بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری
اسلام آباد ( آن لائن ) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 23صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ،تحریری فیصلے کیمطابق16 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو غیرملکی سربراہان سے 108 تحائف ملے، سعودی ولی عہد سے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ سے گراف سیٹ جیولری بطور تحفہ وصول کیا، گراف جیولری سیٹ توشہ خانہ میں رپورٹ تو ہوا لیکن جمع نہیں کروایاگیا
، تحفے کی قیمت کاتعین کرنے والے پرائیویٹ ماہر پر بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے اثرو رسوخ استعمال کیا، گراف جیولری سیٹ بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی نے 90 لاکھ روپے میں حاصل کرلیا، گراف جیولری کی اصل قیمت 3 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد تھی،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحفے کا تعین کرنے والے سہیب عباسی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر تحفے کی قیمت کم لگائی، تفتیش کے دوران بشریٰ بی بی ، بانی پی ٹی آئی کو نیب نے 5 نوٹسز بھیجے، نوٹس میں مجرمان سے گراف جیولری سیٹ منگوایاگیا تاکہ قیمت کا تعین کیاجاسکے لیکن دونوں تحفہ نہیں لائے، بانی پی ٹی آئی کا دوران ٹرائل رویہ بہت غیر مناسب تھا، وکیل صفائی بار بار تبدیل ہوئے، جرح کے لیے بھی رضامند نہ تھے
، بانی پی ٹی آئی کو عدالت نے سوالات دیے لیکن جواب جمع کروائے نہ عدالت آئے، وکلاء صفائی اور مجرمان کو سماعت کی تاریخ کا معلوم تھالیکن عدالت نہیں پہنچے، مجرمان کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے کثیر وقت دیاگیاتھا، بشریٰ بی بی نے بیان ریکارڈ کروایالیکن بانی پی ٹی آئی نے تاخیر حربے استعمال کیے، پراسیکیوشن کی جانب سے مجرمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے گئے، بشریٰ بی بی، بانی پی ٹی آئی کو 14 14 سال کی قید کی سزا سنائی جاتی ہے، اٹھہتر کروڑ ستر لاکھ روپے کا جرمانہ دونوں پر عائد کہاجاتاہے، بطور وزیراعظم بانی پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی نے اپنے اثرو رسوخ کا غلط استعمال کیا، تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ مجرمان نے نیب کو کوئی تحفہ نہیں تفتیش میں مہیہ کیا، تحائف کی قیمت کا اصل تعین بھی کیا جاسکتا تھا۔ قیمت کا تعین بشریٰ بی بی ، بانی پی ٹی آئی نے ٹھیک طرح نہیں کیا، بانی پی ٹی آئی ، بشریٰ بی بی نے تحائف کے حوالے سے انفارمیشن بھی مہیہ نہیں کی
Comments are closed.