ہمارا رشتہ عوام سے تین نسلوں کا ہے ،عوام کا نمائندہ بن کر لاہور سے الیکشن لڑ رہا ہوں میں بلوچستان کا نمائندہ بھی ہوں ،بھٹو کے بیٹے کا وعدہ ہے کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کردینگے ، بلاول بھٹو زرداری

خضدار( آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا رشتہ عوام سے تین نسلوں کا ہے ،عوام کا نمائندہ بن کر لاہور سے الیکشن لڑ رہا ہوں میں بلوچستان کا نمائندہ بھی ہوں ،بھٹو کے بیٹے کا وعدہ ہے کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کردینگے ، صدر زرداری نے سی پیک کا منصوبہ بلوچستان کے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی ترقی کیلئے دیا ، رائیونڈ کا وزیراعظم آیا تو اس نے اس کا رخ لاہور کی جانب کردیا ،آٹھ فروری کو پیپلز پارٹی بلوچستان بھر میں کامیابی حاصل کرے گی ،

انتخابات میں کامیاب ہوکر بلوچستان اور پورے پاکستان کے عوام کی محرومیاں ختم کردینگے ۔بلوچستان کے علاقے خضدار میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں بھٹو شہید کا بیٹا ہوں محترمہ شہید کا بیٹا ہوں اگر کوئی وفاق اور بلوچستان کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو بلاول بھٹو ہی وہ شخص ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ ہے عوام جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو ڈرتی نہیں جو جھکتی نہیں جو گھبراتی نہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے مگر اپنے عوام کے حق پر سودا بازی نہیں کرسکتے وہ جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو بلوچستان کو اپنا حق دلوا سکتا ہے وہ جانتے ہیں کہ صدر زرداری کا اٹھارہویں ترمیم پر پورے طریقے سے عملدرآمد ہوتا تو اگر صدر زرداری کے این ایف سی ایوارڈ پر پوری طرح عملدرآمد ہوتا تو بلوچستان پیکج پر پوری طرح عملدرآمد ہوتا تو آج بلوچستان اور بلوچستان کے اردگرد جتنی سازشیں ہورہی ہیں وہ ختم ہوجاتیں آٹھ فروری کو بلوچستان بھر میں انشاء اللہ تیروں کا بارش ہوگا میں بلوچستان کی خواتین کو بتانا چارہا ہوں کہ میری والدہ اس دنیا میں نہیں رہی مگر انشاء اللہ میں آپ کی خدمت ویسے ہی کرونگا جیسے ایک بیٹا اپنی والدہ کی خدمت کرتا ہوں میں بلوچستان کے اپنے بہن بھائیوں کوبتانا چاہتا ہوں میں آپ کی طرح نوجوان ہوں میں زندگی بھر آپ کی خدمت کرونگا ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کے ساتھ ہمارا جو رشتہ ہے وہ اس الیکشن کا نہیں ہمارا تین نسلوں کا رشتہ ہے میں آپ کی آواز بن کر اگر پارلیمان میں پہنچتا ہوں تو بلوچستان کے عوام کو معلوم ہے کہ ان کا نمائندہ وہاں بیٹھا ہے ان کی آواز اٹھا سکتا ہے اگر میں تخت لاہور کا نمائندہ بن سکتا ہوں اگر میں ملک کا وزیر خارجہ بنا تو دنیا بھر میں آپ کی آواز اٹھائی آپ کی نمائندگی کی اگر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی ووٹ کی وجہ سے میں آپ کا وزیراعظم بنتا ہوں تو وزیراعظم کے گھر میں بلوچستان کے عوام کا نمائندہ بیٹھا ہوں گا ان کا بیٹا بیٹھا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کا ایک بہت پرانا سیاستدان ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے 2013میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ختم کردیا تو مجھے یہ سن کر ہنسی آتی ہے کہ کیا ہم کسی دوسرے پاکستان میں رہتے ہیں آپ خضدار ، لاڑکانہ قمبر شداد پور سے پوچھے وہاں آج بھی اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہے انہوں نے صرف رائیونڈ کی لوڈ شیڈنگ ختم کی اس لئے مجھے ان پر اعتبار نہیں اور پاکستان کے عوام کو بھی ان پر اعتبار نہیں ہونا چاہیے بھٹو کے بیٹے کا وعدہ ہے کہ اقتدار ملا تو ہم غریبوں کو تین سو یونٹ مفت بجلی دلواؤں گا ، میں اپنے بلوچستان کی خواتین کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں نہ صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کرونگا بلکہ بلوچستان کی خواتین کیلئے بلاسود قرضہ بھی انتظام کرونگا تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں میں بلوچستان کے چھوٹے کسانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلاول بھٹو آئے گا تو اشرافیہ کا سبسڈی ختم کرکے کسانوں کو بے نظیر کسان کارڈ دے گا اور کھاد اور یوریاد پر سبسڈی دینی ہوئی تو پیسا سیدھا اس کارڈ سے غریب کسان کی جیب میں جائے گا میں انشاء اللہ غربت اور بھوک کا مقابلہ کرنے کیلئے یونین کونسل سطح پر بھوک مٹاؤ پروگرام شروع کرونگا میں بلوچستان کے ہر بچے کو کھانا کھلاؤں گا تاکہ ہم غربت اور بھوک کا مقابلہ کرسکیں میں بلوچستان کے عوام کا ہاتھ باندھ کر کہتا ہوں کہ تشدد اور دہشتگردی کی سیاست نہ اپنائیں اگر قائداعظم محمد علی جناح نے یہ ملک بنایا تو قائداعظم محمد علی جناح نے ایک گولی بھی نہیں چلائی اور پورا پاکستان ہمیں بنا کر دے دیا آپ اپنی سیاست کریں اپنی تحریکیں چلائیں پرامن طریقے سے کسی اور کو موقع نہ دیں کہ ہمارے بلوچ بہن بھائیوں سے زیادتی کریں یہ ہمیں گوارہ نہیں ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم انشاء اللہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایسی جماعت ہے جو نہ صرف پاکستان کے اندرونی مسائل کا حل نکال سکتی ہے پاکستان کی تمام قوتوں سٹیک ہولڈرز کو تمام مسائل کا حل کرسکتی ہے بلکہ پیپلز پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جو خارجی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کیخلاف ہونے والی سازشوں کو ختم کرسکتی ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر زرداری نے سی پیک منصوبہ بلوچستان کی عوام کی ترقی کیلئے سنگ بنیاد رکھا تاکہ سی پیک دہشتگردی سے متاثرہ علاقے سے گزر کر گوادر تک پہنچے گا اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں روزگار اور معاشی ترقی لے کر آئے گا مسئلہ کیا ہوا کہ رائیونڈ کا وزیراعظم تیسری بار وزیراعظم بن گیا اور اس شخص نے سی پیک کا رخ تبدیل کردیا جو سی پیک بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں سے گزر کر گوادر جانا تھا اس کا رخ لاہور رائیونڈ کی جانب کردیا اور اس کا وعدہ اس طرح مکمل نہیں ہوا جو وعدہ صدر زرداری نے دیکھا تھا مگر بھٹو کے بیٹے کا وعدہ کے کہ اگر میں وزیراعظم بنا تو سی پیک کا رخ دوبارہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں کی جانب موڑ دوں گا ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ میرے سوائے کوئی وفاقی سیاست دان ایسا نہیں جو بلوچستان کے دکھ درد کو سمجھتا ہو، عوام جانتے ہیں لاپتا افراد کا مسئلہ اگر کوئی حل کرسکتا ہے تو وہ میں ہوں، عوام جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو جھکتی نہیں ہے، ہم تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں مگر عوام کے حقوق پر سودا نہیں کرسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو بچہ ہے خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹ جائے گا یہ ان کی بھول ہے، سازشی ٹولے نے اور دہشت گردوں نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں پر کتنے حملے کیے، مستونگ، تربت، بولان اور خضدار میں حملے ہوئے ان کا خیال تھا جیالے گھبرا جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا، پی پی شہیدوں کی، غیرت مندوں کی جماعت ہے جو کسی دہشت گرد کے سامنے جھک نہیں سکتی۔بلاول کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کو بلوچستان بھر میں تیروں کی بارش ہوگی، اگر میں پارلیمان میں پہنچ گیا تو عوام کو معلوم ہے کہ میں ان کی آواز بن کر اٹھوں گا، اگر میں وزیر خارجہ بنا تو دنیا بھر میں بلوچستان کی نمائندگی کروں گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح میں سندھ میں تیس لاکھ گھر بناکر مستحق افراد کو دے رہا ہوں اسی طرح بلوچستان میں بھی تیس لاکھ گھر بناکر مالکانہ حقوق پر لوگوں کو دوں گا۔

Comments are closed.