سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں ،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد(آن لائن) سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں ملیں گی یا نہیں ،الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا ،سنی اتحاد کونسل ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے ووکلا کے دلائل مکمل ہوگئے ،چیف الیکشن کمشنر نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بھجوایا جانے والے خط پیش کردیا ،اس خط کا مخصوص نشستوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے پی ٹی آئی وکیل کا جواب۔بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں5رکنی کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر اور گوہر علی خان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر فاروق ایچ نائیک مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم کمیشن کے سامنے پیش ہوئے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ جو اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں وہ درست نہیں ہے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں پارٹی کا حق ہے یہ کسی دوسری سیاسی جماعت کو نہیں دی جاسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ اصل چیز سیاسی جماعت ہوتی ہے اور جب اس میں آزاد امیدوار شامل ہوجائیں تو وہ پارلیمانی پارٹی بن جاتی ہے
انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق ہر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی بنیاد پر خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں آلاٹ کی جاتی ہیں جو سیاسی جماعتوں کو مل چکی ہیں صرف سنی اتحاد کو نشستیں نہیں ملی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت نے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اس وجہ سے لسٹ جمع نہیں کرائی ہے کہ ان کا کوئی بھی امیدوار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا ہے تو اس جماعت میں آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ااس کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملنی چاہیے اور یہ نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں کو نہیں دی جاسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر کسی بھی مرحلے پر آئین یا الیکشن ایکٹ میں کوئی وضاحت دستیاب نہ ہو تو اس حوالے سے کمیشن از خود فیصلہ کر سکتا ہے تاہم یہ فیصلہ آئین سے ماورا نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ ہمارے آزاد امیدواروں مقررہ مدت کے اندر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور کمیشن کی جانب سے اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی 26نشستوں پر کسی بھی ایسی سیاسی جماعت کو زیادہ نشستیں آلاٹ نہیں کی جاسکتی ہیں جن کے جیتنے والے امیدواروں کی تعداد کم ہوانہوں نے کہاکہ المیہ ہے کہ ملک سے جہموری روایات ختم ہوتی جارہی ہیں وہ سیاسی جماعتیں جو جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو کی باتیں کر تی ہیں وہ اب دیگر سیاسی جماعتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے الیکشن کمیشن پہنچ گئے ہیں
انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں میں لالچ کا عنصر غالب آگیا ہے جس پر ممبر سندھ نے کہاکہ آپ آئیڈیلزم کی باتیں کر رہے ہیں سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے کمیشن کو خط بھجوایا گیا ہے کہ ہمیں خواتین کی مخصوص نشستوں کی ضرورت نہیں ہے جس پر بیر سٹر علی ظفر نے کہاکہ اس خط کا خواتین کی مخصوص نشستوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے تو اس کو پارلیمانی پارتی تسلیم نہیں کیاجاسکتا ہے اور اس کو مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے شیڈول کے مطابق اگر لسٹ جمع نہیں کرائی ہو تو کوئی حق نہیں بنتا ہے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں صرف ان سیاسی جماعتوں کو مل سکتی ہیں جنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہو سینیٹر فروغ نسیم نے کہاکہ یہ مخصوص نشستیں اب ترجیحی فہرستوں کو سامنے رکھ کر تقسیم ہوں گی فروغ نسیم نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل کی لسٹ ہی نہیں ہے تو ان کو کس طرح مخصوص نشستیں دی جاسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر کمیشن کو دی جانے والے لسٹ میں نام کم پڑجائیں تو نئے ناموں کی سکروٹنی دوبارہ ہوگی اور اگر کوئی فوت ہوگیا تو بھی نئی تاریخ اور سکروٹنی ہوگی اس موقع پر کمیشن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
Comments are closed.