پی ٹی آئی نے مینڈیٹ چھینا اور ان کے ساتھ مل بیٹھنا قیامت کی نشانی ہوگی،فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد (آن لائن) پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے، 44 سال بعد پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف ملا ہے، الیکشن دھاندلی پر تمام جماعتوں کو تحفظات ہیں، احتجاج کے بجائے معاملے پر قانون سازی کی ضرورت ہے اپوزیشن بھی سا تھ دے ۔ مولانا کا مینڈیٹ پی ٹی آئی نے چھینا عمران اور مولانا کا مل بیٹھنا قیامت کی نشانی ہوگی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے یہاں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا بانی ذولفقار علی بھٹو کو انصاف کیلئے پیپلز پارٹی نے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے ۔ آصف علی زرداری جب صدر تھے تو صدارتی ریفرنس بھیجا تھا ۔ کئی سالوں بعد قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس کی سماعت کی۔ ذولفقار علی بھٹو کا ناحق عدالتی قتل ہوا ذولفقار علی بھٹو واپس نہیں آسکتے مگر تاریخ کی درستگی ہوئی۔ 4 اپریل کو ذولفقار علی بھٹو کی برسی پر جائیں گے تو ہم سرخرو ہوں گے۔ قدرت کا نظام ہے کہ آصف علی زرداری صدر تھے تو صدارتی ریفرنس بھیجا اب دوبارہ صدر ہوں گے اور سپریم کورٹ ریفرنس کا فیصلہ بھیجے گی۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری 9 اپریل کو دوسری بار صدر بننے جارہے ہیں۔ پی پی کے پاس صدر کے انتخابات کے لیے نمبر گیم پوری ہے۔ پی پی کے پاس اعزاز ہوگا کہ دوسری بار آصف علی زرداری بننے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کے پی اور پنجاب کے گورنر پیپلز پارٹی اور سندھ اور بلوچستان کے گورنرز ن لیگ کے ہوں گے۔ زرداری کے صدر بننے کے بعد گورنروں کا انتخاب کیا جائیگا ۔

انتخابی دھاند لی پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ انتخابات سے متعلق تحفظات پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں گے۔ انتخابات کے حولے سے کچھ سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آنا چاہتی ہیں لیکن تمام جماعتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صرف احتجاج کے بجائے مل بیٹھ کر اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے ۔ یہی اس مسلے کا واحد حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا مینڈیٹ کے پی کے میں چوری ہوا ۔ انکا مینڈیٹ پی ٹی آئی نے چوری کیا جبکہ ان کی چیخیں سندھ میں نکل رہی ہیں۔ اور وہ کے پی کی بجائے سندھ میں احتجاج کررہے ہیں،احتجاج جمہوری حق ہے پارلیمنٹ میں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اور عمران خان کا مل بیٹھنا قیامت کی نشانی ہے ۔ انہوں نے انتخابات سے متعلق اپوزیشن کو بھی قانون سازی میں ساتھ دینے کی دعوت دی ۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم کے دورہ کے پی کے کے دوران وزیر اعلیٰ کا رویہ وہی پرانا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیرا علی کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کے پی میں دہشتگردی ہے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں۔ وفاق کے بغیر کے پی اکیلے نہیں چل سکتا ۔ کے پی کے وزیر اعلیٰ کو ٹائیگر فورس کو چھوڑ کر مرکز کے ساتھ تعلقات اچھے بنائیں ۔

فاٹا کے لوگوں سے کیے گئے وعدے وفاق کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کاندانی سیاست کے خاتمے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ کے پی کابینہ میں موروثی سیاست جاری ہے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما ندیم افضل چن نے کہا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ شاید ہی دنیا میں کہیں ہوا ہو۔ پی پی نے ہمیشہ ذولفقار علی بھٹو کو شہید کہا۔ ضیاء مائنڈ سیٹ کے لوگ بغض بھٹو میں مبتلا تھے۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے عدالتی داغ دھویا ہے۔ اب بغض بھٹو رکھنے والوں کو بھی معافی مانگنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ٓ آگے بڑھنے کے لئے ہمیں سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کا وزیر اعلی وزیر اعظم کیخلاف بول رہا ہے۔ جبکہ ابھی وقت ہے کہ عوام کو ریلیف دیں۔ پاکستان اس وقت آئی سی یو میں پڑا ہے ۔ ایسے میں پارلیمان کو اور جمہور کی رائے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے

Comments are closed.