سیاسی قوتوں کو عدلیہ سمیت اسٹیبلشمنٹ اور دیگر مقتدر حلقوں سے درست تعلقات رکھنے چاہیے ،مشاہد حسین سید

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ سیاسی قوتوں کو عدلیہ سمیت اسٹیبلشمنٹ اور دیگر مقتدر حلقوں سے درست تعلقات رکھنے چاہیے انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔جمعہ کے روز ایوان بال میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے ڈپٹی چیرمین کو مباک باد دیتے ہوئے کہاکہ اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے سے سینیٹ کا وقار بلند ہوا ہے

انہوں نے کہاکہ میں نے ہمیشہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کی تھی اور اب بھی یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ عمران خان کو رہا کرکے تما سیاسی قیدیوں کو عام معافی دیں انہوں نے کہاکہ اگر ٹی ٹی پی سے بات ہوسکتی ہے اور بلوچستان کے ناراض بلوچوں سے بات ہوسکتی ہے تو سیاسی جماعتوں کے ساتھ کیونکر نہیں ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ بنائی تھی جو بھی لاپتہ افراد ہیں ان کو بازیاب کیا جائے انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہوئی کہ ایم کیو ایم کے لاپتہ افراد رہا ہوچکے ہیں انہوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان کا مستقبل ہے اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ خاکی اور مفتی کے تعلقات کا ہے

انہوں نے کہاکہ سابق جنرل باجوہ نے ہماری کمیٹی کو بلایا تھا اور ہم جی ایچ کیو گئے تھے اور ہم نے بھی انہیں بلایا تھا اس ایوان میں فوجی سربراہوں کو بلایا گیا تھا انہوں نے کہاکہ سیاسی قوتوں کے تعلقات عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ درست ہونے چاہیے اور ملک میں جمہوریت ووٹ کے زریعے آنی چاہیے یہی قائد اعظم کا ویژن تھا وہ جنرل یا جج نہیں تھا بلکہ ایک سیاستدان تھا انہوں نے کہاکہ سچی جموریت ہی ملک کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے۔۔۔

Comments are closed.