مبارک ثانی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، سینیٹر مشتاق احمد

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے نے کہاکہ مبارک ثانی سیمتعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں

، عدالت نے کہا ہے کہ اس فرد نے کوئی جرم نہیں کیا ہے یہ غلط ہے یہ شحص تبلیغ کر رہا تھا اور قادیانیت کی تبلیغ کرنا جرم ہے،اس فیصلے میں قرآنی آیت دی گئی ہے جس کا موقع محل ٹھیک نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ سورة البقرہ کی آیت دی گئی جس سے ظاہر کیا گیا ہے کہ قادیانیوں پر کوئی ظلم ہو رہا ہے حالانکہ یہ ظلم مسلمانوں پر ہورہا ہے، اس فیصلے میں آرٹیکل 20 اور 22 کی بات کی گئی جس میں کہا گیا کہ قادیانی اپنے عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے اور تبلیغ نہیں کر سکتے یہ قانون ہے ،انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ امتناع قادیانیت قانون کے خلاف نہیں ہیں ،سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمیشہ کے لئے طے ہو چکاہے،اس میں کوئی شک وشبہات نہیں،یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے اس ایشو پر محیط ریہ اپنانا چاہیے، اس ایشو پر سپریم بار کورٹ اور عدالت کی طرف سے متعدد وضاحتیں آچکی ہیں ،سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ قرآن پاک اور ہستیوں کے لیے قوانین بنائے ہیں،

ملک کے ادارے کو کسی بھی طرح حقائق کے خلاف اس ڈگر پر نہ لیکر جائیں، انہوں نے کہاکہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ نے اپنا اپنا اعلامیہ جاری کیا ہے ایک مخصوص ایف آئی آر کے متعلق پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ،اس موقع پر انہوں نے ایف آئی آر کا پیراگراف ایوان میں پڑھ کر سنایا، انہوں نے کہاکہ پولیس نے اس مقدمے میں 295 سی مقدمے میں لگا دی ،اس کے مطابق قرآن پاک سے متعلق بات کی جائے گی تو یہ دفعہ لاگو ہو گا اور ایس پی سے کم افسر اسکی تحقیق بھی نہیں کر سکتا جب پولیس سے پوچھا گیا کہ اس ایف آئی ار نے 295کے تحت تفتیش کی گئی توپتہ چلا کہ اس کے مطابق تحقیق نہیں کی گئی ،انہوں نے کہاکہ سب کے جذبات کا احترام ہے لیکن چیف جسٹس نے قرآنی آیات کا تذکرہ کیا بہتر یہ ہے کہ مشتاق صاحب اپنے وکلا سے مشورہ کریں، سپریم کورٹ نے قانون کو نہیں چھیڑا اس مقدمے پر 295 سی نہیں لگتی اس لیے ملزم کو آزاد کیا گیا ،خدادارا اس ملک کے ادارے کو کام کرنے دیں۔

Comments are closed.