مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اسحاق ڈار نے بھی پنجاب اور وفاق میں حکومت بنانے کا دعویٰ کردیا

لاہور (آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر مرکزی رہنما اسحاق ڈار نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے آزاد امیدوار ہم سے رابطہ کر رہے ہیں ، آزاد امیدواروں کو قابو کرنے کی آصف زرداری کی بہترین ٹریننگ ہے ہم تو اس میں ہمیشہ پیچھے رہے ہیں ، اگر اعدادوشمار پر ہماری حکومت نہ بنی تو اسے تسلیم کریں گے ،ہماری قیادت نے پہلے بھی کہا تھا ملک جس بھنور میں پھنسا ہوا ہے اگر اکثریت مل بھی ہو گئی تو تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ، اگر بلاول بھٹو ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتے تو بسم اللہ ، ہم انہیں زبردستی تو ساتھ نہیں ملا سکتے ، میرے وزیر اعظم کے امیدوار تو نواز شریف ہی ہیں ۔ ایک انٹر ویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ چینلز نے نو فیصد پر ہی اپنے تجزیے شروع کردئیے ، مس گائیڈ کیا گیا ،رات گئے تک مسلم لیگ (ن) کامیابی میں سر فہرست تھی ، ہماری عددی اکثریت زیادہ تھی ،جو آزاد جیتے ہیں انہیں آئین و قانون کے مطابق72گھنٹوں میں شمولیت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اپنا فیصلہ کرنا ہے ، جیتنے والے بہت سے آزاد اور رابطہ کر چکے ہیں کہ وہ ہمیں جوائن کریں گے ۔انہوں نے نتائج تاخیر کا شکار ہونے پر شکایات درج کرانے کے حوالے سے کہا کہ سارا دن ٹیلیفون بند تھے سسٹم کام نہیں کر رہا تھا ، ہم اپنے کنٹرول روم میں فیڈ بیک لے رہے تھے ، موبائل فون بندش کے حوالے سے نگران حکومت سے پوچھا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی آزاد امیدوار کے ساتھ زبردستی نہیں وہ جہاں شمولیت کرنا چاہیں لیکن ہمارے ساتھ رابطے ہوئے ہیں ،آزاد امیداروں کے حوالے سے ملک کی پارلیمان نے فیصلے کئے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں واضح ہوں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) آگے ہے اور آزاد بھی ہم سے پیچھے ہیں

، قومی اسمبلی میں بھی مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت ہے ، نتائج میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آزاد امیداروں کے فیصلے کے بعدحتمی اعدادوشمار سامنے آئیں گے اور اس کے تناسب سے مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا ہے اور اس سے پوزیشن واضح ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سادہ اکثریت ہوئی تو ہماری ذمہ داری اور حق بنتا ہے حکومت بنائیں اور جو بھی جماعت ہمارے ساتھ ملنا چاہے ۔ہماری قیادت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ اگر اکثریت بھی ملے گی تو ملک جس بھنور میں پھنسا ہوا ہے سب کو ساتھ ملانے کیکوشش کریں گے ۔تاہم اگلے 72گھنٹے میں پوزیشن زیادہ واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیا ملک میں نیا کلچر آنا یہ کہ آزاد امیدوار مل کر حکومت بنایا کریں گے، ہم کسی آزاد کو کو زبردستی ساتھ نہیں ملائیں گے ، ہم 86نشستوں پر آگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ذمہ داری دینی ہے ، میں نے کبھی پہلے مانگ کر کوئی پوزیشن لی ہے اور نہ آئندہ مانگوں گا ،پارٹی جو ذمہ داری لگائے گی میں اسے نبھاؤں گا ۔انہوں نے بلاول بھٹو کے اس بیان کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بسم اللہ ، ہم ان کو زبردستی تو نہیں لے سکتے، اگر انہوں نے نہیں چلنا تو ہم بھی اس کو قبول کر لیں گے، ہماری لیڈرشپ واضح کہہ چکی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ ویسے بھی آزاد امیداروں کو قابو کرنے کی آصف زرداری کی بہترین ٹریننگ ہے ، ہم تو اس میں ہمیشہ پیچھے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2013میں رات گیارہ بجے تک واضح ہونا شروع ہو گیا تھا تب نواز شریف نے تقریر کی تھی ، آٹھ فروری کو جو انتخابات ہوئے رات گئے تک کچھ واضح نہیں تھا اس لئے سب کو پتہ تھا صبح ہو جانی ہے اس لئے نواز شریف واپس گئے ۔انہوں نے کہاکہ جو امیدوار جماعتوں سے جیتے ہیں یا آزاد حیثیت میں جیتے ہیں میں سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،ہمیں سپورٹس مین سپرٹ دکھانی چاہیے اور ہم نے ہمیشہ ایسا کیا ہے ، ہم نے کبھی اسے اناء کا مسئلہ نہیں بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ نتائج تاخیر کا شکار ہونے پر الیکشن کمیشن کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے تو وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہے ، اس حوالے سے نواز شریف وہ خود فیصلہ کریں گے اور قیادت سے مشاورت کریں گے ، ہمیں فی الوقت صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے ، میں واضح ہوں کہ وفا ق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی ، میں ہوا میں بات نہیں کر رہا ، ہم پنجاب میں اکثریتی پارٹی ہیں ، اگر نمبرز پورے نہ ہوئے اور کسی اور کی حکومت بنتی ہے تو ہم اسے تسلیم کریں گے۔

Comments are closed.