اب چیئرمین پی ٹی آئی سیاست کرینگے یا ہم،وزیر داخلہ
فیصل آباد(آن لائن)وفا قی وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ نے ایک مرتبہ پھر کہاہے کہ عمران نیازی نے جس طرح کی سیاسی کی ہے اور ملکی سیاست کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پرپہنچادیا ہے ،اب یا تو چےئر مین پی ٹی آئی سیا ست کر ینگے یا پھر ہم کرینگے، ہم کوئی بدلہ نہیں لے رہے ، جیلوں کا ما حو ل ایسا ہی ہو تا ہے ،جب عمران نیازی وزیر اعظم تھے تو کہتے تھے کہ جیل میں سب کے حقوق برابر ہونا چاہئے ، کسی کو بھی گھرکا کھانا اورکوئی سہولت نہیں ملنی چاہئے ،اب عمران خان کو حوصلہ رکھنا چاہیے ۔ آن لائن کے مطابق ان خیالات اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے خصوصی گفتگو کرتے ہو ئے کیا ان کا کہنا تھا کہ یہ تا ثر درست نہیں ہے کہ عدالت نے عمران نیازی کو سزا دینے میں جلدی کی ، کیونکہ عدالت نے ان کو 13دفعہ مو قع دیا گیا ،مگر یہ صرف تاخیر کرنا چاہتے تھے،
عوام چےئر مین پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہو نگے انشا اللہ عوام ان لو گو ں کے ساتھ ہو نگے جو ملک میں امن چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ جیلوں کا ما حو ل ایسا ہی ہو تا ہیچےئر مین پی ٹی آئی کہتے تھے کہ جیل میں گھر کا کھا نا بھی نہیں ہو نا چاہیے ، چےئر مین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جیل میں سب کیلئے ایک ہی کلا س ہو نی چا ہیے ہمیں بھی اس طرح ہی جیل میں ہی رکھا گیا تھا جس میں چےئر مین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہے اگر کسی نے برا کیا ہو اور اس کے سا تھ برا ہو جائے تو پریشا نی کی با ت نہیں ، انہوں نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کی ایسا ہو مگر عمران نے جب وزیر اعظم تھا تو وہ کسی کے ساتھ ہاتھ ملنے کو تیار نہیں تھا آج چےئر مین پی ٹی آئی نے ملکی سیاست کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پرپہنچادیا ہے ،اب یا تو چےئر مین پی ٹی آئی سیا ست کر ینگے یا پھر ہم کرینگے، انہوں نے کہا کہ چےئر مین پی ٹی آئی اب یہ نہ سمجھیں کہ جیل سے پیغامات پہنچا کر ہمیں خوفزدہ کر دینگے ،
میں یقین دلا تا ہو میں نے ایسی کو ئی ہدا یا ت جا ری نہیں کی کہ عمرا ن خان کے ساتھ ایسا کیا جا ئے ،چےئر مین پی ٹی آئی درخوا ست دیں کہ مجھے عا م قیدیو ں کے ساتھ نہ رکھا جا ئے ، چےئر مین پی ٹی آئی کو بی کلا س چاہیے تو وہ اٹک میں بھی دی جاسکتی ہے اور اڈیا لہ میں بھی ،،چےئر مین پی ٹی آئی اب عا م قیدیو ں کے ساتھ رہنے کا تجربہ بھی کر لیں ،میرا خیا ل ہے کہ عدالت سے حکم ہو جائیگا اور انہیں سہو لیا ت مل جا ئینگی، اس کیس میں ویسے تو چےئر مین پی ٹی آئی کی ایک ہفتے میں ضما نت ہو سکتی ہے ،الیکشن 90سے 120دن تک جا نے میں ایک آئینی دلیل مو جو د ہے ،نگران وزیراعظم کیلئے مشا ورت جا ری ہے حتمی فیصلہ جلد ہو جا ئے گا
Comments are closed.