سیاستدانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں،مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے،مولابخش چانڈیو
اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ سینیٹ کا جتنا بڑا نام ہے اتنا اختیار حاصل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ غلطیاں سیاستدانوں سے ہوتی ہیں اس ملک کا مستقبل جمہوریت ہے انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں تو انہیں بھی احترام ملے گا۔بدھ کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران اپنے الوداعی خطاب میں سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ جتنا نام سینیٹ کا بڑا ہے اتنا سینیٹ کو اختیارنہیں وٴ ہے مجھے بھی اپنے بل کیلئے دونوں ایوانوں میں بھاگنا پڑا انہوں نے کہاکہ صوبائی خود مختاری کی ترمیم کے خلاف جو سازشیں ہورہی ہیں ہم اس کو پسند نہیں کرتے ہیں یہ ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے انہوں نے کہاکہ ایوان میں ہر قسم کی باتیں ہوتی ہیں صرف تنقید نہ کریں اس ملک میں اعتماد کی کمی ہے اگر ایک دوسرے سے بات چیت نہ کریں تو کیسے مسائل حل ہونگے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا ہوگا اور غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ ملک کو فرشتوں نے نہیں چلایا بلکہ سیاستدان ہی چلاتے ہیں اور ان سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں ہمیں سب کا احترام کرنا چاہیے لیکن حساب کتاب بھی رکھنا پڑے گا
انہوں نے کہاکہ میں اس ایوان میں کہتا ہوں کہ 18ویں ترمیم کو کسی صورت نہ چھیڑیں انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں یہ درست طریقہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سے بھی غلطیاں ہونگی انہوں نے کہاکہ کوشش کریں کہ سیاستدان انتخابات کے زریعے گھر جائیں کوئی دوسرا طریقہ نہ ہوگھر جانے کا انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اگر آگے لیکر جانا ہے تو پھر تلخیوں کو ختم اور غلطیوں کا تسلیم کرنا ہوگا یہ زد چھوڑ دیں کہ آپ کے بغیر پاکستان نہیں چلے گا یہ درست نہیں ہے بہتری اسی میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے موقف کو سنیں اور جو قابل قبول ہو اس کو قبول کریں انہوں نے کہاکہ یہ زد اچھی نہیں ہے کہ میں بات نہیں کرونگا انہوں نے کہاکہ اگر ملک چلانا ہے تو سیاستدانوں کے بغیر کیسے چلاؤ گے کیا گندم کے بیوپاریوں سے بات کروگے انہوں نے کہاکہ آپ ملک کے لیڈر ہیں یہ کیا ہوا ہاتھ نہ ملانا تو بچے کرتے ہیں انہوں نے کہاک جن باتوں کی تلافی ہوسکتی ہے اس کو آگے نہ بڑھائیں انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے اداروں پر بھی اعتماد کرنا ہوگا لیکن اداروں کو بھی ایسا رویہ اپنانا ہوگا اگر عوام دشمنی کا رویہ اپنائیں گے تو عوام اعتماد نہیں کریں گے انہوں نے کہاکہ جمہوریت کو چلنے دیں اگر راستے میں روکیں گے تو اس کے نتائج خطرناک ہونگے انہوں نے کہاکہ عدلیہ کو کہتا ہوں کہ حاکمیت ہمیشہ آللہ پاک کی ہوگی جو تکبر کرتے تھے اس کی آج حالت دیکھیں کہ آج کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ملکی سالمیت کے اداروں کو کہتا ہوں کہ جمہوریت میں گھسنے کی کوشش نہ کریں اور جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش نہ کریں انہوں نے کہاکہ مجھے الوداع کہنے سے ڈر لگتا ہے اس لیئے الوداع نہیں کہتا ہوں ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے حکم پر دوبارہ آجاؤں انہوں نے کہاکہ اگر میں نے کسی کی بھی دل آزاری کی ہو تو اس پر معذرت خواہ ہوں۔۔۔
Comments are closed.