سیاست اور ماحولیاتی خدشات کے پیچیدہ دائروں سے گزر رہی ہے،مرتضیٰ سولنگی

اسلام آبا د(آن لائن)نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ قوم معیشت، سیاست اور ماحولیاتی خدشات کے پیچیدہ دائروں سے گزر رہی ہے قومی اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کے ساتھ ساتھ امن تنظیموں نے بھی انمول تحقیق کی ہے ان کی کوششیں پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے، تنازعات کی روک تھام اور حل کے بارے میں گہری تفہیم کو فروغ دینے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہیں۔نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پیس فلکس انٹرنیشنل کانفرنس اینڈ ایوارڈ تقریب کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری قوم معیشت، سیاست اور ماحولیاتی خدشات کے پیچیدہ دائروں سے گذر رہی ہے ،قومی اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس کے ساتھ ساتھ امن کی تنظیموں نے بھی انمول تحقیق کی ہے ان کی کوششیں پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے

، تنازعات کی روک تھام اور حل کے بارے میں گہری تفہیم کو فروغ دینے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہیں مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاوسز اور صحافی تبدیلی کے طاقتور ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں میڈیا ہاؤسز اور صحافی انتہا پسندانہ نظریات کو چیلنج کرتے ہیں اور شمولیت کو آگے بڑھاتے ہیں مختلف گروہوں کے درمیان روابط کو مستحکم بنانے میں اعتدال پسندی کی آواز کو بلند کرنے اور ثقافتی تقسیم کے پار مکالمے کی سہولت فراہم کرنے میں ان کا بنیادی کردار اہمیت کا حامل ہیامن کے قیام کی جدوجہد میں سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ مفاہمت اور باہمی احترام کے لئے سیاسی رہنماؤں کی حمایت امن کو فروغ دینے میں سیاست کے گہرے اثرات کو نمایاں کرتی ہینیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) ایک بنیادی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے جو ملک گیر انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مربوط کرتا ہیانتہا پسندی سے نمٹنے اور سلامتی کے تحفظ کے لئے اس کا عزم پاکستانی شہریوں کو عسکریت پسند گروپوں کے خطرات سے بچانے کے لئے ایک پختہ وابستگی کا مظہر ہے سابق وفاقی وزیر اور راہنماء مسلم لیگ نواز احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن بحال ہوگیا ملک میں امن کی بحالی میں عوام اور فورسز نے قربانیاں دیں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کے کچھ واقعات دوبارہ ہو رہے ہیں نئے خطرات اور چیلنجز سے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔

Comments are closed.