سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف اجلاس
اسلام آباد(آن لائن )سپریم جوڈیشل کونسل کا سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کیخلاف اجلاس،سپریم جوڈیشل کونسل کا مظاہر نقوی کے بیٹوں کو بطور گواہ سمن نہ کرنے کا فیصلہ کیاہے اور کونسل نے اٹارنی جنرل کو مظاہر نقوی کے بیٹوں کی حد تک نوٹسز واپس لینے کی ہدایت کر دی۔جمعہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا اوپن اجلاس چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں ہوا ،سپریم جوڈیشل کونسل نے آج 4 گواہان کے بیانات قلمبند کیے ،مستعفی جج مظاہر نقوی کو سرکاری پلاٹس کی الاٹمنٹ سے متعلق 4 گواہان کے بیانات قلمبند ہوئے جبکہ کونسل نے مزید کاروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی۔چیف جسٹس پاکستان اور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل نے ریمارکس دیے ہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہم ٹیکس کے پیسے سے یہ کاروائی کرتے ہیں
، اس اجلاس میں دو ججز دوسرے صوبوں سے آتے ہیں، ہمیں اس حقیقت کا مکمل ادراک ہے کہ سپریم کورٹ کے بنچز میں یہ معاملہ زیر التوا ہے، سپریم کورٹ نے جوڈیشل کونسل کی کاروائی پر کوئی اسٹے نہیں دے رکھا، یہ معاملہ اگر لٹکا رہتا تو ہم پر تنقید ہوتی کہ کاروائی ختم کیوں نہیں کی، کچھ دیگر ججز کیخلاف بھی شکایات ہیں ان کو ان کیمرہ اجلاس میں دیکھا جائے گا،موجودہ کاروائی جج کی درخواست پر اوپن ہوئی،مظاہر نقوی کو معلوم ہوگا کہ یہاں کیا کاروائی ہو رہی ہے، اگر کوئی گواہ پر جرح کرنا چاہے یا جواب دینا ہے تو آسکتے ہیں۔دسویں اور گیارہویں گواہ متروکہ وقف املاک بورڈ لاہور کے زونل ایڈمنسٹریٹرز کے حلفیہ بیان میں کہاہے کہ لاہور دیال سنگھ مینشن میں مظاہر نقوی کے بیٹے تصدق مصطفی نقوی نے 52 ہزار کرائے پر دس مرلے کا آفس لیا، اس پر چیف جسٹس نے پوچھاکہ یہ تو لاہور مال روڈ پر مہنگا ترین کمرشل ایریا ہے، اتنے کم کرائے پر کیسے مل گیا،اس پر گواہ نے کہاکہ کسی اور کو کرائے پر دیا تھا اور مظاہر نقوی کے بیٹے نے ان سے لیا،دیال سنگھ مینشن میں دوکانوں کے کرائے کا کمرشل ریٹ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے، رکن کونسل منصور علی شاہ نے پوچھاکہ ہم نے صرف اتنا سوال کیا ہے کہ آپ نے کم کرائے پر پراپرٹی جج کے بیٹے کو کیسے دی،اس پر گواہ نے کہاکہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے کرایہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تو مظاہر نقوی کے بیٹے نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا،لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر وفاقی سیکرٹری بین المذاہب ہم آہنگی نے دیال سنگھ مینشن کی پراپرٹی کا کرایہ مذید کم کردیا تھا،متروکہ وقف املاک بورڈ نے سیکریٹری کا فیصلہ چیلنچ نہیں کیاگیا۔بعدازاں کونسل نے مزیدکارروائی غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔
Comments are closed.