پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتوں کی تحریک انصاف کو مفاہمت کے عمل کا حصہ بننے کی دعوت
ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مل کر حکومت بنانے کا اعلان کردیا
اسلام آباد(آن لائن ) ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مل کر حکومت بنانے کا اعلان کردیا۔پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتوں نے تحریک انصاف کو مفاہمت کے عمل کا حصہ بننے کی دعوت دیدی ۔پاکستان مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) اورت دیگر اتحادی جماعتوں نے ساتھ چلنے کا اعلان کرتے ہوئے مفاہمت کے عمل میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ا?صف علی زرداری نے کہا کہ مفاہمت کے عمل میں پاکستان تحریک انصاف بھی شامل ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی مفاہمت کے اس عمل کا حصہ بنے، ہر سیاسی طاقت مفاہمت کے عمل کا حصہ بنے، ہم سے بات کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں معاشی، دفاعی ایجنڈا اور دیگر یکساں چیزیں لے کر ہم ساتھ چلیں اور ہم میاں صاحب اور دوسرے دوستوں کو ہم کامیاب کرائیں تاکہ پاکستان اور اس کے عوام کو کامیاب کرا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ کتنا قرض چڑھ چکا ہے اور ہمیں ا?نے والے وقتوں میں قرض کی کتنی قسطیں دینی ہیں، ہر چیز پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ا?پس میں مل بیٹھیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ا?صف علی زرداری نے چوہدری شجاعت اور شہباز شریف کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مل کر حکومت بنائیں گے۔ا?صف زرداری نے کہا کہ ا?ج ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ا?پس میں مل بیٹھ کر حکومت بنائیں گے اور پاکستان کو مشکلوں سے نکالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معیشت، دہشت گردی یا مفاہمت سمیت پاکستان میں جو بھی مشکلات پیش ا? رہی ہیں، ان کا حل نکالیں گے۔آج ہم نے طے کیا ہے مل بیٹھ کر حکومت بنائیں گے ۔پاکستان کو مشکالات سے نکالیں گے ۔چاہیتے ہیں پی ٹی آئی بھی مفاہمت میں شامل ہو
۔ہم نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑے ہیں ۔الیکشن میں مخالفتیں ہوتی ہیں مگر مل کر ساتھ چلنا ہے ۔شہباز شریف نے کہاکہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ مراحلہ ختم ہو چکا ،معیشت کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنا ہے ،اپنے اختلافات ختم کر کے قوم کو آگے لے کر جانا ہے ،پاکستان میں جو مہنگائی ہے اس کو کم کرنا ہے پاکستان کے قرضوں کو کم کرنا ہے ،آئی ایم ایف معاہدے نے ملک کو کچھ استحکام بخشا،انتخابات میں سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ۔مشکلات بہت زیادہ ہیں لیکن نہ ممکن نہیں ۔ہم سب مل کر ملکی مسائل کو حل کریں گے ۔پی ڈی ایم حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔مہنگائی بروزگاری کے خلاف جنگ لڑنی ہے ۔تمام فیصلے اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہوں گے ۔اب پارلیمان وجود میں آنے والی ہے ۔نواز شریف سے درخواست کروں گا وزیراعظم کا عہدہ قبول کریں ۔مریم نواز وزیراعلی پنجاب کی امیدوار ہوں گی ۔اختلافات کو بھلا کر اکھٹے ہوں نفرتیں ختم کریں ۔سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے ۔مشکلات ضرور ہیں مایوس نہیں ۔سیاسی جماعتیں مل کر ملک کو چلا سکتی ہیں ۔خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ شہباز شریف کا پہلے بھی ساتھ دیا تھا اب بھی دیں گے ۔سب مل کر جمہوریت کو مضبوط کریں گے ۔ایم کیو ایم نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ۔ہم سب کی ترجیح پاکستان کی بہتری ہے ۔چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ پہلی ترجیح معاشی ایجنڈا ہونا چاہیے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک میں غربت کے خاتمے اختلافات ختم کرنے ہیں، معیشت کو اپنے پاوٴں پر کھڑا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ن لیگ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا اس پر انکا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ن لیگی صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں وہ مرحلہ ختم ہوچکا، اب پارلیمان وجود میں آنے والی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ معیشت کو اپنے پاوٴں پر کھڑا کرنا ہے۔ اپنے اختلافات ختم کرکے قوم کوآگے لے کرجانا ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے نے پاکستان کو معاشی استحکام دیا، پاکستان میں جو مہنگائی اس کو کم کرنا ہے، پاکستان کے قرضوں کو کم کرنا ہے۔استحکام پاکستان پارٹی (ا?ئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ملکی عوام کے مفاد میں ہو۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میاں صاحب کی حکومت کیلیے دعاگو ہوں۔شہباز شریف جب چوہدری شجاعت کے گھر پہنچے تو صحافی نے ان سے سوال کیا کہ ’کیا ا?پ ن لیگ کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار ہیں؟‘اس سوال پر شہباز شریف مسکراتے ہوئے چوہدری شجاعت کے گھر میں داخل ہو گئے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت معاف کر کے ا?گے بڑھنے کا وقت ہے اور یہ پیغام و پالیسی سب کیلیے ہے، ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے اور اب دھرنے و احتجاج کی سیاست کا وقت نہیں ہے۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بلوچستان عوامی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ملکی نظام سنبھالنے اور جمہوریت کیلیے ہم سب ملکر کھڑے ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی میاں صاحب کی حمایت کرتی ہے‘۔استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت کا شکریہ، امید ہے ا?ج کے بعد پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جائیں گے، غریب کے حالات بہت خراب ہیں، مہنگائی بہت زیادہ ہے، مشکلات لوگوں پر بہت زیادہ ہیں، ملک اور عوام کی خاطر فیصلے کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت اچھے طریقے سے فیصلے کرے گی۔
Comments are closed.