انتخابات 2024 ء کی شفافیت بارے بے بنیاد واویلا اور اصل حقائق

اسلام آباد ( آن لائن)جمہوریت کے تسلسل اور عوام کے حق رائے دہی کے استعمال کیلئے ملک بھر میں آٹھ فروری 2024ء کو عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔قومی و صوبائی اسمبلیوں سے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، تمام سیاسی جماعتوں کو اس ضمن میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی گئی اورسب نے آزادانہ طور پر سیاسی جلسے اور ریلیاں منعقد کیں۔

انتخابات کے نتائج آنے کے بعد حسب روایت جیتنے والے امیدواروں نے انتخابات کو صاف اور شفاف قرار دیا جبکہ ہارنے والوں نے اپنی ہار تسلیم کرنے کی بجائے انتخابات پر غیر ضروری تنقید شروع کردی.اس ضمن میں اگر نتائج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہے کہ انتخابات شفاف طور پر منعقد کئے گئے، اگر گیلپ سروے کی رپورٹ دیکھی جائے تودس جنوری 2024ء کو گیلپ کی شائع کردہ رپورٹ میں ملک کی تین بڑی جماعتوں کے حوالے سے انتخابات کے نتائج کی پیشنگوئی کی گئی تھی جس کے مطابق آزاد امیدوار پنجاب میں 34 فیصد، مسلم لیگ ن 32 فیصد اور پاکستان پیپلز پارٹی 6 فیصد نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گی، انتخابات کے بعد 12 فروری کو گیلپ کی جاری کردہ رپورٹ میں یہ اندازے درست ثابت ہوئے جو اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انتخابات شفاف ہیں اور ان کے حوالے سے کیا جانے والا واویلا بے بنیاد ہے۔

گیلپ سروے کے علاوہ آئی پی ایس او ایس(IPSOS)کی جانب سے عام انتخابات کی شفافیت کے حوالے انتخابات سے قبل پاکستان پلس سروے (Pakistan Pulse Survey)جاری کیا گیا جس کے مطابق 76 فیصد پاکستانی انتخابات 2024ء کے نتائج کو تسلیم کرتے نظر آتے ہیں جبکہ 17 فیصد کی جانب سے کسی طرح کی رائے کا اظہار نہیں کیا گیا، سروے کے نتائج اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ پاکستانی عوام انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے پرامید ہیں اور جمہوریت کے تسلسل کو ملکی ترقی کا راستہ سمجھتے ہیں،8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے مدعو کئے گئے غیر ملکی مبصرین جن میں دولت مشترکہ ممالک سمیت ملکی صحافیوں نے ووٹنگ کی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس سارے پولنگ کے عمل کو شفاف قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔

انتخابات کے حوالے سے چین کی حکومت کی ترجمان نے پاکستانی عوام کو مستحکم اور ہموار طریقے سے شفاف انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے بعد سیاسی یکجہتی اور سماجی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے مل کر کام کرینگی،ان حقائق کے پیش نظر اگر دیکھا جائے تو مختلف حلقوں بالخصوص وہ تمام سیاسی عناصر جن کو نتائج حسب توقع نہیں ملے کی جانب سے واویلا شروع کردیا گیا۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک جماعت ایک صوبے میں اکثریت حاصل کرکے ان انتخابات کو شفاف قرار دے رہی ہے مگر دوسرے صوبے میں شکست کو دھاندلی سے جوڑ رہی ہے حلانکہ جہاں وہ جیتے اور جہاں وہ ہارے دونوں جگہ پر انتخابات ایک ہی الیکشن کمیشن نے کروائے ہیں،پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی اور ان کی غیر شفافیت کے حوالے سے اس قسم کا واویلا کوئی نئی بات نہیں ہے، 1977ء سے لیکر 2024ء کے انتخابات ہارنے والی جماعتوں کیلئے ہمیشہ متنازعہ ہی رہے ہیں۔جو لوگ آج الیکشن کمیشن اور دیگر ریاستی اداروں پر انتخابات پر اثر انداز ہونے کا واویلا کر رہے ہیں وہ 2018 ء کو کامیابی کے بعد شفاف قرار دے رہے تھے

انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے تمام پروپیگنڈا فلاپ ہو چکا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حکومت سازی کا عمل جاری ہے، جن حلقوں کے حوالے سے نتائج کے بارے میں شکوک و شہبات پائے جاتے ہیں وہ الیکشن ٹریبونلز اور عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابات جن کے بارے میں غیر ملکی میڈیا، انتخابات کو قریب سے دیکھنے والے مبصرین شفاف اور پرامن قرار دے رہے ہیں تو اپنی ذاتی مفادات اور سیاست چمکانے کی خاطر انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینے والے کیا ملک کے خیرخواہ ہیں؟پاکستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہیں، جس طرح کے سکیورٹی حالات ملک کو درپیش ہیں، جس طرح کے معاشی مسائل کا ہمیں سامنا ہے کیا یہ سب کچھ اس بات تقاضا کرتے ہیں کہ ہم بڑھیں، حکومت سازی کے عمل کو مکمل ہونے دیں،عوام کے بنیادی مسائل، بے روزگاری اور بہتر مستقبل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ملکی استحکام کی خاطر اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل تیار کریں اور ملک کی بہتری کیلئے کئے جانے والے تمام اقدامات میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔

پاکستان کے عوام انتخابات سے قبل بھی ملک میں جمہوریت کے حوالے سے پرعزم تھے اور اب جبکہ حکومتی سازی کا عمل جاری ہے اب بھی ان کو توقع ہے کہ پرامن اور شفاف انتخابات کے نتیجے میں ایک ایسی حکومت تشکیل پائے گی جو ملک کو مسائل کے بھنور سے باہر نکالے گی۔

Comments are closed.