ایچی سن کالج کے پرنسپل کے استعفیٰ معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے:عطاتارڑ
وفاقی وزیر احد چیمہ کے دو بچوں کی فیس معافی کے معاملے کو بے جا تنقید اور تنازع کا شکار کیا جارہا ہے حالانکہ جو کچھ بھی ہوا وہ قاعدے قانون اور بورڈ آف گورنرز کے فیصلے کے تحت ہوا اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے اس معاملے پر درست موقف اختیار کیا لیکن بعض عناصر اور خاص کر تحریک انصاف…
— Mohsin Baig (@MohsinBaigMedia) March 25, 2024
اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑکا کہنا ہے کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیکل تھامسن کے استعفیٰ کے معاملے کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے، احد چیمہ کے بچے 3 سال سے وہاں زیرتعلیم نہیں تھے، انہوں نے جائز طریقے سے درخواست لکھی، اس لئے ان کی فیس معاف کی گئی،اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ احد چیمہ کے بچے جب ایچی سن کالج میں نہیں پڑھ رہے تھے تو ان کی اہلیہ نے رولز کے مطابق فیس معافی کی درخواست دی جسے گورنر پنجاب نے قانون کے مطابق منظورکیا۔احد چیمہ کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں کہا میرے بچے وہاں نہیں پڑھے رہے، جب بچے پڑھ نہیں رہے تو فیس کس بات کی ادا کی جائے،انہوں نے کہا کہ جب آپ کے بچے نہیں پڑھ رہے تو نہ پڑھنے کی فیس نہیں دی جاسکتی،رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیں توپتاچلے گاکہ معاملے کو غلط رنگ دیا جارہاہے،احد چیمہ کے بچے اسلام آباد کے اسکول میں پڑھ رہے تھے، ان کامزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں تو کبھی یورپی یونین سے الیکشن کی تحقیقات کا کہہ رہے ہیں، اگر آپ کو شکایت ہے تو الیکشن کمیشن یا الیکشن ٹربیونلز میں جائیں، تحریک انصاف بیرون ملک لابنگ کرنے کے بجائے قومی دھارے میں آ کر سیاست کرے اور میثاق معیشت کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
Comments are closed.