یہ حقیقت ہے دہشت گردوں اور ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں،ترجمان دفترخارجہ

اسلام آباد(آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ٹارگٹڈ آپریشن دہشت گردوں کے خلاف تھا یہ آپریشن افغان عوام اور ان کے اداروں کے خلاف نہیں تھا، پاکستان نے کئی مرتبہ افغانستان کے ساتھ دہشت گردوں کی تفصیلات کا تبادلہ کیا ہے ،دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا بھی افغانستان کو متعدد بار کہا گیا؟یہ ایک حقیت ہے کہ دہشت گردوں اور خاص طور پر ٹی ٹی پی کے ٹھکانے افغانستان کے اندر ہیں، ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے متعلق صرف پاکستان نہیں بلکہ عالمی مبصرین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے،ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ گذشتہ روز گوادر میں دہشت گرد حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنایا ،پاکستان یقین رکھتا ہے کہ بی ایل اے اور ایسے دیگر گروہ خطے کے لیے ایک خطرہ ہیں،بھارتی وزیر داخلہ کے ریمارکس غیر ضروری اور حقائق کے منافی ہیں،جموں و کشمیر ایک عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے،آزاد جموں و کشمیر بھارتی وزیر کے کنٹرول میں نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ سائفر معاملے پر دفتر خارجہ پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کرچکا ہے،سیاسی موقف کے لئے وزیر اطلاعات سے رابطہ کیا جاسکتا ہے،ہم نے کل ہونے والے امریکی کانگرس میں سماعت کا جائزہ لیا ہے،ہم امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں

،قانون ساز اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کا تعلق بنانے کی ضرورت ہے،انہیں ہمارے الیکشن قوانین کا احترام کرنا چاہے،امید ہے امریکی کانگرس پاک امریکا تعلقات اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی،ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ اپنے پہلے دورے پر برسلز میں موجود ہے،انرجی سمٹ میں وزیر خارجہ نیوکلئیر پاور پلانٹس اور اس کے سیکورٹی کے متعلق آگاہ کرے گا،وزیر خارجہ برسلز میں دیگر ممالک کے حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقات کرے گا،انہوں نے کہا کہ اٹھارہ مارچ کو پاکستان کے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آپریشن کیا، آپریشن کا ہدف گل بہار گروپ کے دہشت گرودوں کا ٹارگٹ کرنا تھا ،جموں کشمیر میں کاونٹر ٹیررازم لاء کے تحت چودہ پارٹیوں پر پابندی لگائی گئی ہے،بھارت کے ان اقدامات سے جمہوری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان پارٹیوں سے پابندیاں اٹھائے ،انہوں نے کہا کہ سولہ مارچ کے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی درمیان رابطہ ہوا تھا،ایک ڈیمارش جاری کیا گیا تھا جس میں اپنے خدشات کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا ،وزیر خارجہ کی جانب سے افغان وزیر خارجہ کو ٹیلیفون پر بھی ان خدشات کا اظہار کیا گیا،افغانستان میں آپریشن کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطہ ہے،گزشتہ روز کی سماعت میں کچھ بیانات دیئے گئے جو مس انڈر اسٹینڈنگ پر مبنی تھے،دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے گزشتہ روز امریکی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی انتخابی قوانین کے حوالے سے متعدد غلط فہمیاں دکھائی دیں،پاکستان نے بارہا پاک ایران گیس پائپ لائن اور باہمی سمجھ پر اپنے عزم کی تجدید کی ہے،پاک ایران گیس پائپ لائن فیصلہ حکومت پاکستان کا اپنا فیصلہ ہو گا ،یہ پائپ لائن پاکستان اپنے علاقے میں تعمیر کر رہا ہے،اس وقت پہلا نکتہ گیس پائپ لائن کہ تعمیر ہے ،ہم اس تعمیر کے لیے پر عزم ہیں۔

Comments are closed.