انتخابی دھاندلی کا اعتراف:کمشنر راولپنڈی اپنے عہدے سے مستعفی،پولیس نے گرفتار کرلیا
راولپنڈی (آن لائن) کمشنر راولپنڈی ڈویژن لیاقت چٹھہ نے ڈویژن بھر میں انتخابی دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کمشنر شپ سمیت سروس سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں انتخابی دھاندلی پر خود کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں کمشنر نے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ و گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیا ہے جس کے بعد پولیس نے انہیں تحویل میں لے لیا ہے راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے حوالے سے پریس کانفرنس کے موقع پرانہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اورسمندر پار پاکستانیوں کا دباؤ تھا میں نے نماز فجر کے بعد میں ایک دفع خود کشی کی کوشش کی ہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں کیوں نہ یہ ساری چیزیں عوام کے سامنے رکھوں اورخود کیوں حرام کی موت مروں؟
میں بہت کرب سے گزر رہا ہوں میری تمام بیوروکریسی سے گزارش ہے کہ ان سیاسی لوگوں کے لئے جو شیروانیاں سلوا کر وزارتوں کے لئے پھر رہے ہیں ان کے لئے کوئی غلط کام نہ کریں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج نے الیکشن بالکل ٹھیک کروائے ہیں دوبارہ الیکشن کروانے کی ضرورت نہیں صرف فارم 45اکٹھے کر لیں سارے رزلٹ کلیئر ہو جائیں گے ریٹرننگ افسران کی جانب سے رزلٹ روکے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نتائج میں ردوبدل میں بے ضابطگیاں بہت چھوٹا لفظ ہے جو آزاد امیدوار70/80ہزار کی برتری سے جیت رہے تھے ہم نے ان کے اوپر جعلی مہریں لگوا کر انہیں ہروایا ہے لیکن میں پورے ڈویژن میں ہونے والی انتخابی غلط کاری کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتا ہوں اور یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر اورچیف جسٹس اس سارے کام میں برابر ے شریک ہیں میرے اوپر کوئی دباؤ نہیں میرے باپ دادا بھی اس ملک کے لئے انگریزوں اور سکھوں کے خلاف جنگیں لڑتے رہے ہیں اورمیں اس ملک کو توڑنے کا حصہ نہیں بن سکتا انہوں نے کہا کہ میں نے ڈویژن کا سربراہ ہونے کے ناطے راولپنڈی ڈویژن میں نا انصافی کی ہے لہٰذا مجھے راولپنڈی کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہئے انہوں نے کہا کہ مجھے الیکشن کروانے کے لئے تعینات کیا گیا لیکن میں شفاف انتخابات کروانے میں ناکام رہا مجھے جینے کا کوئی حق نہیں اس وقت بھی راولپنڈی میں جعلی مہریں لگائی جارہی ہیں جس پر میں قوم سے معافی مانگتا ہوں اور اپنے جرم کے اعتراف پر خود کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں مجھے سزا دی جائے انہوں نے کہا کہ میں نے پوری قوم کے ساتھ ظلم کیا ہے میں اپنے ریٹرننگ افسران سے بھی معافی مانگتا ہوں کیونکہ جو لوگ رات ہار رہے تھے ان کو ہم نے صبح جتوا دیا ہم نے13 امیدواروں کو غیر قانونی طور پر جتوایا ہے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی پر میرے ساتھ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو کچہری چوک میں پھانسی دے دینی چاہیے ادھر کمشنر راولپنڈی کو سی پی اور راولپنڈی نے تحویل میں لے لیا ہے لیکن ان کی باضابطہ گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی اس ضمن میں پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک ایف آئی آر نہ ہو پولیس کیسے گرفتارکرسکتی ہے ادھر ذرائع کے مطابق کمشنر نے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ و گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیا ہے استعفے کی مختصر تحریر میں کہا گیا ہے کہ ” میں لیاقت علی چٹھہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن اپنے عہدے اور سروس سے استعفیٰ دیتا ہوں کیونکہ میں حالیہ عام انتخابات میں ہونے والی ھاندلی کے سنگین جرم میں پوری طرح ملوث رہا ہوں“ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مستعفی ہونے والے کمشنر لیاقت چٹھہ13مارچ کو اپنی سروس سے ریٹائر ہو رہے ہیں دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کمشنر راولپنڈی کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے وزیر اعلیٰ نے الزامات کی انکوائری کے لئے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے اور اور واضح کیا ہے کہ الزامات کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے گی اورکمشنر راولپنڈی کے الزامات کے حوالے سے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔
Comments are closed.