تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عارف علوی کل اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائینگے

اسلام آباد( آن لائن )تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صدر عارف علوی (جمعہ کو )اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائینگے ، انہیں الوداعی گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا جبکہ 9مارچ کو نئے صدر کا انتخاب ہوا جو کہ دس مارچ کوباضابطہ حلف برداری کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گئے ۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری صدر کے عہدے پردوبارہ منتخب ہونے کے لئے مضبوط امیدوارہیں ۔صدر عارف علوی کے عہدے کی آئینی مدت آٹھ ستمبر 2023ء کوختم ہوگئی تھی لیکن نئے صدر کا انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے آئین کے مطابق انہوں نے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں اب چونکہ الیکٹرول کالج مکمل ہوچکا ہے اس لئے کل بروز ہفتہ صدارتی انتخاب چاروں صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا جس میں پیپلزپارٹی کے آصف زرداری حکمران اتحادکے امیدوار اورمحمودخان اچکزئی سنی اتحاد کونسل کے امیدوار ہیں ۔

عارف علوی کا دور صدارت تنازعات سے بھرپور رہااور انہوں نے پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران کی گئی قانون سازی میں بھی رکاوٹیں ڈالیں اوربہت سے بلز منظور نہیں کئے انہیں پارلیمنٹ کو واپس بھجوایا جبکہ مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی عارف علوی کے تعلقات عمران خان حکومت ختم ہونے کے بعد کشیدہ رہے ۔ ان کی طرف سے عام انتخابات کے حوالے سے متعدد بیانات اور پھر الیکشن کمیشن کے ساتھ بھی آئینی وقانونی جنگ جاری رہی ۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لئے گیارہ فروری کی تاریخ تجویز کی تھی مگر صدر نے اسے آٹھ فروری کردیاتھا انتخابات کے بعدبھی صدر کی طرف سے متعدد بیانات اور ٹویٹس کئے گئے جس میں ان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے تحفظات کا اظہارکیا گیا تھا وہ نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف سے حلف بھی نہیں لینا چاہتے تھے جبکہ انہوں نے اپنے دورہ صدارت کے دوران متعدد بارعمران خان سے جیل میں ملنے کی بھی کوششیں کی تھیں جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔

Comments are closed.