شانگلہ پی ٹی آئی ورکرز اور پولیس میں جھڑپ،3افراد جان بحق جبکہ 30سے زائد زخمی
پشاور(آن لائن)شانگلہ پی ٹی آئی ورکرز اور پولیس میں شدید جھڑپ،3افراد جان بحق جبکہ 30سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے شدید زخمی 4کو سیدوشریف سوات منتقل کردیا گیا۔جھڑپ میں 7پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔پولیس کی صرف 2افراد کی جان بحق ہونے کی تصدیق۔پی ٹی آئی کے سابق امیدوار قومی اسمبلی نواز محمود بھی زخمیوں میں شامل۔تین درجن سے زائد کارکنان پولیس کے حراست میں ہیں۔جمعرات کے روز الیکشن کے بعد شانگلہ میں پیدا ہونے والی صورتحال جمعے کو شدت اختیار کرگئی،پی ٹی آئی کے ہمایت آفتہ آزاد امیدوار حاجی سیدفرین کی کال پر ضلع بھر سے کارکنان کی بڑی تعداد شانگلہ کے صدر مقام الپوری پہنچی جہاں ان کارکنان نے شدید احتجاج کیا اور الیکشن میں دھاندلی دوبارہ گنتی سمیت فارم45کے مطالبات کئے جارہے تھے۔احتجاجی مظاہرہ جمعے کی صبح چھ بجے سے الپوری بشام مین شاہراہ کو بند کرکے شروع کی گئی تھی جسکی وجہ سے اس شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں پھنس گئی تھی۔احتجاجی مظاہرے سے حاجی سید فرین اور دیگر پارٹی رہنماں نے بھی خطاب کیا اور باقاعدہ طور پر دھرنے کا اعلان کیا تاہم چار بجے کے قریب مظاہرین ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کی جانب جارہے تھے جنھیں پولیس نے روکنے کی کوشش کی اور تصادم شروع ہوا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پتھراو اور آنسوگیس کے بعد شیلنگ شروع ہوئی اور الپوری مین چوک میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے دو ورکر ز حسن ولد ضیا الرحمن اور محسن ولد حبیب مولا جان کی بازی ہار گئے۔مظاہرین نے اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر این اے 11کی گاڑی کو نذر آتش کیا جنھیں جمعے کی صبح سویرے پی ٹی آئی ورکرز نے دونوں جانب گاڑی کھڑی کرکے گیری تھی کہ اس کے ذریعے دھاندلی ہوررہی ہیں۔مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید پتھرا میں بازار کے کچھ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ں۔صورتحال کے بعد الپوری میں مکمل طور پر پولیس نے اپنے گیرے میں لے لیا اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری رہی۔مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے قیمتی جانوں کی ضیاع پر سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ میں سیاسی ماحول کو انتشار،نفرت اور انتقام کی طرف لے جانے کی شازش ہورہی ہیں اور ایسا نہیں ہونا چاہئے،شانگلہ پرامن علاقہ ہے اور یہاں جمہوری سیاست پر توجہ کی اشد ضرورت ہے۔
Comments are closed.