وزارت عظمیٰ کیلئے ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے، حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے،بلاول بھٹو زرداری
اسلام آباد(آن لائن ) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزارت عظمیٰ کیلئے ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے، حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا ۔مسلم لیگ ن نے ہمیں دعوت دی کہ ہم انکا ساتھ دیں ۔ہم فی الوقت مرکز میں حکومت سے کوئی وزارت نہیں لیں گے۔ہم صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کا اصولی فیصلہ ہے کہ ہم نے پاکستان کا ساتھ دینا ہے ۔ہم نے پاکستان کو مستحکم بنانا ہے، ہم آج بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس وفاقی حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے ۔دو دیگر گروپس کے پاس اس حوالے سے اکثریت آئی ہے ۔اس وقت آزاد اور مسلم لیگ ن کے پاس بڑا نمبر قومی اسمبلی میں آیا ہے ۔یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ۔جبکہ ہم اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا کررہے ہیں ۔پاکستان ایشو ٹو ایشو معاملات میں ضرور تعاون کریں گے ۔ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت اور سیاسی و معاشی استحکام آئے ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں کیساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت سازی کا معاملہ آگے بڑھ سکے ۔ہم کوشش کریں گے کہ ملک کو اس بحران سے نکالیں اور ایسی سمت میں لے جائیں تاکہ قیاس ختم ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پنجاب کے حوالے سے ہمارے رہنماوٴں بہت سی شکایات سامنے رکھی ہیں ۔پنجاب کے رہنماوٴں کے تحفظات تھے کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ میں ہمارے مسائل کو حل نہیں کیا گیا ۔لیول پلیئنگ فیلڈ ، دھاندلی، بے ضابطگیوں کا جہاں تک سوال ہے سی ای سی شکایات وصول کرے گی ۔ہم ان تحفظات کے باوجود ہم عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے ۔ہم سیاسی جماعتوں کیساتھ مل کر ان کوتاہیوں کی نشاندھی کرکے آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ کلیئر مینڈیٹ نہیں آیا ن لیگ اور پیپلز پارٹی اکیلے حکومت نہیں بنا سکتے۔اگر دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں تو کوئی سیاسی جماعت نتائج قبول نہیں کرے گی ۔پی ٹی آئی آج بھی سیاسی فیصلے نہیں کررہی ۔پاکستان کی عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتی ہے ۔پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان اور سندھ میں حکومت بنائے گا۔ وزیراعظم اور قانون سازی میں ہم ن لیگ کو تعاون کریگی لیکن کوئی وزارت نہیں لیں گے،میں چاہتا ہوں سابق صدر آصف علی زرداری دوبار صدر بنے۔ ملک جس آگ میں ہے اس کو کوئی نکال سکتا ہے تو وہ میرا والد ہو۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں حکومت بنانے کیلیے مطلوبہ مینڈیٹ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ نہیں ملا لہٰذا میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیں حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی، پی ٹی ا?ئی کہہ چکی کہ وہ پیپلز پارٹی سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔انکا کہنا تھا کہ ہم مرکز میں خود حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، پیپلز پارٹی ملک میں سیاسی افرا تفری، بحران نہیں چاہتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خود کو وزیراعظم کی دوڑ میں شامل نہیں کرتا، ہمیں ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی نظر آرہا ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام ختم کرنا چاہتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے عمل اور سیاسی استحکام کیلیے ایک کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی۔ کوشش کریں گے کہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالیں۔چیئرمین پی پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اصولی فیصلہ ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنا ہے، عوام نے الیکشن میں حصہ لیا، عوام اب مزید سیاسی عدم استحکام نہیں چاہتے۔انکا کہنا تھا کہ سی ای سی اراکین نے ن لیگ کے حوالے سے کافی اعترضات کا اظہار کیا۔ انتخابات کے نتائج کو احتجاج کے ساتھ قبول کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی ای سی میں لوگوں نے بتایا کہ 18 ماہ میں ہمارے کام نہیں ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ حکومت سازی کا عمل مکمل ہو اور استحکام آئے، ایسا نہ ہو کہ نئے الیکشن کی طرف جانا پڑے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وفاقی حکومت کا حصہ بنیں۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت میں وزارتیں نہیں لیں گے، ن لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے، حکومت کی حمایت کریں گے مگر وزارتیں نہیں لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ واحد جماعت ہے جس نے ہمیں مرکز میں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں جو ماحول بن رہا ہے اس کا فائدہ دشمن اٹھائیں گے ،ہم ملک کی سیاست کریں انتہا پسندی کی سیاست نہ کریں ،ہمیں تسلسل کی ضرورت ہے ،ان کو ماننا چاہیے جوغلطیاں ہوئی ہیں ،الیکشن کے دوران ان کی کوتاہیاں ہیں ان کو ہائی لائیٹ کریں ،پاکستان کے عوام مجھے مینڈیٹ دیتے ہیں تو پھر مجھ سے سوال ہو سکتا ہے ،جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ سب کی اپنی رائے ہوتی ہے ،یہ ایک طریقہ ہے کہ ہم پارلیمانی جمہوریت میں حصہ لیتے ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ ہم مسائل حل کر لیں گے ۔اگر مسائل حل نہیں کر پاتے تو یہ ملک اور سیاست کا نقصان ہو گاپیپلزپارٹی چاہتی ہے پارلیمنٹ اپنی مدت مکمل کرے۔مسلم لیگ ن کا جو بھی امیدوار ہے وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرے گا تو سسٹم وفاق اور جمہوریت نہیں چل سکے گی۔مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتیں بشمول پی ٹی آئی اپنی سیاست کا نہ سوچیں بلکہ پاکستان کی فکر کریں۔ملک دشمن ماحول کا فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ھم سیاست کے دائرے میں سیاست کریں انتہاء پسندی کی سیاست نہ کریں۔تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔انتخابات کے دوران مخالفین پر تنقید تو کی جاتی ہے۔مسلم لیگ ن کو بھی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔جمہوریت کی خوبی یہ کہ سب کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے۔اتفاق رائے سے فیصلے کریں گے تو عوام کے مسائل حل کرسکیں گے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حمایت سے یقینا میرا سیاسی نقصان ہوگا۔لیکن عوام کے لئے نظام کے لئے یہی ضروری تھا۔پیپلزپارٹی کے ساتھ انتخابات میں جو کروایا گیا اس کا فیصلہ بھی کرنا ہوگا۔ھم اپنے دور میں انتخابی اصلاحات لے کر آئے تھے۔پیپلزپارٹی سیریس جماعت ہے انتہا پسندی کی سیاست نہیں کرے گی۔ہم اپنے مفاد میں کوئی انتہائی فیصلے نہیں کریں گے۔والد صاحب نے سی ای سی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی، اس لئے ان کے سامنے تحفظات رکھے ہیں۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کے خلاف سازش کی گئی، سازش کس نے کی؟ سوال کا جواب گول کر گئے۔ انہوں نے کہاکہ والد صاحب نے سی ای سی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی، اس لئے ان کے سامنے تحفظات رکھے ہیں۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کے خلاف سازش کی گئی، سازش کس نے کی؟ سوال کا جواب بلاول بھٹوزرداری گول کر گئے۔
Comments are closed.