پی ٹی آئی کی عادت ہے کہ وہ چیزوں کو مانتے ہی نہیں، پہلے کہتے ہیں ہماری80 سیٹیں چھین لی گئیں انہیں بتائیں پنجاب اور سندھ سے کیا چھینا گیا ،محسن جمیل بیگ

اسلام آباد ( آن لائن )سینئر تجزیہ نگار و صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی عادت ہے کہ وہ چیزوں کو مانتے ہی نہیں، پہلے کہتے ہیں ہماری80 سیٹیں چھین لی گئیں انہیں بتائیں پنجاب اور سندھ سے کیا چھینا گیا آج جو قرارداد کے پی اسمبلی میں پیش کی گئی کہ نو مئی واقعات کے لوگوں کو رہا کردو کیا مذاق ہے کیا قانون کچھ نہیں ہے ۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر  صحافی محسن جمیل بیگ نے کہا کہ عمران خان نے میرے اوپر آٹھ کیس ڈال دیئے ان کا کیا ہوا نواز شریف شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ کیا ہوتا رہا کیا یہ سب مذاق ہے کیا آپ کے لئے قانون کچھ اور ہے آپ کہتے ہیں ہماری 80سیٹیں چھین لی گئی مگر آپ الیکشن کمیشن میں 22سیٹوں کا کلیم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی یہ عادت ہے کہ وہ چیزوں کو مانتے ہی نہیں ہیں وہ کہتے ہیں ہم جو کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے باقی سب غلط ہے نظام اس طرح نہیں چلتے ۔ان کا کہناتھاکہ کے پی کے وزیراعلٰی گنڈا پور اب ایک مین سٹریم کے لیڈر ان کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔وہ ایک صوبے سربراہ ہیں جہاں تک گورنر راج کی بات ہے تو وہ نہیں لگانا چاہئے ،سارے معاملات کو سیاسی طورپر ہینڈل کرنا چاہئے ۔سیاسی چیزیں صرف سیاسی طورپر حل ہو سکتی ہیں گورنر راج لگا دیں پکڑ لیں یہ نہیں ہونا چاہئے ۔

انہوں نے کہاکہ کسی پسند نہ کرنا یہ شخصیت پر منحصر ہوتاہے اور اس حوالے سے رائے بنائی جاتی ہے ایک بندہ اچھا ہی نہیں لگتا اس کے کئی بہانے بنا لیں ۔پی ٹی آئی والوں کو غداری والا یہ بندہ ٹھیک نہیں یہ سوچ بھی ان کو بدلنی پڑے گی ۔یہ ملک سب کا ہے خونخواستہ ایسا تو نہیں ہوتا کہ میں بچ جاؤں گا سارے مارے جائیں گے اس کو سوچ بھی ختم کرنا ہے اور اسے سیاسی طورپر حل کرنا ہے ۔یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے اس کو آپ سیاسی طریقے سے حل کریں وہ سیاسی دھارے میں آ جائیں گے ۔قومی اسمبلی میں ایک قرار داد جمع کرائی گئیں اس بشری بی بی کا نام ہی نہیں لیا گیا اصل میں ساری پلاننگ تو اسی کی تھی کہ گھڑی کیسے بیچنی ہے زیورات کیسے بیچنے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یقین کریں میں پچاس دفعہ یہ کہہ چکا ہے جن لوگوں نے غریب لوگوں کو اکسایا کہ فلاں جگہ حملہ کریں سب کے ساتھ برابر سلوک کریں یا تو ان نہیں چھوڑنا تھا ۔ان کیلئے جو آٹھ نو ماہ میں قید ہیں وہ بہت ہے ۔

ضمانت کسی بھی شخص کا بھی حق ہے اس کو کہیں سے تو شروع کرنا پڑے گا ۔سیاسی حکومت آ جائے وہ آکر اس معاملات کو حل کرے ۔ ریاست کے ادارے ، پی ٹی آئی عمران خان نو مئی سارے قیدی یہ سارے سیاسی حکومت طرف دینے چاہئیں اور ان کو سیاسی طورپر اس حل کرنا چاہئے ۔اس میں ریلیف بھی ہو ۔ اگر پی ٹی چڑھ کر یہ سمجھے کہ وہ ریاست کے نظام کو نہیں چلنے تو پھر یہ فطری عمل ہے کہ دوسری سائیڈ سے بھی جواب آئے گا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بندہ مصالحت یا ثالث بننے کیلئے تیار نہیں ہے جو ان بیٹھا کر ٹھنڈا کرے یہ ملک کیلئے ہو کسی ایک شخص کیلئے نہ ہو۔ باہر سے کسی کی ضرورت نہیں ہے اپنے ملک سے ایسی کریڈیبل کمیٹی یا لوگ ہوں جن کی دونوں طرف سے بات مانی جائے اور جو فیصلہ ہو تو پھر پر عملدرآمد کرا سکیں۔

Comments are closed.