پاکستان اور ایران کا بارڈر سیکورٹی، انسداد دہشت گردی، مشترکہ منڈیوں،فری ٹریڈ زونز کو فعال کرنے پر اتفاق
اسلام آبا د(آن لائن)پاکستان اور ایران نے بارڈر سیکورٹی، انسداد دہشت گردی، مشترکہ منڈیوں،فری ٹریڈ زونز کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایران نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردانہ کارروائیوں میں تیسرا ملک ملوث ہے جو دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہا ہے، ایسی صورت حال میں دوطرفہ دانشمندی وقت کا تقاضا ہے ،پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سرحدوں سے گزرگاہوں کی سکیورٹی ہمارا مشترکہ مشن ہے ،دہشت گردوں نے دونوں ممالک کو بہت نقصان پہنچایا ،ہمیں مشترکہ طور پر اقدامات کرنا ہوں گے ،ملکی سلامتی اور خودمختاری کا احترام اولین ترجیح ہے، ہم سرحدوں پر معاشی مواقع پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔پیر کے روز وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے وزارتِ خارجہ میں ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کی، ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا،دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کے لیے مضبوط مکالمے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا جبکہ باہمی احترام اور مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی نقطہ نظر کی بنیاد پر امن اور خوشحالی کے باہمی مطلوبہ اہداف کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ایران اور پاکستان میں مقیم افراد کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ سرحدی خطے اور ایرانی اور پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں جنہیں تیسرے ملک کی مدد و قیادت حاصل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور پاکستان میں مقیم افراد کو ایک ہی قوم سمجھتے ہیں، پاکستان کے ساتھ اہم برادرانہ تعلقات ہیں،پاکستان کے ساتھ جغرافیائی تعلقات بھی اہمیت کے حامل ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی ہمارے لیے مقدم ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ سرحدی خطے اور ایرانی اور پاکستانی علاقوں میں دہشت گرد موجود ہیں جنہیں تیسرے ملک کی مدد و قیادت حاصل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران دہشت گردوں کو کوئی موقع نہیں دیں گے، دہشت گردوں نے ایران کوبہت نقصان پہنچایا، بارڈر پر موجود دہشت گرد دونوں ممالک کی سلامتی کیلیے خطرہ ہیں۔مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر گفتگو ہوئی، بارڈر پر موجود تجارتی مراکز کو فعال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔ دہشت گردوں کومشترکہ سلامتی کونقصان پہنچانے نہیں دیں گے، ایران اور پاکستان کے درمیان تعمیری اور مضبوط تعلقات ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سرحدی بازاروں، سرحدوں سے گزر گاہوں کی سیکورٹی ہمارا مشترکہ مشن ہے،دہشت گردوں نے ایران اور پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے،دونوں ممالک کے مابین جلد وفود کا تبادلہ ہوگا،ہم پاکستان کی سلامتی کو ایران اور خطے کی سلامتی سمجھتے ہیں،دونوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کا احترام کرتے ہیں ،آج ہم اسلام آباد میں ہیں تاکہ دہشت گردوں کو بھرپور جواب مل سکے،پاکستان اور ایران کی سیکیورٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا،پاکستان اور ایران نے دہشتگردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں ہیں،بلا شبہ پاکستان اور ایران کی سرحدوں پر موجود دہشت گردوں کی تیسرا ملک پشت پناہی فراہم کر رہا ہے،آج ہم نے بارڈر سیکورٹی, انسداد دہشتگردی, مشترکہ منڈیوں, مشترکہ فری ٹریڈ زونز کو فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے،ہم نے اپنے مشترکہ سرحدوں کو تجارت و خوشحالی کی سرحدیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے،مشترکہ باہمی تعاون سے ہم دہشت گردوں کے پاکستان و ایران کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گے
،جلد ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کریں گے،انہوں نے کہا کہ ہم نے زائرین، زیارات اور مذہبی سیاحت کر بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،پاکستان اور ایران نے ہمیشہ مختلف موضوعات پر مشترکہ موقف اختیار کیا ہے،ہمیں یقین ہے کہ اہل تشیع اور اہل سنت ایک ہیں ،ایران فلسطین اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گا،فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو سراہتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین طویل مضبوط تعلقات ہیں جو اس دہشتگردی پر قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوں گے،دونوں ممالک کی تشکیل کردہ ہائی لیول کمیٹی ایک اچھا میکنزم ہوگا اور کارگر ثابت ہوگا،دونوں قوموں کے خلاف دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے مشترکہ کارروائی کریں گے،مشترکہ تعاون اور سرحدی صوبوں کے درمیان میکنزم موثر ثابت ہوگا۔اس موقع پر نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی برادر وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں،ایران کے وزیر خارجہ نے میری دعوت قبول کی اور پاکستان کا دورہ کیا،انکا دعوت پر فوری دورہ تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے،انکا دورہ دونوں ممالک کے مابین مضبوط اور خوشگوار تعلقات کا عکاس ہے،ہمارے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جو دونوں ممالک کے ایشوز سے متعلق تھی،دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات اور متعلقہ ایشوز پر بات چیت ہوئی ہے،اس جذبے سے پاکستان اور ایران نے سیاسی اور سیکورٹی کے شعبہ میں تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے،دہشت گردی دونوں ممالک کے لئے مشترکہ چیلنج ہے،پاکستان اور ایران مشترکہ میکنزم اور حکمت عملی سے اس ناسور پر قابو پا سکتا ہے، ایران اور پاکستان دوست ہمسایہ ملک ہیں، ایران سے دیرینہ ثقافتی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات ہیں، مضبوط تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران باہمی مفاد کے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔مضبوط تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ہیں،نگران وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ قومی سلامتی اور خود مختاری پر کسی قسم کا حرف نہیں نہ آنے دینے پر اتفاق ہوا ہے،مند پشین بازار اور گبد ٹرانسمیشن لائن دونوں ممالک کے مابین جاری تعاون کی اعلی مثال ہیں، اتفاق ہوا ہے کہ 5 دیگر سرحدوں بازاروں پر بھی کام کو تیز کیا جائے گا،اس ملاقات کے کئی اہم اور مثبت پہلو ہیں جنھیں اخذ کیا گیا ہے،دونوں ممالک کے دفتر خارجہ کے مابین ایک ہائی لیول میکنزم تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے،یہ ہائی لیول میکنزم دونوں ممالک کے مابین مسلسل رابطے کے لئے کام کرے گا،دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اپنے اپنے علاقوں میں کارروائی پر اتفاق کیا ہے،تربت اور زاہدان میں اس حوالے سے اپنے اپنے افسران جو کوآرڈینیشن کریں گے دفاتر قائم ہوں گے، ایران سے تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ضرورت ہے۔جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک سیاسی اور سیکیورٹی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے ایک خطرہ ہے۔ملکی سلامتی اور خودمختاری کا احترام اولین ترجیح ہے، ہم سرحدوں پر معاشی مواقع پیدا کرنے کے خواہاں ہیں، پاکستان اور ایران کے درمیان گہرا اور مضبوط سفارتی تعلق ہے۔ نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 70 برس میں پاکستان اور ایران نے گہرا تعاون قائم کیا ہے،ہمارے باہمی رابطے کے بہت سے چینلز موجود ہیں،اسی طرح دونوں ممالک کی قیادت کی سطح پر رابطے کے چینلز موجود ہیں،مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی ایم اوز اور سیکٹر کمانڈرز کے بھی باہمی سطح کے چینلز موجود ہیں،پاکستان یقین رکھتا ہے کہ ایران کی سلامتی و سیکیورٹی پاکستان کے لئے اہم ہے،امید ہے کہ اسی طرح کے جزبات ایران میں بھی پائے جاتے ہیں۔
Comments are closed.