کمشنر راولپنڈی کی گفتگو جھوٹ پر مبنی ہے ،کمشنر راولپنڈی نہ تو آر او ہیں نہ مانیٹرنگ کا رول ہے انکے پاس کچھ بھی نہیں ہے ،حنیف عباسی
راولپنڈی (آن لائن)مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء و نو منتخب رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی گفتگو جھوٹ پر مبنی ہے ،کمشنر راولپنڈی نہ تو آر او ہیں نہ مانیٹرنگ کا رول ہے انکے پاس کچھ بھی نہیں ہے ،میرا سول میٹر چل رہا تھا میں انکے پاس گیا ،راولپنڈی کے میگا پراجیکٹس پر میری بات چیت ہوئی ،ان پر کسی قسم کا پریشر نظر نہیں آرہا تھا ،انہوں نے ٹیلی فون اور فزیکلی مبارکباد دی جہاں سے عام لوگوں میڈیا کو اجازت نہیں ہے وہاں کمشنر صاحب کیسے پتا چل گیا ٹھپے لگ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ کمشنر راولپنڈی کے بیان کے حوالے سے اپنا موقف دیا ہے۔کمشنر راولپنڈی نے جو بھی کہا ہے وہ سب جھوٹ پر مبنی ہے ۔کمشنر راولپنڈی اس انتخابات میں کوئی عہدہ یا پوزیشن نہیں تھی ۔کمشنر راولپنڈی سے ساتھ کل بھی موجود رہا، مجھے ایک میٹنگ میں بیٹھنے کا کہا گیا ۔کمشنر راولپنڈی کو کیسے پتہ کہ جعلی مہریں لگائی جارہی ہیں۔
کمشنر راولپنڈی کے حوالے سے ہماری لیڈر شپ نے کہا اس کو کرپشن کے حوالے سے نہیں لگایا جاتا تھا ۔انہوں نے کہاکہ کمشنر راولپنڈی کا ضمیر 10 دن بعد کیوں جاگا، انتخابات کمشنر راولپنڈی نے نہیں الیکشن کمیشن نے کروائے ۔کمشنر راولپنڈی نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر سنگین الزامات لگائے۔2013 اور 2018 میں ہمارے مینڈیٹ کو چرایا گیا، اب ایسا نہیں ہو گا۔ہارنے والے امیدواروں ٹربیونل سے ہارنے کے بعد سپریم کورٹ جائے گا ۔کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ میں ادویات کا استعمال کر رہا ہوں ۔کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ مجھے ادویات بتائیں میں ڈپریشن کا شکار ہوں ۔میں نے کمشنر راولپنڈی کو جواب دیا کہ میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہوں ہم سے زیادہ متاثر ہم ہوئے لیکن ہم نے کسی جگہ بھی تنقید نہیں کی ۔خیبر پختون خواہ میں آپ کامیاب ہوئے تو وہاں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی ۔پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ پنجاب اور وفاق میں دھاندلی ہوئی ہے ۔کمشنر راولپنڈی کے بیان کے تانے بانے بیرونی طاقتوں سے ملیں گے۔کمشنر راولپنڈی کے حوالے سے کبھی نہیں محسوس کیا کہ وہ پاگل ہیں ۔کمشنر راولپنڈی کا معائنہ ہونا چاہئے، تمام چیزیں ثابت ہونی چاہیئے۔کمشنر راولپنڈی نے بتایا کہ سوشل میڈیا اور اوورسیز پاکستانیوں کے دباو پر بیان دیا ۔ملک کو عدم استحکام کا نشانہ بنایا جارہا ہے
، معاشی عدم استحکام بھی موجود ہے۔ہارنے والے امیدواروں نے ہائی کورٹ اور الیکشن ٹربیونل سے رجوع کر رکھا ہے۔کمشنر راولپنڈی نے ریٹائرمنٹ سے قبل سوشل میڈیا کا ہیرو بننے کی کوشش کی۔تمام تحقیقات ہونی چاہئے کہ کمشنر راولپنڈی نے کن کے کہنے پر یہ سب کیا۔لیاقت علی چھٹہ کے پاس اگر شواہد موجود ہیں تو سامنے لانے چاہیں ۔چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پر جو الزامات عائد ہوئے وہ سامنے آنے چاہئیں۔لیاقت علی چھٹہ کا تانہ بانہ بلوچستان کی قوتوں کے ساتھ ہے۔کمشنر راولپنڈی کا ضمیر 10 دن بعد کیوں جاگا، کمشنر راولپنڈی فجر کی نماز کے بعد والے آپشن پر غور کرتے ۔انتخابات والے دن ہمارے ساری رات دفاتر کھلے رہے، ہماری پاس تمام چیزیں موجود ہیں ۔الیکشن کمیشن نے میری کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔میرے خلاف ہونے والی اپیلیں خارج ہوئی، ہائی کورٹ راولپنڈی میں بھی اپیلیں خارج ہوئی۔
Comments are closed.