چوہدری عدنان قتل کیس ، اصل مجرموں کیخلاف کارروائی کی بجائے سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی ن لیگ کے سینئر رہنماء چوہدری تنویر کو ذاتی رنجش پر نامزد کردیا،بغیرتحقیقات ایف آئی آر بھی کاٹ دی
راولپنڈی( آن لائن )چوہدری عدنان قتل کیس کے اصل حقائق سامنے آگئے ،اصل مجرموں کیخلاف کارروائی کی بجائے سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے مشہور سیاسی خاندان اورمسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنماچوہدری تنویر کو ذاتی رنجش کی بناء پرکیس میں نامزد کردیا اوربغیرتحقیقات ایف آئی آر بھی کاٹ دی جبکہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کے باوجوداس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے ذاتی انتقام کی خاطر سینیٹرچوہدری تنویر ، نو منتخب ایم این اے چوہدری دانیال اورپورے خاندان کو چوہدری عدنان قتل کیس میں ملوث کردیا اور اصل حقائق کو مسلسل چھپایا جارہا ہے جس مرکزی ملزم انجم نامی شخص کوگرفتارکیا گیا اس سے بیان دلوایا گیا کہ اسے چوہدری تنویر نے قتل کرنے کا کہا ہے جبکہ دوسری طرف اس شخص انجم کی مجرمانہ ہسٹری ہے اور اس کے خلاف بیس سے زیادہ ایف آئی آرز درج ہیں۔ چوہدری عدنان اورانجم نامی شخص کی ذاتی رنجش تھی ایک دوسرے کیخلاف پرچے تھے جس کی وجہ سے اس نے چوہدری عدنان کوقتل کردیا لیکن سی پی او نے صرف انتقام کی خاطر اس کیس میں چوہدری تنویر اوران کی فیملی کو ملوث کردیا اور ایس ایچ او تھانہ سول لائن اعزاز راجہ پر دباؤڈال کر ایف آئی آر بھی کٹوا دی ۔
دوسری طرف اس انجم نامی شخص کی گرفتاری ظاہرنہیں کی گئی جس پر اس کے ایک قریبی عزیز نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پٹیشن دائر کی کہ انجم کوتین ہفتوں سے تھانے میں بند کرکے رکھا گیاہے اورخدشہ ہے کہ اسے پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا اس پرتشددکرکے زبردستی بیانات بھی دیئے جارہے ہیں لہذا انجم کی بازیابی یقینی بنائی جائے جس پرعدالت نے آج جمعہ صبح تک پولیس کو انجم کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے دوسری طرف پولیس اورتحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری عدنان کو قتل کرنے والے دو شوٹر کراچی سے پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے چوہدری تنویر یا ان کی فیملی کا نام نہیں لیا تھا کیونکہ اس بارے کچھ معلوم نہیں تھا جبکہ انجم نے بھی صرف چوہدری تنویر کا نام لیا تھا پوری فیملی کا نہیں لیکن سی پی او خالد ہمدانی ذاتی رنجش کی بناء پر چوہدری تنویر کے پورے خاندان کو اس میں ملوث کرنا چاہتا ہے اور جب تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او اعزاز راجہ نے اس کی مرضی کی تحقیقات اور رپورٹ نہیں بنائی تو اسے معطل کرکے شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا اور اپنے ذاتی پی ایس سکندر کوایس ایچ او لگادیا ۔
ذرائع کے مطابق چوہدری تنویر اور اس کی فیملی کے افراد کو گرفتار کرنے کیلئے غیر قانونی طور پرراولپنڈی اسلام آباد میں بغیر اجازت اور وارنٹ چھاپے مارے گئے اسلام آباد میں ایک گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا تھوڑ پھوڑ کی گئی حالانکہ راولپنڈی کی پولیس اسلام آباد کی پولیس کے بغیر کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتی اسی طرح پنڈی میں بھی مختلف مقامات پر سی پی اونے غصے میں آکر چھاپے مارے اور اصل حقائق کو مسلسل چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکومت پنجاب اور راولپنڈی انتظامیہ سے سارے معاملے کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے اور اس سارے کیس میں سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی غیر معمولی دلچسپی اور چوہدری تنویر کے خاندان کو خاص طور پرنشانہ بنانا بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔
Comments are closed.