صحافیوں کی جبری بے دخلی،پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا پریس گیلری سے واک آؤٹ
اسلام آباد:پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے صحافیوں کی جبری بے دخلی اور انہیں ہراساں کرنے کے خلاف پارلیمانی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے حوالے کریں یا پھر خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے ۔
صحافیوں کے پریس گیلری کے واک آؤٹ کے باہر پریس لاؤن میں حکومتی نمائندوں کے سامنے صدر پی آر اے صدیق ساجد اور فنانس سیکرٹری انتظار حیدری نے معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ ایک بڑے میڈیا ہاؤسز کی جانب سے دو سینئر صحافیوں کو برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ ایک درجن سے زائد صحافیوں کو برطرفی کے نوٹسز بھجوائے گئے ہیں جس میں سیکرٹری پی آر اے آصف بشیر چوہدری بھی شامل ہیں ،ان لوگوں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ ،ان کے معاشی مسائل حل کرنے اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا جس پر ان کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے
جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے، اسی طرح ایک اور نجی چینل نے دو سینئر صحافیوں سردار شیراز اور ریاض تھہیم کو بغیر کسی نوٹس کے فارغ کر دیا جبکہ دوسری طرف پی آراے اراکین اور سینئر صحافیوں وقار ستی اور احمد منصور کی سوشل میڈیا پر ایک مخصوص سیاسی جماعت کی مسلسل ٹرولنگ کررہی ہے ان کیخلاف بے بنیاد مہم چلائی جارہی ہے اور ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔پریس گیلری میں آئے حکومتی نمائندوں نے یقین دلایا کہ وہ اس سارے معاملے کو سپیکر کے علم میں لائیں گے اور خصوصی کمیٹی کے قیام کے مطالبہ کی بھی حمایت کرتے ہیں ۔
Comments are closed.