درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس :سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے ایف نائن پارک میں درختوں کی کٹائی پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سی ڈی اے کو شہتوت کے درخت کاٹنے کی اجازت دے دی اور ہدایت کی ہے کہ شہتوت کے درختوں کی کٹائی کے وقت سی ڈی اے کا عملہ موجودگی یقینی بنائے، یقینی بنایا جائے کہ شہتوت کے علاوہ کوئی اور درخت نہ کاٹا جائے،

عدالت نے فریقین سے بطور مبصر تعیناتی کیلئے ماہرین کے نام اور تجاویز تین دن میں مانگ لیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پیر کوکیس کی سماعت کی اس دوران سی ڈی اے حکام کی جانب سے بتایاگیاکہ ایف نائن پارک میں شہتوت کے درخت کاٹے گئے ہیں، پولن الرجی کے پھیلا? کی وجہ سے شہتوت کے درخت کاٹے جا رہے ہیں، چیف جسٹس نے پوچھاکہ کاٹے گئے درختوں کی لکڑی کہاں ہے؟ سی ڈی اے حکام نے بتایاکہ لکڑی ٹھیکیدار لے کر جاتا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے کے شعبہ ماحولیات میں کتنا عملہ ہے؟ ڈپٹی جنرل ماحولیات عرفان عظیم نے کہاکہ سی ڈی اے کے پاس 4500 مالی اور افسران ہیں، سی ڈی اے کی جانب سے بتایاگیاکہ اسلام آباد کے قیام کے وقت چائنہ سے شہتوت کا بیج لاکر جہاز سے شہر میں پھینکا گیا تھا،شہتوت کی جگہ ماحول دوست درخت لگائے جا رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ واک کرتے ہوئے کچھ سوکھے تنے اکھاڑ کر نیا درخت لگانا چاہتا تھا، مجھے بتایا گیا کہ یہ کام صرف سی ڈی اے کر سکتا ہے آپ نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ چائنہ نے ہمیں مضر صحت بیج دے دیا تو کیا وہاں الرجی نہیں ہوتی؟ ماہر ماحولیات اموررضابھٹی نے کہاکہ چائنہ میں شہتوت کنٹرولڈ ماحول میں لگایا گیا ہے عوامی مقامات پر نہیں، بعدازاں عدالت نے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

Comments are closed.