بلوچ طلبا عدم بازیابی کیس:اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کرلیا
اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ طلبا کی عدم بازیابی کیس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جبری گمشدگیوں کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے، جبری گمشدگیوں میں ملوث لوگوں کو دو بار سزائے موت ملنی چاہیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبا کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے استدعا کی کہ اٹارنی جنرل آج دستیاب نہیں سماعت ملتوی کی جائے جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ ہمیں اس کیس میں مزید وقت درکار ہے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ تو میری مہربانی ہے کہ میں دونوں ڈی جیز کو نہیں بلا رہا، نگران وزیراعظم پیر کو 10 بجے خود پیش ہوں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ جبری گمشدگیوں کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے، جبری گمشدگیوں میں ملوث لوگوں کو دو بار سزائے موت ملنی چاہیے۔بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ طلباء کی عدم بازیابی کیس میں پیر کو 10 بجے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا
Comments are closed.