سائفر سازش کی اصل حقیقت

کالم نگار۔صدیق ساجد

عمران خان کی سائفر پر سازش کا بیانیہ انٹرسپٹ کی سٹوری نے بے نقاب کر دیا ہے جس نے سب سے پہلییہ دعوی کیا ہے کے انکے پاس سائفر کی کاپی نہیں ہے اور کسی ذرائع نے بھی اِس کو کنفرم نہیں کیا – یہ بات ثابت کرتی ہے کے یہ ایک مکمل طور پر جھوٹی اور من گھڑت کہانی ہے دوسری بات یہ ہے کے اگر فرض کریں اسے مان بھی لیا جائے کے یہ عمران خان کے جلسے میں لہرائے گئے سائفر کی کاپی ہے جو امریکن کو بیوقوفی سے عارضی فائدہ حاصل کرنے کے لئے دے دی گئی ہے تو یہ تحریک انصاف اور عمران خان کی سب سے بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کے یہ کوئی امریکی سازش نہیں تھی بلکہ سخت سفارتی زبان کا استعمال تھا جو بار ہا دفعہ پہلے بھی کہاجا چکا ہے – اِس پوری سٹوری میں ایک بھی بات نئی نہیں ہے وہی عمران خان کا گھسا پٹا بیانہ ہے جو وہ پچھلے ایک سال سے پیٹ رہا ہے اور اب اس بیانیے کو خریدنے کو کوئی تیار نہیں ہے ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اخبار کا اپنا دعوی ہے کہ جو دستاویز ان کے ہاتھ لگا ہے اس کی تصدیق کرنے کے لیے انہوں نے کوششیں کی ہیں

مگر وہ اس مراسلے کی تصدیق نہیں کر سکے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ اخبار کو خود بھی اس مراسلے کی تصدیق کا علم ہی نہیں ہے۔ یعنی یہ مراسلہ جس کا اخبار دعوی کرررہا وہ ایک جعلی مراسلہ ہے۔ مراسلے کی تصدیق کے لیے اخبار ایک دوسری پاکستان سے تعلق رکھنے والی اخبار ڈان کا سہارا کے رہا ہے کہ ہمارے پاس جو مراسلہ ہے وہ ڈان کی رپورٹنگ سے میل جول رکھتا ہے۔ تو پھر تو شاید یہ مراسلہ ہی ڈان کی کسی رپورٹ کو دیکھ کر ہی بنایا گیا ہے اخبار کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس مراسلے میں لکھا ہے کہ مراسلے میں ڈانلڈ لو سے منسوب ریمارکس میں لکھا ہے

اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو۔۔۔ میرا یہ خیال ہے یعنی اخبار خود یہ دعوی کررہا ہے کہ یہ ڈانلڈ لو کا خیال تھا نہ کہ امریکی دھمکی۔اور یہی وہ بات ہے جو نیشنل سیکیورٹی کے اعلامیے اور پریس کانفرینسوں میں بھی کہی گئی کہ کوئی دھمکی نہیں ملی اور نہ کوئی سازش ہوئی۔ اب یہاں پر سب سے اہم سوال یہ ہے کے اگر اِس کو سائفر یا سائفر کی معلومات مانا جائے تو عمران خان بار بار مان چکا ہے کہ سائفر کی کاپی جو اس کے پاس تھی یا اس کی معلومات کا اسکو کو کچھ پتہ نہیں۔ اب پتہ لگ رہا ہے کہ وہ سائفر کی کاپی یا اسکی معلومات کہاں پرہیں-

اِس پر حکومت کی طرف سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے مطابق سخت سے سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان کے وقار اور قومی ساکھ کو اِس سے زیادہ نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا ایک بات تو بہت اچھی طرح واضح ہے کہ – اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے سفارتی تعلقات سے جڑی ہوئی معلومات کو افشاں کرنا ملکی قانون کی سخت ترین خلاف ورزی ہے اور پاکستان کی ساکھ اور سفارتی اعتماد کا قتل بھی ہے اب ایک اور پہلو کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے کہ افواج اور پاکستان مخالف عمران خان کے جانے پہچانے حمایتی سے اس آرٹیکل کو لکھوانا بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے اور پھر اس ویب سائٹ اخبار کو چلانے والی خاتون سیمی اگروال بھارتی نژاد ہیں جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اس سارے معاملے کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں ۔۔سائفر پر حیران کن بات ہے کے یہ ساری بات چیت باہر بیٹھے ہوئے لوگوں سے کروائی جا رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے لیڈرز یہاں پر مکمل طور پر خاموش ہے- کدھر ہے شاہ محمود قریشی وہ اِس پر کیوں خاموش ہے؟؟؟ اور عوام کے سامنے آ کر جواب کیوں نہیں دے رہا؟؟؟

اس لیے بھی نہیں دے رہا کہ وہ اب سنجیدگی سے سوچ رہا ہے کہ عمران خان اس پر اعتماد نہیں کررہا اس لیے وہ اپنے راستے جدا کرسکتا ہے اور وہ مزید عمران خان کا دفاع نہیں کرے گا – دوسری بات یہ ہے کہ سیکرٹری خارجہ اسد مجید نے اِسی آرٹیکل کے آخر پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کے امریکہ نے خلاف ضابظ پاکستان کے اندورنی معاملات پر بات کی ہے اور یہ کہا کہ اِس پر سوچ بچار کی ضرورت ہے اور امریکہ کو احتجاجی مراسلہ دینے کا بھی کہا- اصل سوال یہ ہے کیا اس نے یہ کہا کہ کسی قسم کی سازش ہوئی ہے؟ یا جنرل باجوہ نے کسی قسم کی سازش کی؟ – عمران خان اور اعظم خان کی ہونے والی آڈیو لیک میں اعظم خان کہہ رہا ہے کے ہم اِس سائفر کے نوٹس بنا لیں گے اور اسے ریکارڈ کا حصہ بنا دیں گے- اور اس سے کھلیں گے –

یہی نوٹس جو اس وقت اعظم خان نے لئے تھے وہ امریکا میں اپنے ہرکاروں کے ذریعے اور پی ٹی آئی کہ منظور نظر رائٹر مرتضی حسین کے ذریعے لیک کر دیے گے ہیں – یہ پاکستان کی سفارتی ساکھ پر ایک سنگین وار ہے جسکی مکمل تحقیقات اور انکوائری کرنا اشد ضروری ہے تاکہ اِس سنگین سیکیورٹی خلاف ورزی اور چیزوں کو افشا کرنے کے ذمیداروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے اور یہ بہت ضروری ہے تاکہ جو بھی اس ملک سے غداری کا مرتکب۔ ہوا ہے اسے قرار واقعی سزا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.