تحریک انصاف اورسنی اتحاد کونسل کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے
اسلام آباد(آن لائن)تحریک انصاف اورسنی اتحاد کونسل کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،کور کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے گلے شکوؤں کی لمبی فہرست کمیٹی کے سامنے رکھ دی جبکہ اجلاس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز ،سینیٹ الیکشن،مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ اور پنجاب میں ری کاؤنٹنگ کا معاملہ زیر غور آیا ،کئی کور کمیٹی ارکان اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصا ف اور سنی اتحاد کونسل کی کور کمیٹی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،اجلاس کے ابتداء میں بانی تحریک انصاف کے کیسوں پر گفتگو کی گئی ،کور کمیٹی کے اجلاس میں تین اہم نکات پر بات ہوئی ہے، عمران خان کی لیگل ٹیم نے کیسز کے حوالے سے بریفنگ دی ، کور کمیٹی نے قانونی کوعمران خان کے کیسز فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کیا ،اجلاس میں بشری بی بی کی سیکورٹی کے حوالے سے خدشات ظاہر کئے گئے جس کی بھر پور الفاظ میں مذمت کی گئی ،کور کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب کے مختلف حلقوں میں ری کاؤنٹنگ کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہماری جیتی ہوئی سیٹیں ہمیں ہروائی جا رہی ہیں،کور کمیٹی نے متعلقہ عہدیداران سے اس حوالے سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے،اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا خان نے گلے شکوؤں کی لمبی فہرست پیش کردی اور دھمکی دی کہ ہمارے خدشات کو دور نہ کیا گیا تو یہ فہرست بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے سامنے لے جاؤں گا ،اجلاس میں مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی مشاورت کی گئی
،کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بارے تفصیلی آگاہ کیا ،علی امین گنڈاپور نے دیگر اہم دو شخصیات سے ملاقات بارے بھی تفصیلی گفتگو کی ،اجلاس میں سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مختلف ناموں پر غور بھی کیا گیا۔بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کور کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق بانی چئیرمین عمران خان کے مقدمات کے حوالے سے قانونی ٹیم کی کور کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اورعمران خان کو جعلی مقدمات میں بغیر کسی قانونی و آئینی جواز کے پابند سلاسل رکھنے کی شدید مذمت کی گئی ،اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ توشہ خانہ اور سائفر جیسے جھوٹے مقدمات کے غیر منصفانہ بدترین ٹرائل کے بعد عجلت میں سنائی جانے والی سزاوٴں سے عمران خان کو نشانہ انتقام بنانے کے ریاستی عزائم پوری طرح آشکار ہو چکے ہیں،سابق وزیر اعظم عمران خان کو غیرآئینی سزائیں سنانے کے سیاہ عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی کارروائی کو بلاجواز تاخیری حربوں کی نذر کیا جا رہا ہے،عمران خان کے خلاف تمام مقدمات کی کارروائی کو آئینی و قانونی تقاضوں کے تحت آگے بڑھاتے ہوئے ان جھوٹے اور لغو کیسز کا خاتمہ کر کے بانی چئیرمین کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں، کور کمیٹی کی سابقہ خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کی صحت اور زندگی کو لاحق خطرات اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہارکیا گیا،اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ بانی چئیرمین کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی کو ان کی مرضی کے خلاف بنی گالہ سب جیل میں قید رکھنے اور ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی اور ان کی صحت اور زندگی کو لاحق خطرات کے فوری ازالہ کا مطالبہ کرتے ہیں،کور کمیٹی کی جانب سے پنجاب کے مختلف حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل غیر آئینی قراردیا،اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ 8 فروری کے بعد نئے سرے سے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر تحریک انصاف کی آئینی نشستیں چھین کر غیر قانونی طور پر ن لیگ کو دی جا رہی ہیں، امیداروں کے پاس موجود حقیقی فارم 45 کی روشنی میں ان تمام حلقوں کا بھی آڈٹ کیا جائے اور تحریک انصاف کی چوری شدہ تمام نشستیں آئین و قانون کے مطابق واپس کی جائیں
Comments are closed.