الیکشن کالعدم کیس:بریگیڈئر (ر)محمد علی کو پیش ہونے کا حکم

اسلام آباد ( آن لائن) 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کے کیس میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو درخواست گزار بریگیڈئر ریٹائرڈ محمد علی کو پیش کرنے کا حکم د ے دیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار علی خان کو وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے خود کو فوج کا سابق بریگیڈیئر ظاہر کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت میں حکمنامہ لکھوا دیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ دوبارہ رابطہ کرنے پر درخواست گزار کا رابطہ نمبر بند ملا، کیا صرف تشہیر کیلئے درخواست دائر کی گئی؟ ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، سپریم کورٹ کا غلط استعمال کرنے نہیں دیں گے۔عدالت نے کہا کہ بتائے گئے پتے اور رابطہ نمبر پر درخواست گزار کو نوٹس کی تعمیل نہیں ہو سکی

، انتخابات سے متعلق درخواست 12 فروری کو براہ راست سپریم کورٹ میں دائر ہوئی، درخواست دائر ہونے سے پہلے ہی میڈیا پر نشر ہوگئی، انتخابات سے متعلق دائر درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی، درخواست گزار نے درخواست کی بھرپور تشہیر ہونے کے بعد واپسی کی استدعا کر دی۔واضح رہے کہ بریگیڈیئر (ر) علی خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔دائر درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ پری پول دھاندلی، نتائج میں تاخیر کے بعد جمہوری اصولوں کو خطرہ لاحق ہے، سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں 30 دن کے اندر نئے انتخابات کا حکم دے۔ پیرکوتین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسے سپریم کورٹ کے ساتھ مذاق نہیں ہو سکتا کہ پہلے درخواست دائر کرتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں، یہ کیس ہم سنیں گے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی سے متعلق دریافت کیا تو جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار نے 13 فروری کوپٹیشن واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پہلے درخواست دائر کرتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں، کیایہ مذاق چل رہا ہے؟عدالتی عملے نے بتایا کہ درخواست گزار سے بذریعہ فون اور ایڈریس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ممکن نہ ہوسکا۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیے یہ کیا محض تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟

درخواست گزار نے درخواست دائرکرتے ہی خود میڈیا پر جاری کر دی، کیا پتا درخواست گزار نے خود درخواست فائل کی بھی یا نہیں، کیا پتا بعد میں آکر درخواست گزار کہہ دے کہ میں نے واپس نہیں لی، اس طرح سے سپریم کورٹ کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کو کسی بھی طرح پیش کریں، یہ کیس چلائیں گے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے درخواست ٹیلی ویژن کے لیے دائرہوئی تھی۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ایسے نہیں چلے گا، عام طورپردرخواست دائرہوتے ہی میڈیا پرجاری نہیں ہوجاتی، کیس کی سماعت آج ہی درخواست گزار کے آنے پر ہو گی۔تاہم درخواست گزار کی عدم حاضری پرسپریم کورٹ نے انتخابات کالعدم قراردینے کی درخواست پر سماعت 21 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ علی خان کو وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے خود کو فوج کا سابق بریگیڈئر بتایا ہے۔اس میں استدعا کی گئی کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیے جائیں اور اس انتخابات کے نتیجے میں حکومت سازی کے عمل کو روکا جائے۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے اور دھاندلی، الیکشن فراڈ کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے جائیں۔

Comments are closed.