چھ ججز کا خط اور ریاست کا عزم

اسلام آباد(آن لائن)اسلام اباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے جو سپریم جوڈیشل کو خط لکھا اس کے بعد مختلف تجزیہ نگار اور چند جرنلسٹ یہ بات چیت کر رہے ہیں کہ اس خط لکھنے کے بعد شاید ایسا لگ رہا ہے کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں اور اگے بھی ماضی کی طرح سیاسی عدم استحکام جاری رہے گا – ججز کے ان الزامات لگانے کو یہ تجزیہ نگار یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید ان الزامات لگانے کے بعد کوئی ایسی ریڈ لائن کراس ہو گئی ہے جو کہ مینج کرنا بہت مشکل ہوگا – یا شاید اس خط لکھنے کے بعد ملک میں دوبارہ سیاسی عدم استحکام کا کوئی نیا دور شروع ہو جائے گا

ایسے تجزیہ نگاروں کے لیے عرض ہے کہ اب حکومت بنانے کا سارا عمل مکمل ہو چکا ہے وفاقی حکومت پوری طرح اپنے پاؤں جما چکی ہے جبکہ صوبائی حکومتوں نے بھی اپنی اپنی جگہ پر کام شروع کر دیا ہے – اگر ماضی کی حکومتوں سے اس حکومت کا تاقابلی جائزہ تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ یہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی جگہ پر بہت مضبوط ہیں اور تقریبا دو تہائی اکثریت سے قائم ہو چکی ہیں

ایسے عناصر جو ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنے باقی سارے ہر بے ناکام ہو جانے کے بعد اب حت الامکان کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جائے اور ملک کو ڈی سٹیبلائز کیا جائے ایسے تمام تجزیہ نگاروں اور عناصر کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ اس طرح کی حرکات و سکنات سے وہ صرف اپنا نقصان کر سکتے ہیں اور اس سے ملک کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا کیونکہ اس خط کی نہ کوئی ائینی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی قانونی کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ججز سے ریلیٹڈ معاملات کو دیکھنا ہے نہ کہ ججز کی لکھی ہوئی دوسرے اداروں کے بارے میں بے بنیاد شکایات کو حل کرنا ہے

الیکشنز کے بعد سے حکومت کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں پہلے بھی یہ دیکھا گیا کہ الیکشنز کے فوری بعد مخصوص سیاسی جماعت نے فوری دھاندھلی کا راگ ا لاپنا شروع کر دیا لیکن وہ ابھی تک کوئی بھی ثبوت نہ الیکشن ٹریولنس کو پیش کر سکے ہیں اور نہ ہی عوام کے سامنے لا سکے ہیں تو دھاندلی کا بیانیہ فیل ہو جانے کے بعد انہوں نے ایک نئی چال چلی جو کہ یقینا ناکام ہوگی

ان ساری چالوں کا جو واضح مقصد نظر ارہا ہے وہ ایک تو یہ ہے کہ اس حکومت کو ا ڈی سٹیبلائز کیا جائے اور اس کو کام کرنے نہ دیا جائے جبکہ اس کا جو دوسرا مقصد ہے وہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا اور جھوٹ بول کر عوام کو افواج پاکستان سے بدزن کیا جائے – ایسے تمام عناصر کو اس بات کا پتہ ہونا چاہیے کہ عوام پاکستان اس طرح کا سارا پروپگنڈا اور جھوٹ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور انشاءاللہ پچھلے ہونے والی ساری مضموم کوششوں کی طرح یہ والا پروپگینڈا بھی ناکام ہوگا اور اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا…..

Comments are closed.