اپس اور کاروباری منصوبوں کے لیے مکمل سہولت کاری ،اوور سیز پاکستانیوں کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ عظیم الشان شہر کا قیام منشور کا حصہ ہے،آبادی میں توازن لانے کا لائحہ عمل ،آبادی میں اضافے کی شرح کو معقول سطح تک کم کرنے کا پائیدار نظام ،قومی آبادی کی انتظام کاری ،نیشنل پاپولیشن مینجمنٹ کونسل قائم کریں گے ،سیاسی اور مذہبی اتفاق رائے کا حصول ،پیدائش میں وقفے کے بارے میں آگاہی ،دوست مسلم ممالک کی مثالوں سے سبق ،ضروری تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی ،قومی آگاہی اور بیداری مہم کا آغاز ،قومی نصاب میں پاپولیشن مینجمنٹ کا مضمون بھی منشور کا حصہ ہے،شہری، سماجی اور مذہبی حقوق کا تحفظ ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں، اداروں اور اثاثوں کا تحفظ ،بین الاقوامی پروٹو کول ،مطابقت کو یقینی بنایا جائے گا ،مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے اقتدامات قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے سخت سزائیں مقرر کی جائیں گی ،مذہب کی جبر اتبدیلیوں کو روکنے کے لیے اقدامات،اقلیتوں کے قومی کمیشن کی مضبوطی ،قومی و صوبائی انسانی حقوق کمیشن کی مضبوطی شمولیت، اشتراک اور سہولت کو یقینی بنایا جائے گا ،کھیلوں کے لئے نئی سہولیات فراہم کھیلوں کے اداروں میں کرتے ہوئے موجودہ سہولیات کو بہتر بنانا ،اصلاحات لانا ،وزیر اعظم یوتھ پروگرام میں توسیع کھیلوں کا فروغ ،سکولوں میں کھیلوں کی تعلیم مربوط کرنا ، یونیورسٹی کا قیام ،معاشرے میں نچلی سطح تکہ تک اکیڈمیوں کے قیام سے نچلی سطح پر ٹیلنٹ کو فروغ دینا ،تعلیمی اداروں میں کھیلوں کا کوٹہ ،پورس انڈوومنٹ فنڈ کو بڑھانا کوٹہ کو کھیلوں میں کارکردگی سے منسلک کرنا ایلیٹ کھلاڑیوں کی تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی سہولت ،پورٹس کارڈ کا اجرا ،تعلیم اور ٹرانسپورٹ میں رعایت ،ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لئے فنڈنگ ،ای سپورٹس کی حوصلہ افزائی خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی اور سہولیات کی فراہمی ،ایلیٹ کھلاڑیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس سہولیات اور مساوی تنخواہ کی فراہمی منشور کا حصہ ہے۔،ٹورازم فنانس کارپوریشن کا قیام ،سیاحت کے منصوبوں کی مالی امداد اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں سرمایہ کاری ،ٹرانسپورٹ لیزنگ میں آسانی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ہا سیٹیلیٹی منیجمنٹ کی ڈگریاں
،معتامی اور بین الاقوامی سیاحت کا فروغ شمالی و ساحلی علاقہ جات ، مذہبی اور ثقافتی سیاحت کی ترجیح ،بین الاقوامی تشہیر کی مہم ،تہواروں اور ثقافتی تقریبات کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ،برانڈڈویلپمنٹ کے لئے نیشنل سنٹر کا قیام ،حکمت عملی برائے نیشنل برانڈ ،اسکئینگ، بیچ اور ایکسٹریم اسپورٹ س ریزورٹس ،ای ویزا اور ویزا آن آرائیوں کی مزید ملکوں کے لئے توسیع ،نیشنل ٹورازم اتھارٹی کا قیام منشور کا حصہ ہوگا،بر آمدات سے ڈالیں تجارت میں جان کمر طریقہ کار ،سالانہ بر آمدات 60 ارب ڈالر تجارت دوست کسٹمر کا5 سالہ ہدف ،آئی ٹی کا استعمال برآمدات کو داخلی ٹیکسوں سے استثنیٰ،این اوسی اور لائنس کی ضرورت میں کمی ،پاکستانی مصنوعات کے لئے نئی منڈیاں ریگولیٹری ایکسپوڑر کا استحکام ،ای کامرس کا فروغ نئے بر آمدی شعبوں کے لئے ٹیکس خام مال ،درآمدی ڈیوٹیز میں کمی اور برآمدی ڈیوٹیر میں اضافہ ،خود مختار ایکسپلوریشن اینڈ ٹ کا قیام ،نیم تیار اور تیار شدہ مال ،درآمدی ڈیوٹیز میں اضافہ ،تتار شدہ مال ،برآمدی ڈیوٹیز میں کمی ،درتی وسائل: دریافت اور پیداوار ،پیٹرولیم اور قدرتی وسائل ڈویڑن میں خود مختار دریافت و پیداوار (E&P) یونٹ قائم کریں گے ،سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ،تجارتی انفر مراسٹرکچر میں گرین فنانسنگ منشور کاحصہ ہوگا۔منشور میں کہاگیا ہے کہ ایگزم بینک کو فعال کیا جائے گا(برسوں کی تاخیر کے بعد حال ہی اس بینک نے کام شروع کر دیا ہے لیکن پوری طرح فعال ہونے کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے ،درآمد کی جانے والی اشیاء اور مصنوعات کی معتامی سطح پر تیاری اور دستیابی کے علاوہ ہر شعبے کے لحاظ سے درآمدی اشیاء کے متبادل کی فراہمی کا پلان دیا جائے گا ،گرین رعایتی مالی مدد کی فراہمی کے پروگرام براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے چلائے جائیں گے اور نئی قائم ہونے والی نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ کو سرمائے کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جائے گا تاکہ قابل تجدید بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس سے توانائی کی پیداوار بڑھائی جاسکے۔ اسی طرح منتخب کردہ صنعتوں کے لئے کم ایندھن میں زیادہ بجلی پیدا کرنے والے قابل تجدید توانائی کے منصوبے لگائے جائیں گے ،نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ کو کم توجہ پانے والے کاروباری طبعیات کے لئے استعمال کیا جائے گا اور سمال اینڈ میڈیم اینٹر پرائزز کے دائرے کو بڑھانے کے لئے وسائل فراہم کریں گے۔ یہ رقم کم از کم 60 ارب روپے ہوگی ،پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹرانسپورٹ اور کارگو کے انضمام کا منصوبہ ،روڈ انفراسٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ سسٹم ،لاہور، پشاور اور کراچی میں ریپڈ ماس ٹرانزٹ کو مزید بڑھانا ،حیدر آباد، بہاولپور، فیصل آباد اور کوئٹہ میں BRT کو مکمل کرنا ،تمام ڈویڑن کے مرکز میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم سٹم بنانا ،دیہی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا حیدر ،اسلام آباد ، سیالکوٹ – کھاریاں – راولپنڈی اور لاہور۔ساہیوال ولنگر موٹر ویز کو مکمل کرنا ،کراچی – حیدر آباد 9-M کی نئی صف بندی کیساتھ تعمیر ،پرانی موٹرویز ، ہائی ویز اور رنگ روڈ میں بہتری اور نئی تعمیرات ،سیف سٹی پروجیکٹس کو نئے شہروں تک بڑھانا ،نقل و حمل / ٹرانسپوٹ کو مقابل رسائی، ستا اور سرسبز بنانا منشور کا حصہ ہوگا۔ ٹرانسپورٹ اور کارگو کے انضمام کا منصور ،ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع کا انضمام ٹرینوں، بسوں اور ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کی باہم ہموار منتقلی ،ٹریفک قوانین کا سخت سے نفاذ یقینی بنانا ،جیکب آباد – سبی، کوئٹہ 3-ML-1,ML-2,ML کو اپ گریڈ کرنا ،حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹریک اور رولنگ سٹاک کی ہنگامی بحالی اور اپ گریڈیشن ،مسافروں کی سہولت کے لیے ریلوے اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کو جاری رکھنا ،4-ML منصوبے کے تحت کوئٹہ – گوادر کو لنک کرنے کے اقدامات ،کراچی سے لاہور کے درمیان الیکٹرک ٹریک شروع کرنا ،تھر کے کوئلے کو مکمل طور پر ریلوے نیٹ ورک سے مربوط کرنا ،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر کراچی۔ راولپنڈی کے لیے وقف کوریڈور مکمل کرنا منشور میں شامل ہے،بندرگاہوں اور ٹرمینل سہولیات کو بہتر بنانا ،1-ML کی تکمیل کے بعد اس پر زیادہ سے زیادہ کارگو آپریشنز یقینی بنانا ،تمام بغیر پائلٹ لیول کراسنگز کو عالمی طریقوں سے اپ گریڈ کرنا ہوا بازی / ایوی ایشن لاہور اور کراچی ائیر پورٹس کی توسیع مکمل کرنا ،لاہور، کراچی اور اسلام آباد ائیر پورٹس کو آوٴٹ سورس مینج کرنا ،سکھر ائیر پور کوئٹہ اور سکھر ٹس کو اپ گریڈ اور وسیع کرنا ،سکھر ائیر پورٹ کو اپ گریڈ کر کے بین الاقوامی ائیر پورٹ بنانا ،قومی مفاد کے مطابق معقول اوپن سکائی پالیسی اختیار کرنا ،ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے ائیر پورٹ کی تعمیر بھی منشور کا حصہ ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹرانسپورٹ اور کارگو کے انضمام کا منصور سمندری امور ،قومی بندرگاہوں کی ترقی کے منصوبے بنا کر ان پر عمل کرنا گوادر کو سمارٹ پورٹ سٹی بنانا ،فری ٹریڈ زون بنانا، مکمل توسیع کرنا، واٹر سپلائی اور پلانٹ تائم کرنا ،کراچی پورٹ کی صلاحیت میں اضافہ کرنا پورٹ و اکنامک زون اور صنعتی و تجارتی مرکز تیار کرنا ،CPEC کے تحت کراچی ساحل کی ترقی کا جامع منصوبہ تیار کرنا ،گوادر اور پورٹ قاسم پر جہاز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو توسیع سازی کے پلانٹس لگانا نجی شعبے کے ساتھ اشتراک کرنا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے لیے وفاقی وزارت قائم کرنا نئے جہاز شامل کرنا ٹرانسپورٹیشن گورننس ،نیشنل روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی قا ئم کرنا
،پالیسی سازی اور عملدرآمد کو مربوط کرنا منشور کا حصہ ہے۔،بچوں کے حقوق کا تحفظ چائلڈ لیبر کا خاتمہ،چائلڈ میرج کا خاتمہ ،شناختی دستاویز ،بلا امتیاز اور باوقار طریقے سے شناختی دستاویزات کی فراہمی ،امتیازی سلوک کی روک تھام ،بزرگ شہریوں پر مشتمل تمام مقدمات کا مسعد مدت میں فیصلہ ،سنیئر سٹیزن ویلفئیر فنڈ کا قیام ،اولڈ ہومر کی سہولیات میں توسیع ،زیادتی کا شکار بچوں کی بحالی کے لئے سماجی تحفظ پروگرام ،ٹرانس جینڈرز ،مساوی مواقع کی یقین دہانی ،تعلیم ، صحت ،سماجی تحفظ، اور روزگار ،بزرگ شہری ،سنیئر سٹیزن ڈسکاوٴنٹ رہائش ، صحت اور سفری اخراجات میں رعایت ،سنیئر سٹیزن کارڈ کا آغاز EOBI انشورنس، سفری رعایت ، ٹیکس میں چھوٹ ،خصوصی افراد صحت کی بہتر سہولیات ،ہنر مندی کے مراکز کا قیام ،خود کفالت کا فروغ ،خصوصی افراد کے لئے مخصوص صحت سہولیات ،رسائی کی بہتری کے لئے جامع نظام بھی منشور کا حصہ ہے،پینے کے صاف پانی تک رسائی یقینی بنانا ،دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل ،نئے پانی کے ذخیرہ کے لئے ہائیڈرو پاور ڈیمز کی تعمیر ،فی یونٹ پانی سے دو گنا زرعی پیداوار کا حصول ،کلین ہائیڈرو پاور کو تین گنا کر کے سیلاب کے اثرات کو کم کرنا ،پانی اور سیوریج کی سہولیات کو بہتر بنانا ،سیلاب کی روک تھام کے نظام کو موٴثر اور بہتر بنا ،پانی کی بچت کے لئے قومی بیداری مہم کا آغاز ،پاکستانی آبی وسائل کے لیے خصوصی متحدہ کیڈر سروس کا قیام ملک گیرت نونی اور ریگولیٹری واٹر فریم ورک کی تیاری منشور کا حصہ ہے،خواتین بااختیار بنا ئیں : استعداد پاکستان بڑھائیں ،خواتین کے لئے صحت کی سہولیات دوران زچگی شرح اموات میں کمی ،تنخواہوں میں صنفی امتیاز کا خاتمہ میں توسیع، جہیز کے خلاف سخت قانون کا نفاذ وویمن آن وسیلز پروگرام میں توسیع ،بیٹی کا تحفظ قوم کا تحفظ پروگرام کا آغاز ہر بچی کے لئے انشورنس ،خواتین کے لئے سکوٹیز اور بائیکس ،خواتین کے لئے روزگار ،5 فیصد حکومتی خریداری 50 فیصد خواتین ملازمت دینے والی کمپنیوں سے خواتین کے لئے قومی بجٹ میں اضافہ ٹرانسپورٹ کارڈ سے پبلک کاروباری خواتین کے لئے مراعات ٹرانسپورٹ میں رعایت ،معاشی و صنعتی زونز میں خواتین کے زیرانتظام کا روبار کے لئے %5 کوٹہ ،نیشنل پروگرام کا آغاز بھی منشور کا حصہ ہوگا۔خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے مراکز میں اضافہ ،بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے تعلیمی،باب و یمن سیفٹی ہیلپ لائن کی پورے ملک میں توسیع ،خواتین کے لئے الگ سائبر کرائم ونگ کا قیام ،خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام متاثرہ خواتین کی بحالی سرکاری اور نجی شعبوں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ بھی مشور کا حصہ ہوگا،نوجوان : ہمارا اجتماعی ،قومی سیاست میں نمائندگی کو یقینی بنانا پارلیمنٹ صوبائی اسمبلیوں اور لوکل گورنمنٹ ،طلباء یونین کی بحالی ،نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی وفاقی وزارت کا قیام ،نیشنل یوتھ اسکیم میں توسیع ،نوجوان کانوں کے لئے سولر پر یو تھ انٹر پرینیورشپ کو بڑھانا ،ٹارگٹڈ فنڈنگ کے ذریعے یوتھ انٹر پرینیورشپ نیٹ ورک کا قیام ،نیشنل یوتھ پورٹل کا اجرا ڈیجیٹل جاب پورٹل اور قومی سطح پر ای روز گار کا آغاز ،پاکستان کی پہلی اسپورٹس یونیورسٹی کا قیام ،یوتھ سکلز ڈیویلپمنٹ کا آغاز ،چلنے والے ٹیوب ویل اور رعایتی اعلیٰ تعلیم کے لئے اسکالر شپ ،مرضوں کی فراہمی انڈومنٹ فنڈ کا آغاز ،آئی ٹی سٹارٹ اپ کے لئے فنڈز 250 نئے اسٹیڈیمز اور اکیڈیمیز کا قیام بھی منشور کا حصہ ہوگا۔
Comments are closed.